حالاتِ حاضرہ جہاں امید کی کرنیں روشن کر رہے ہیں وہیں بہت کچھ سوچنے پر مجبور بھی کر رہے ہیں ۔قومیں کردار بناتی ہیں ،جیسے جییسے آگے بڑھتی ہیں اُن کے جوان نئی دنیا میں قدم رکھتے ہیں ،اپنے بزرگوں کی تربیت حاصل کر کے اپنے پچھلے ماحول سے سیکھتے ہوئے ۔ لیکن ہم ایسی بد قسمت قوم ہیں جو اچھائی سیکھنے کے لئے بھی مغرب کو دیکھتی ہے اور برائی تو ہے ہی کھلے عام ۔ لیکن اپنا بیش بہا علم ،وہ علم جو سارے جہان کی جہالت کو دور کرنے کے لئے اللہ نے اپنے پیغمبروں سے بھیجا اور اختتام کر دیا اُس پیاری ذات رحمت اللعالمین پر جس نے دنیا کے اندھیرے مٹادئے اللہ کے حکم سے اُس علم کے ساتھ ۔ لیکن حیف صد حیف کہ ہم نے تو اُس پر اُس طرح عمل نہ کیا جس طرح عمل کرنے کا حکم تھا لیکن ہم سے سیکھ لیا اور گرہ باندھ لیا اُن سب نے جنہیں ہم ترقی یافتہ کہتے ہیں ۔ ہم صرف اپنے نام پر ہی خوش ہیں کہ مسلمان ہیں ۔؟؟؟؟
ایک رقم ملک میں واپس آرہی ہے ، جس پر کچھ شادیانے ہیں کچھ نوحے ،شادیانے اس لئے کہ مال ہمارا ہی تھا ۔نوحے اس لئے کہ باہر گیا کیسے اور کیوں گیا ؟ لیکن کچھ تاویلیں دیننے والے یہ بھی کہتے ہیں کہ یہ شخص تو ملک کے غریبوں کا مسیحا ہے اس نے تو گھر دے دئے، سڑکیں بنا دیں۔ ملک کا نقشہ پلٹ دیا پہیے لگائے تو کیا ۔یہاں ہم سَر شرم سے جھکا لیتے ہیں۔ کیونکہ ہمیں ملک صاحب سے کوئی پر خاش نہیں ۔اُن کے کام سے ہے اُن کے عمل سے ہے ،
اللہ نے انہیں اتنی عقل اور فراست دی تھی کہ جدہر ہاتھ لگاتے سونا ہوجاتا تو کم کماتے کم لوگوں کی داد رسی کرتے لیکن اپنی نئی نسل کے لئے محنت ہمت اور ایمانداری کا ایک طریقہ چھوڑ دیتے، کہ ایمانداری سے بھی کمایا جاتا ہے ۔یہاں کیا ہوا کہ اس قدر کمایا مسجدیں بنائیں گھر بنائے لیکن غریبوں کی زمینوں پر قبضہ کر کے ،ان کی قیمت کم دے کر ملک کی قیمتی زمینیں پہئے لگا کر ۔ہر بڑے کے لئے محل بنا کر جنہیں گھر کی ضرورت بھی نہیں تھی جو ویسے ہی لوٹ رہے تھے اور جائیدادیں بنا رہے تھے سارا میڈیا خرید کر ، یقین جانیں ہمیں ان تمام باتوں کی خبر میڈیا سے ملی ۔ ہم نے خود بھی وہ پروگرام دیکھے ۔
لیکن جب ہم نے خود جاکر بحریہ ٹائون دیکھا تو ہم بھی دنگ رہ گئے تھے لیکن ہمارے ایک بزرگ نے ہماری آنکھیں کھولیں انہوں نے کہا ان گھروں اور فلیٹوں میں کتنے غریبوں کی زمینیں اور نقصان ہے وہ سوچ لو تو تم شاید شرمندہ ہوجائو کہ ہم نے کس طرح برائیوں کو پھیلایا بھی ہے اور ان کی تعریفوں میں آسمان زمین کے قلابے بھی ملائے ہیں،ہمیں لگا واقعئی اگر ہم برائی کی ستائش اور بروں کی تعریفدیں بلا سوچے سمجھے نہ کرتے تو ملک کے اخلاق تباہ ہوتے نہ ہم ان ازیتوں سے گزرتےجن سے روز گزرتے ہیں ۔