آپ عنوان دیکھ کر چونکیں گے؟ کہ وہ چپ کب تھے جو ہم نے عنوان رکھا ہےکہ پھر بولے؟ویسے تو وہ مسلسل بول رہے تھے مگر ہم نے اس کا ذکر ایک دفع کرکے پھر اس لیے چھوڑ دیا کہ ہمارا ذاتی تجربہ ہے کوئی شاعر بھی پرانی غزل کو کتنی ہی مقبول ہو روز روز دہرائے تو سامعین کو نیند آنے لگتی ہے؟ جبکہ وہ بلا ناغہ روز ایک ہی جملہ بول رہے تھے۔ کہ مجھے کیوں نکالا؟ اور نکالنے والوں کے خلاف وہ زبان استعمال کر رہے تھے جو آجتک کسی مہذب ملک کے وزیر اعظم نہیں کی؟ مگران پرآفریں ہے کہ نکالنے والے اتنے صابر ثابت ہوئے کہ انہوں نے صبر کی انتہا کردی؟ جب موصوف اس حربہ سے مایوس ہوگئے تو انہوں نے اب کہیں جاکر حربہ تبدیل کیا ہے؟ ممکن ہے کہ ہمارے موصوف لکھنے سے آپ اور الجھیں کہ یہ کون صاحب ہیں جن کا ہم نام نہیں لے رہے ہیں؟ اصل میں میڈیا نے ان کی اس صفت کو اتنا اچھالا ہے کہ انکی صفت نام سے زیادہ مشہور ہوگئی ہے کہ ذہن میں فوراً یہ آتا ہے وہ جو نکالے گئے تھے اور فریادی ہوئے۔ سب سے پوچھتے پھر تے ہیں کہ مجھے کیوں نکالا ؟
اب کہیں مہینوں کے بعد جاکرمایوس ہوئے ہیں، تو جیسے پاؤنٹس مین کانٹا بد لدیتا ہے ریل کو نئی پٹری پر لانے کے لیے انہوں نے بھی آج کانٹا بدلنے کا عندیہ دیا ہے کہ پہلی دفعہ پاکستان کی بات کی ہے اور اس عدالت کی بھی تعریف کی ہے اس تبصرہ کہ ملک ترقی کی راہ پر بہت تیزی سے دوڑرہا تھا۔ا ب مشکلات پیدا ہور ہی ہیں۔ جبکہ ملک کے تیزی سے ترقی کے مراحل طے کرنے کاراز یہ تھا ۔کہ وہ قرضے لینے کا ریکارڈ توڑرہے تھے؟ جس کے لیے چچا غالب کہہ گئے ہیں کہ “ قرض کی پیتے تھے مے لیکن کہتے تھے ہاں! رنگ لائے گی ہماری فاقہ مستی ایک دن “ یہ پیش گوئی انہوں نے اس دور میں کردی تھی جس میں وقت کے بادشاہ کے پاس پاکستان جیسا کو ئی قابل وزیر خزانہ بھی نہیں تھا۔ اورجبکہ ریکارڈ توڑنے کام وہ ملک کر رہا تھا کہ جس کے دستور میں لکھا ہوا ہے کہ سودی نظام سے جلد چھٹکارا حاصل کیا جائے گا۔اور غیر اسلامی قوانیں کواسلامی بنانے کے لیے دس سال کا وقت بھی مقرر کیا گیا تھا، جس کو گزرے بھی نصف صدی ہوگئی۔ جبکہ ہم اللہ پر ایمان رکھتے ہیں۔ جس کی نازل کی ہو ئی کتاب میں یہ لکھا ہوا ہے ‘جو سود کی حرمت معلوم ہونے کے بعد سود کا کاروبار نہ چھوڑ ے وہ اللہ اور رسول( ص)سے جنگ کے لیے تیار ہوجائے “ جبکہ موصوف بجائے اس سے جان چھڑانے کہ قرضہ جات کو بڑھا نے میں لگے ہوئے تھے۔ تاکہ ہم اس سے جنگ کے مزید قریب پہونچ جائیں اور دنیا میں نافر مان بندے کہلائیں ۔ اور وہ بھی وہ جنہیں دعویِٰ پارسائی انتا تھا کہ اپنے پچھلے دور میں بقول بلاول زرداری کہ امیرا لمومنین بننے کے خواب دیکھ رہے اور اسی دور میں انہوں نے سود کے حق میں حکمِ امتاعی عدالت لیا ہوا تھا جو ابھی تک چل رہا ہے تاکہ سودی کاروبار اس ملک میں قیامت تک چلتا رہے۔ کہ اسوقت بھی یہ ہوا تھا کہ اللہ سبحانہ تعالٰی نے ان سے وزیر اعظم کی گدی ہی چھین لی تھی، موصوف پناہ لینے حرم شریف چلے گئے۔
وہاں کے شاید شاہی تھاٹ دیکھے تو پھر جی چاہنے لگا۔ کہ یک دفعہ اور کوشش کردیکھیں، ممکن کہ توبہ بھی کی ہو اور آئندہ نہ کرنے وعدہ بھی کیا ہو؟ کہ شاید کامیاب ہو جائیں کیونکہ محمود غزنوی نے سترہ حملے کیے تھے تب کہیں جاکر وہ کامیاب ہو اتھا۔ اللہ نے پھر موقع دیا اس مرتبہ آئے اور وہی کام پھر کیاموصوف پھر نکال دیے گئے۔ کہ اللہ سبحانہ تعالیٰ بندوں کو یہ دکھانا چاہتا ہے۔ کہ آدمی ویسے کا ویسا ہی رہتا ہے اس کی جو فطرت ہو چاہیں وہ کہیں بھی رہ کر آجائے۔ چلیے انہیں قسمت آزمائی کر نے دیں ابھی پندرہ دفع کی کوشش اور باقی ہے۔ رہے پاکستان کے عوام اور خواص وہ آنکھیں کھول کر دیکھیں گے ہی نہیں؟ کہ اگر ملک خطروں میں گھرا ہوا ہے تو اسکا ذمہ دار کون ہے؟ وہ جس نے ملک کویہاں تک پہونچا یا ؟ اور آج بھی بالواسطہ حکومت کر رہا ہے۔ تو کیسے ممکن ہے کہ ملک میں جو لوٹ مار اور بلندی کی ڈالر کی پرواز جاری ہے۔ اس کا ذمہ دار،ا صل حکمراں نہ ہو بلکہ وہ ہو جسے رفع حاجت کے لیے وقتی طور پرکرسی پر بٹھایا ہوا ہے؟ جو خود کہہ رہا ہے کہ “ وزیر اعظم میں نہیں ہوں وزیر اعظم وہ ہے جو بقول پاکستانی میڈیا کہ “نااہل وزیر اعظم ہے“دیکھئے آپ میرے پیچھے مت پڑ جائیگا کہ ہم تو تمہیں پڑھا لکھا آدمی سمجھتے تھے۔ لیکن تم نے رفع حاجت جیسے محاورے کا غلط استعمال کیسے کیاہے۔ یہ تمہاری علمیت کی پول کھول رہا ہے! مگر ہم بھی ہار ماننے والے نہیں ہیں اس لیے کی ہمارے یہاں رواج ہی نہیں بے؟ اس غلط استعمال کے پیچھے بھی ایک تاریخ ہے کہ سانگھڑ میں ایک مشاعرہ ہو رہا تھا جس کی صدارت ڈپٹی کمشنر صاحب فرما رہے ۔ وہ چلے گئے اور اپنی جگہ ایک وہاں کے ایک رکن پارلیمان کو بٹھاگئے ۔ کسی نے ان سے پوچھا کہ ڈپٹی کمشنر صاحب کب واپس آئیں گے؟ تو انہوں نے جواب میں گاڑھی اردو میں فرمایاکہ وہ تو تشریف لے گئے اور مجھے رفع حاجت کے لیئے یہاں بٹھا گئے ہیں؟ایک قہقہ بلند ہوا وہ ہنس نے والوں! کا منہ تکنے لگے کہ اس میں ہنس نے کی بات کیا ہے؟ باہر حال یہ ہر آدمی کی صواب دید پر منحصر ہے کہ کونسی بات ہنس نے اور کونسی نہیں۔ ؟ دعا کیجئے کہ اللہ تعالیٰ پاکستان کی خیر کرے؟












