ڈان گروپ کے سربراہ حمید ہارون نےجامی کے الزام کی تردید کی ہے

0
721

فلم ساز جامی نے ڈھائی ماہ کی قیاس آرائیوں کے بعد تصدیق کی ہے کہ انھیں ریپ کرنے والے میڈیا ٹائیکون ڈان گروپ کے سربراہ حمید ہارون ہیں۔ ڈان نے حمید ہارون کا ایک پیغام شائع کیا ہے جس میں انھوں نے جامی کے الزام کی تردید کی ہے۔

جامی کے نام سے معرف جمشید محمود نے اکتوبر میں ایک ٹوئیٹ کیا تھا جس میں انھوں نے انکشاف کیا تھا کہ ایک میڈیا ٹائیکون نے 13 سال پہلے انھیں ریپ کیا تھا۔ اگرچہ انھوں نے نام نہیں لیا تھا لیکن سوشل میڈیا پر قیاس آرائیاں کی جارہی تھیں کہ وہ شخص حمید ہارون ہیں۔ اتوار کو جامی نے ٹویٹ میں کھل کر حمید ہارون کا نام لیا اور ان پر جنسی زیادتی کرنے کا الزام عائد کیا۔ بعد میں ڈان گروپ نے اپنی ویب سائٹ پر حمید ہارون کا ایک بیان خبر کی صورت میں جاری کیا۔ اس میں حمید ہارون نے الزام کو مسترد کرتے ہوئے جامی کے خلاف قانونی چارہ جوئی کا عندیہ دیا۔

جامی نے اکتوبر میں کی گئی ٹویٹ کو می ٹو موومنٹ کا حصہ قرار دیا تھا۔ اس پر سوشل میڈیا پر بہت سے افراد نے ان کی حوصلہ افزائی کی اور اتنے سال بعد اس واقعے کو سامنے لانے پر ان کا ساتھ دینے جیسے ٹرینڈز چلائے لیکن ان پر کسی کا نام نہ لینے پر تنقید بھی ہوئی۔ وہ اپنی ٹویٹس میں یہی کہتے رہےکہ جنسی زیادتی کا نشانہ بنے شخص کے طور پر یہ ان کا حق ہے کہ وہ اس بارے میں کب اور کتنی بات کریں ۔لیکن نئی ٹویٹ میں ان کا کہنا تھا کہ وہ اب ذہنی طور پر جنسی زیادتی کرنے والے کا نام لینے کے لئے تیار ہیں۔ اس سے اگلی سطر میں انہوں نے حمید ہارون کا نام لے لیا۔

جامی کا یہ موقف بھی ان کی ٹوئیٹس میں سامنے آچکا ہے کہ ان کے خیال میں ڈان میڈیا گروپ نہ صرف خود ان کی خبر نہیں چھاپے گا بلکہ دوسرے میڈیا گروپس کو بھی ان کا بیانیہ چلانے سے روک رہا ہے ۔

ڈان کی جانب سے چھاپی گئی خبر کے مطابق حمید ہارون کا کہنا ہے کہ ان پر لگائے گئے الزامات بد نیتی پر مبنی ہیں اور اس کے پیچھے کچھ قوتیں ہیں جو جامی سے یہ ٹوئیٹس کروا رہی ہیں۔ انہوں نے اپنے بیان میں گزشتہ دنوں ڈان کے دفاتر پر ہونے والے حملوں اور احتجاج کو جامی کی ٹوئیٹس سے جوڑتے ہوئے دعویٰ کیا کہ ان پر ایسے الزامات اس لیے لگوائے جا رہے ہیں تا کہ ڈان کا نام متنازعہ بنایا جاسکے اور آزادی صحافت پر مزید قدغن لگائی جائے۔

حمید ہارون نے کہا کہ وہ پہلے بھی ان ٹوئیٹس کا جواب دینے کا حق محفوظ رکھتے تھے لیکن چونکہ پہلے ان کا نام نہیں لیا گیا تھا اس لیے وہ خاموش رہے۔ البتہ اس بیان میں کہیں یہ ذکر نہیں کہ ان کے پاس کیا کوئی شواہد موجود ہیں، جن کی روشنی میں وہ سمجھتے ہیں کہ جامی کی ٹوئیٹس کے پیچھے کسی خاص حلقے کا ہاتھ ہے۔

بیان میں کہا گیا ہے کہ حمید ہارون کبھی جامی سے تنہائی میں نہیں ملے اور ان سے ملاقاتیں بہت محدود اور پیشہ وارانہ نوعیت کی تھیں۔

جامی نے اب سے کچھ قبل وائس آف امریکہ اردو سے بات کرتے ہوئے اپنے لگائے ہوئے الزامات کا دفاع کیا۔

دوسری طرف سوشل میڈیا پر ایک بار پھر اس بارے میں بحث نے زور پکڑ لیا ہے جہاں جامی اور حمید ہارون دونوں کے حق میں اور خلاف ٹوئیٹس دیکھی جا سکتی ہیں، جن میں بار بار می ٹو موومنٹ کا حوالہ بھی دیا جارہا ہے۔

SHARE

LEAVE A REPLY