سولہ دسمبر کا دن پھر لہو کو منجمد کردینے والی یادوں کے ساتھ آن پہنچا۔۔۔ان کی یاد میں شمعیں روشن کی جائیں گی صاف ستھرے یونیفارم میں معصوم فرشتوں کے چہرے جھلملاتی شمعوں کی روشنی کے پیچھے ان کے چہرے سوالیہ نشان کی صورت صاحب بصیرت آنکھوں کو ضرور نظر آئیں گے کہ،
آخر ہمارا، قصور کیا تھا؟
ہمیں کس جرم کی سزا دی گئی؟
ہمیں ہمارے خون میں کیوں نہلادیا گیا؟
ہمارے قاتل ابھی تک کیوں آذاد ہیں؟
معصوم فرشتوں کا قافلہ تو ان کی روحانی ماں کی قیادت میں فرشتوں کے پروں پہ سوار ابدی سفر پہ روانہ ہوگیا ہر کرب، سے آذاد جہاں صرف سکون ہے۔۔۔دائمی سکون
لیکن۔۔۔۔ماؤں کے آنسو راہ دیکھتے دیکھتے پتھر ہوگیے۔۔
باپ اپنے ہی جنازے کندھوں پہ ہی رکھے گھوم رہے ہیں۔
بہنوں اور بھائیوں کے دل یادوں کو دہراتے نہیں بھرتے۔۔
گھر کے آنگن اور اسکول کی فضا میں۔معصوم قہقہے اور زندگی سے بھر پور آوازیں چہچہاتی سنائ دیتی ہیں۔
دیواروں پر پرچھائیاں بنتی اور مٹتی ہیں۔۔لمحہ لمحہ گھنٹوں اور دنوں میں بدلتا مہینوں میں سرکتا سال میں ڈھلتا ہے۔۔۔دسمبر ہرسال آجاتا ہے ۔۔16 دسمبر۔۔خونچکاں یادوں سمیت ۔۔۔کیلنڈر بدلنے سے پہلے۔۔۔دل بھاری ہوجاتا ہے۔۔۔جن کے پیارے گیے ان کے لیے یہ پانچ برس نہیں پانچ صدیاں ہیں۔
شہروں شہروں شمعیں جلیں گی ان کی یاد میں
کالم لکھے جائیں گے۔۔
پوسٹیں لگیں گی۔۔
ڈیپیاں تبدیل ہوں گی۔۔۔
قوم شہدا کی یاد منائے گی ۔۔
اور آذاد قاتل خوشیاں۔۔۔
اور پھر، چند روز بات سب نئےسال کی خوشی منارہے ہوں گے۔
یہی دنیا ہے
عمل کی دنیا میں
ہم ابھی تک وہیں کھڑے ہیں۔۔سن اکسٹھ ہجری میں۔۔۔
آزمائے نہیں گیے ۔۔
ورنہ سند کے ساتھ یزیدی ہوتے
شکر ہے آذمائے نہیں گیے۔
رہے نام اللہ کا
ڈاکٹر ثروت رضوی












