ہر سال کی طرح اس بار بھی 8 مارچ جو خواتین کے عالمی دن کے طور پر پوری دنیا میں منایا جاتا ہے، کو لے کر پاکستان میں بڑی بحث رہی۔ حسبِ معمول جہاں کثیر تعداد میں لوگ عورت مارچ کے حق میں بات کرتے نظر آئے وہیں اس کی مخالفت میں بھی کم لوگ نہ تھے۔ عورت مارچ کی تیاریاں اس کے آرگنائزرز کافی جوش و خروش سے کچھ مہینے پہلے ہی شروع کر دیتے ہیں۔ جس میں سب سے اہم کام اس کا منشور طے کرنا، اس کے مطابق اس کے پلے کارڈ اور بینرز تیار کرنا، مختلف انتظامی کمیٹیاں بنانا اور اس طرح کے دیگر کئی امور شامل ہیں۔ تاہم اس بار پہلے مرحلے پہ ہی انتظامیہ کی مدد سے عورت مارچ کو جلوس نکالنے کی NOC نہ مل سکی۔ کتنے افسوس کی بات ہے کہ ہمارے ملک میں آئے روز سیاسی سرکس سڑکوں پہ نظر آتا ہے اس کے ساتھ ساتھ مذہبی شدت پسند افراد کبھی املاک جلاتے اور سڑکوں پر لاشیں گھسیٹتے نظر آتے ہیں وہاں انتظامیہ کا بس کمزور امن پسند طبقات پر ہی چلتا ہے۔ نہ خواتین آرام سے اپنے حقوق کی خاطر کوئی جلوس نکال سکتی ہیں نہ ہی ہندو ہولی منا سکتے ہیں۔ ہاں خون کی ہولی آپ جتنی چاہیں کھیلیں اس پہ روک ٹوک نہیں۔ لیکن خواتین کو پرامن ریلی نکالنے میں نہ صرف روڑے اٹکائے جاتے ہیں بلکہ ہم نے اسلام آباد میں دیکھا کہ کس طرح خواتین پر پولیس کی طرف سے لاٹھی چارج کیا گیا۔ بحرحال خواتین نے عدالت کا رخ کر کے بمشکل اپنا پبلک اسمبلی کا حق حاصل کیا۔ یہاں اس بات کا ذکر بھی انتہائی اہم ہے کہ اجازت نامے کے لیے مسائل پیدا کرنے میں سب سے بڑا ہاتھ وفاقی وزیر برائے مذہبی امور کا تھا جنھوں نے وزیرِ اعظم کو خط لکھ کر اس مارچ کو رکوانے کی درخواست کی۔
کیسی افسوس کی بات ہے کہ گلوبل جینڈر رپورٹ کی حالیہ رپورٹ کے مطابق خواتین اور مردوں کے بنیادی حقوق میں تفریق کے لحاظ سے پاکستان دنیا کا دوسرا بدترین ملک قرار دیا گیا۔ وطنِ عزیز میں غیرت کے نام پہ قتل ہوتی خواتین، جسمانی تشدد سہتی خواتین، جائیداد اور تعلیم سے محروم خواتین اور اس طرح کے دیگر مسائل ہماری وزارتِ مذہبی امور کو نہ تو کوئی مسئلہ لگتے ہیں اور نہ ہی ان سے ہماری معاشرتی اور خاندانی اقدار کو کوئی خطرہ درپیش ہے۔ لیکن جب یہی خواتین اپنے حقوق کے لیے آواز اٹھاتی ہیں یکدم معاشرہ کی اساس کو خطرہ لاحق ہوتا ہے۔حالانکہ سوال تو یہ پیدا ہوتا ہے کہ اگر ہمارا معاشرہ ایسا ہی عظیم ہے کہ جہاں خواتین کو ہر طرح کے حقوق مہیا ہیں تو گلوبل جینڈر رپورٹ میں پاکستان کا نام دوسرے نمبر پر کیسے ہے؟
بحرحال اپنی تمام تر مشکلات اور رکاوٹوں کے باوجود سلام ہے تمام عورت مارچ آرگنائزرز کو جو مختلف شہروں میں اپنے حقوق کے مطالبوں کے ساتھ جلوس نکالنے میں کامیاب ہوئے۔ ان ریلیوں اور جلوسوں میں ملک بھر سے لوگوں نے شرکت کی جس میں خواتین، مرد، ٹرانس اور نان بائنری افراد نے بھرپور شرکت کی۔ مختلف لوگ بینرز اور پلے کارڈز اٹھائے نظر آئے جن میں مجھے ذاتی طور پہ ایک پلے کارڈ بہت اچھا لگا جو ایک لڑکے نے اٹھایا ہوا تھا اور اس پہ بڑی خوبصورت عبارت درج تھی کہ ‘ میں مارچ میں شرکت اپنی ماں کی وجہ سے کر رہا ہوں جس کو سکول جانے کی اجازت نہ مل سکی’۔ ہمیشہ کی طرح ‘میرا جسم میری مرضی’ کے نعرے پر بہت تنقید ہوئی اور مختلف پلیٹ فارمز پر اس نعرے کا مطلب سمجھانے کی کوشش بھی کی گئی کہ خواہ مرد ہو یا عورت کسی بھی فرد کا اپنے جسم پر اختیار اس کے بنیادی حقوق میں شامل ہے اور کسی بھی معاشرے یا فرد کو اختیار نہیں کہ وہ کسی دوسرے کے جسم پر اپنی مرضی چلائے۔ اگر اس کا مذہبی پہلو بھی دیکھا جائے تو قیامت کا دن مختص ہی حساب کے لیے ہے جہاں ہر فرد نے اپنے جسم اور دماغ کو غلط یا صحیح جس انداز میں استعمال کیا ہو گا اس کے مطابق اس کا حساب ہوگا اور کوئی دوسرا کسی کا حساب نہیں دے گا۔
جہاں مارچ میں اپنے حقوق کی آواز اٹھانے کے لیے لوگ جمع تھے وہیں تنقید کی بھی کمی نہ تھی۔ نام نہاد یوٹیوبرز اور صحافی حضرات عجیب و غریب سوالات پوچھتے نظر آئے۔ کوئی مارچ میں شامل خواتین کو فاحشہ کا لقب دے رہا تھا، کسی نے بازاری عورت کا تمغہ تھمایا تو کسی کے نزدیک وہ سب خواتین زمانے کی دھتکاری اور گھروں سے بھاگی ہوئی تھیں۔ کسی نے فیمنزم کو معاشرے کا کینسر قرار دیا تو کوئی حسبِ معمول اسے مغربی ایجنڈہ قرار دینے پہ مصر تھا۔ لیکن جب ان نام نہاد صحافیوں سے پوچھا گیا کہ کیا آپ نے اس سال کے عورت مارچ کا منشور پڑھا ہے تو سب بغلیں جھانکنے لگے۔
اس سال کے عورت مارچ کے چیدہ چیدہ نکات میں ہر شعبہ زندگی سے تعلق رکھنے والے افراد کے حقوق کے مطالبات شامل تھے۔ جس میں ماحول کے خواتین کی زندگی پہ اثرات، مزدوروں کے حقوق، فوج کے مراعاتی اخراجات میں کمی، سیلاب متاثرین کی بحالی کا مطالبہ، خواجہ سرا برادری کو ان کے بنیادی حقوق کی فراہمی، جبری مشقت اور بیگار کا خاتمہ، خواتین، ٹرانس اور نان بائنری افراد کے لیے محفوظ پناہ گاہیں، جبراً تبدیلیِ مذہب اور کم عمری کی شادیوں کا خاتمہ، گھریلو تشدد کا خاتمہ اور مجموعی طور پر ایک بہتر مستقبل کا مطالبہ شامل تھا۔ اس منشور میں کسی پڑھے لکھے ذی شعور انسان کو کوئی بے حیائی یا مغربی ایجنڈہ نظر نہیں آ سکتا۔ لیکن اس کے باوجود جب عورت مارچ کے حق میں جب بھی کسی سوشل میڈیا پلیٹ فارم پر بات کی جائے تو کونوں کھدروں سے مرد حضرات اور خصوصاً مذہبی افراد اپنی داڑھیوں پر ہاتھ پھیرتے آپ کو بتانے نکل پڑتے ہیں کہ آپ کو بحثیت خاتون کون سے حقوق ملنے چاہیں اور ان کو کس طریقہ سے مانگنا چاہیے۔ منشور نہ کسی نے پڑھا ہوتا ہے اور نہ ہی خواتین کے مسائل سے ان کا لینا دینا ہوتا ہے۔
میں ہمیشہ یہ کہتی ہوں کہ عورت مارچ خواتین کی اپنے معاشرے سے گفتگو ہے۔ آپ اس پر اعتراض کر سکتے ہیں، اس سے متفق ہو سکتے ہیں لیکن اس پر بحث کر سکتے ہیں لیکن اس کو نظر انداز نہیں کر سکتے۔ نصف آبادی کو جب ان کے حقوق ملیں گے تو معاشرہ ترقی کرے گا تو آئیے بہتر مستقبل کے لیے ہم مل کر خواتین کے ہاتھ مضبوط کریں اور ان کی آواز بنیں۔