کبھی جائیدادین ضبط ہوتی دیکھتے ہیں لیکن وہاں بھی کچھ حضرات یہ ہی کہتے نظر آتے ہیں کہ کھایا تو کیا ہوا ؟ لگایا بھی تو ہے ۔لیکن کاش کوئی سوچے کہ انجام کیا ہے ۔میرے پیارے نبی(ص) کی حدیثِ مبارکہ ہے کہ “ دنیا آخرت کی کھیتی ہے ۔“ ہم کتنے بد قسمت ہیں کہ اس کھیتی کو ہرا بھرا رکھنے کے بجائے اس میں بیج ہی بے ایمانی ، کرپشن اور حق تلفی کے بوتے ہیں ۔اگر سوچیں کہ کیا کاٹٰیں گے تو رونگٹے کھڑے ہو جاتے ہیں لیکن ہم نے سوچنا چھور دیا ہے شاید ،کیو نکہ ہمارے پچھلوں نے ہمیں صرف اور صرف دنیا کی طلب دکھا دی ہے ،اُس طرف کسی کی نظر نہیں گئی ۔
آج بھی ہم نے اُن محترم کی ایک پریس کانفرنس سنی کہ وہ استدعا کر رہے تھے سب سے کہ جس جس کا مال باہر ہے ملک میں لے آئے ۔یہ کیسے ہمدرد ہیں ہمارے جنہوں نے ہمارے سالوں برباد کر کے ، ہم سے تعلیم چھین کر ، تربیت نہ دے کر اخلاق کو روند کر ہمیں کمزور کر دیا ،ہر اُس شخص کا ساتھ دیا جو وطنِ عزیز کو لوٹ رہا تھا ہر اُس شعبے کو طاقتور کیا جو رشوت لے لے کر کام کر رہا تھا اور ہر کام کرنے والے میں یہ سوچ بھر دی کہ سب کچھ جائز ہے ۔اور کچھ بےچارے ہمارے اس معاشرے میں نہ چاہتے ہوئے بھی زندگی کو سنوارنے اور اپنی آل اولاد کو پروان چڑھانے کے لئے ان تمام باتوں پر آنکھیں بند کر بیٹھے ۔افسوس اب جو کچھ ہم دیکھ رہے ہیں ہمیں دُکھ ہی نہیں ، اندر کہیں ٹیس سی اُٹھتی ہے کہ ہم کیا تھے کیا ہو گئے ۔ہم اُن کے پیروکار ہیں جو نصیحت بھی اُس وقت تک نہیں کرتے تھے جب تک اپنی عادت ترک نہ کردیں اللہُ الصمد اور آج ہم ہر اُس شخص کی تعریف کر رہے ہیں جو بے ایمانی تو کر گیا رشوت تو دے گیا اپنی جائیدادیں تو بنا لیں جھوٹ تو بولے ملک کی دو؛لت باہر تو پہنچائی لیکن اس کا عشرَ عشیر ملک میں بھی تو لگایا موٹر ویہز بنا کر سڑکیں بنا کر غریبوں کو کھانا کھلا کر ،ملک کی زمینیں قبضے میں لے کر غریبوں کو دھوکہ دے کر تعلیم کو ختم کر کے ۔کیا نقصان ہوا شاید کچھ بھی نہیں ،
کیونکہ ہم وہ قوم ہیں جو اپنے نقصان کے بارے میں سوچتی ہی نہیں صرف فائدہ دیکھتی ہے وہ کیسے بھی ملے کیونکہ ہماری رگوًں میں یہ زہر بھر دیا گیا ہے کہ جیسے بھی کما سکتے ہو کمائو یہ نہ دیکھو کیسے کمایا کیونکہ ہم نے ماحول ہی ایسابنا دیا ہے ۔
حلال کی تعریف ہم نے صرف کھانے پینے کے لئے رکھ چھوڑی ہے ۔باقی تمام چیزوں سے حلال کو نکال دیا ہے کمائی حلال نہیں کوئی بات نہیں ،محنت حلال نہیں کوئی فرق نہیں ،
اللہ ہم سب کو سوچنے سمجھنے اور اچھائیوں پر عمل کی توفیق عطا فرمائے ،ہمیں حلال حرام کی تمیز کرنے کی استتاعت دے آمین
ہم کیسے لوگ ہیں,عالم آرا
884
0












