نقلی دانش قوموں پر عذاب، تسنیم عابدی

0
889

ایک شور ہنگامہ برپا ہے طرزِ حکمرانی کی وضاحت کے لئے جمہوریت کی تعریف میں زمین سے آسمان تک قلابے ملائے جارہے تھے ۔بھوک ، بیروزگاری، جہالت،بیماری ،غربت و افلاس کے علاج کے لئےجمہوریت ایک امرت دھار ا بن چکی ہے ۔۔عوام ووٹ کے ذریعے اپنے پسندیدہ امیدوار کو اسمبلی تک پہنچائیں پھر دیکھیں کہ دودھ کی نہریں بہنے لگیں گی آسمان سے من و سلوی اترنے لگے گا ، ہر امیدوار بازار میں دستیاب ہے اچھا برا نکٹا چپٹا جسے چاہیں منتخب کریں پھر ووٹ کا جادو دیکھیں ۔اس گیدڑ سنگی میں ہر مسلے کا حل موجود ہے اسی لئے آج ہی آزمائیں اور ملک و قوم کی قسمت بنائیں ۔۔۔۔ اپنے بچپن سے اور ادھیڑ عمری تک یہ نعرے یہ نظریات سنے سنتے کان پک گئے عوام تو بیچارے عوام ہیں بھئی دانشورانِ قوم تک جب یہ راگ الاپتے نظر آتے ہیں تو ہمیں حیرت ہوتی ہے کہ ملمع شدہ چیزوں سے فریب کھانے والے جان بوجھ کر اس فریب کا شکار ہوتے ہیں ۔انسانی آزادی ، جمہوریت،اظہار رائے کی سہولت ، آئین کی حفاظت ، بظاہر یہ سب کچھ بہت دلکش چیزیں ہیں مگر ہر چیز کی تشریح اور تفہیم اپنے اپنے حساب سے کی جاتی رہی ہے ۔۔ہر چیز ارتقا کے مراحل سے گزرتی ہے یا گزر سکتی ہے کیونکہ یہ انسان کی فکر کا نتیجہ ہے جس میں کمی بیشی ہوسکتی ہے ۔۔

سب سے پہلے تو اسے سمجھنے کی ضرورت ہے کہ کسی بھی ملک کے سیاسی نظام کا تعلق کن دو گروہوں کے درمیان ہوتا ہے ای طبقے حاکم اور دوسرا عوام ۔ حاکم اور عوام کا تعلق وہی ہے جو طلب اور رسد میں ہوتا ہے ۔انسان سماجی اعتبار سے بنیادی ضروریات فراہم کرنے والے حکمران کی تلاش میں رہتا ہے جو انھیں امن ، سکون اور عزت سے زندگی گزارنے کے مواقع فراہم کر سکے ۔۔انفرادی فلاح و بہبود ہی کی بدولت اجتماعی خوشحالی کا تصور ممکن ہے۔ان اقدامات کے بعد پھر انفرادی دانش کی پزیرائی کا مرحلہ آتا ہے بر صغیر کے ابتر معاشی حالات کی وجہ سے کسی سیاسی انقلاب کی توقع نہیں کی جا سکتی ۔۔ویسے تو چین کے مستحکم معاشی حالات کے باوجود وہاں انفرادی حق کو بالکل نہیں مانا جاتا دوسری جانب ہندوستان اور امریکا دنیا کی ایک تہائی آبادی والے جمہوری ممالک ہیں جہاں جمہوریت رو بہ زوال ہے ۔۔میری اس بات کا یہ مطلب ہرگز نہیں کہ آمریت یا بادشاہت کی طرفدار ی مقصود ہے کہنے کا مطلب یہ ہے کہ جمہوریت صرف ووٹ ڈالنے ،منتخب نمائندوں کو اسمبلی میں بھیجنے کا نام نہیں ۔۔

پہلے عوام کو منتخب کرنے کا سلیقہ سکھایا جائے اور اس کےئے بلدیاتی نظام کو متعارف کروانے کی ضرورت ہے افسوس کی بات کہ ہماری نام نہاد جمہوری طاقتوں نے ہمیشہ اس سے اجتناب کیا۔آج کی دنیا کا المیہ یہ ہے کہ ذرائع ابلاغ کی وجہ سے پرپیگنڈا پل بھر میں کسی بھی نظام کے راگ الاپتے لگتا اس طرح ایک مضر چیز بھی مفید قرار دی جاسکتی ہے، کمیونزم،سوشلزم،فاشزم،لبرل دیموکریسی،سیکولزم۔۔۔۔وغیرہ ہر مال دستیاب ہے مگر دیکھنا یہ پڑے گاکہ عوام کی طلب کیا ہے۔روٹی سے محروم افراد کو دانش کےدسترخوان کی ضرورت جب پڑے گی جب انھیں فاقوں سے بچایا جائے ۔۔غیر مقبول فیصلے کرنے پڑیں تو کرنے دیں ۔۔ہماری جمہوریت کی نرسری فوج کے سائےمیں پروان چڑھی ہے اسی لئےوقت ضرورت ہم بہروپ بھرنے کا ہنر جانتے ہیں دنیا تیزی سے کسی نئی تحریک کی جانب بڑھ رہی ہے ،تد بر کی ضرورت ہے

نہیں ہے شاخ تراشی ہی شامل دانش
روش روش پہ نئے پھول بھی کھلاتے چلو
(احسان دانش)
باقی آئندہ

تسنیم عابدی

SHARE

LEAVE A REPLY