اس پورے ہفتے کی روئیداد میں ہمیں اس شعر سے زیادہ موزوں کوئی شعر نہیں ملا کہ ہر شاخ پہ اُلو بیٹھاہے ۔۔۔انجامِ گلستاں کیا ہوگا ۔سُنتے ہیں اُلو عقلمندی کی نشانی ہے انتہائی عقلمند پرندہ ہے جو رات بھر جاگتا اور دن بھر سوتا ہے ۔ہمارے ملک میں دانشور اُلوؤں کی کوئی کمی نہیں ہے ۔ہم نے ٹھانی کہ پورا ہفتہ ٹی وی پر بیٹھے عقلمندوں کو سُنینگے کہ وہ ملک کے حالات پر کیا بات کرتے ہیں اور کس طرح بات کرتے ہیں ۔یقین جانیں ہمیں لگا کہ اگر ان تمام اینکرز اور تجزیہ نگاروں کو ملک کی باگ ڈور دے دی جائے تو ملک ترقیوں کی بلندیاں چھو لے گا ۔ جیسے جیسے تبصرے اور مشورے دئے جاتے ہیں وہ سوچنے پر مجبور کر دیتے ہیں کہ کیا کوئی ضابظئہ اخلاق ان پروگراموں کے لئے بھی وضع ہونا چاہئے ؟
قصور کے واقے نے جس طرح دلوں کو دہلایا اُس پر ان عقلمندوں کے تبصروں نے ہمیں یہ سوچنے پر مجبور کر دیا کہ معصؤم بچے خود ہی اپنے آپ کو بچا سکتے ہیں ۔بڑوں کا کوئی کردار نہیں سوائے انہیں نصیحت کرنے کے ۔ہم یہ بھی سمجھنے سے قاصر رہے کہ جب بچوں کو کوئی اغوا کر لے تو اُن معصوموں کی فریاد کون سنے گا جن کی آواز تک نہیں سُنائی دیتی محلے والوں کو ،جن کے محلے میں ہی وہ بچی یا بچہ ظلم کا نشانہ بن رہا ہوتا ہے ۔
ہماری تو ایک ہی استدعا ہے کہ خدا را سزائیں دیں سخت اسلامی سزائیں ۔سارے بابے ، سارے عقلمند سر جوڑ کر بیٹھیں اور سزاؤں پر عمل کرائیں جب تک سزائیں نہیں دی جائینگی یہ کھیل چلتا رہے گا راؤ چھُپتے رہینگے اور قوم کے اُلو دن بھر سوتے رہینگے ۔ جوان خون بہتا رہیگا مائیں تڑپتی رہینگی بہنیں دُہائیاں دیتی رہینگی ۔
ہما ری تو ایک تجویز ہے کہ جس علاقعے میں ایسا کوئی سانحہ ہو اُس کے بڑوں کو پکڑ لیا جائے کہ جب تک ملزم سامنے نہیں آتا آپ تحویل میں رہینگے ۔چار دن میں مجرم سامنے ہو گا ،اگر بڑوں کے لئے بجائے بلا وجہ اور بغیر کسی کام کئے تالیاں بجوانی چھوڑ دی جائیں اور ایسے منحوس چہروں کو پزیرائی دینے کے بجائے سخت تحقیق کی زد میں لایا جائے تو کسی کی مجال نہیں ہوگی کام چوری کی ۔ہم تو یہ جانتے ہیں کہ اب جو منظر نامہ سامنے ہے اُس میں بڑوں کو سزا ملنی چاہئے تاکہ سب کو ہی سزا کا خوف ہو اس سے بڑھ کر خوف کی بات کیا ہوگی کہ ایک پولیس والا جان لے کر غائب ہو گیا اور اُسے زمین نگل گئی کہ آسمان کھا گیا کسی کو پتہ نہیں ۔ہم نہیں جانتے وہ کتنا قصور وار ہے مگر اس طرح بھاگنا تو شکوک کو پیدا کرتا ہے سندھ پولیس جس طرح بے بس ہے وہ بھی ایک عجیب ہی بات ہے ۔
اصل بات یہ ہے کہ جب تک بڑوں کی پشت پناہی ایسے لوگوں پر رہے گی یہ المیئے ہوتے رہینگے ۔ ہمارے ملک میں اشرافیہ کا کلچر جس طرح پروان چڑھایا گیا وہ انتہائی بے بسی کی طرف لے آیا ہے ۔جہاں نہ عدلیہ کچھ کر سکتی ہے نہ فوج اور نہ ہی شاید اب عوام ہی کچھ حس رکھتے ہیں ۔جن معاشروں میں عوام بے حس ہو جائیں وہاں حالات کا رُخ بہت مشکل سے پھیرا جاتا ہے ۔لیکن مشکل کچھ بھی نہیں ہے ہمارے پاس تو وہ حکمت اور علم کا خزانہ موجود ہے جس پر عمل کر کے ہم اپنی تمام برائیوں سے نجات پا سکتے ہیں ۔ایسا ضابطئہ اخلاق تو شاید ہی کسی قوم کے پاس ہو جو ہمارے پاس موجود ہے ۔جس میں سزائیں بھی بتا دی گئی ہیں اور اُن پر عمل کرنے سے ملنے والا فائدہ بھی سمجھا دیا گیا ہے مگر افسوس ہم سے زیادہ بد قسمت قوم شاید ہی کوئی ہو جو ایک مکمل ضابطئہ حیات رکھتے ہوئے بھی دوسروں کے قانون کی طرف دیکھے ۔
عقلمندی کا تقاضہ ہے کہ اپنے پیروں پر کھڑے ہوں اپنے عمل کا جائزہ لیں عدلیہ کتنا وقت دینا چاہتی ہے ہمیں نہیں پتہ مگر شاید عقلمندوں ہی کا قول ہے کہ وقت گزر جانے سے عدل کا فائدہ کم ہو جاتا ہے ۔کیونکہ لوگوں کی توقوعات ٹوٹ جاتی ہیں اور وہ خود کو بے بس محسوس کرنے لگتے ہیں جیساکہ آج کل ہو رہا ہے ۔مگر ایک بات سب کے لئے انتہائی امید افزا ہے کہ عدلیہ کے نوٹس صرف کاغز کا پیٹ بھرنے کے لئے نہیں ہیں بلکہ وہ ان پر عمل بھی کروا رہے ہیں اور جواب طلبی بھی ہو رہی ہے ،وہ پھر چاہے میڈیا کا کوئی اینکر ہو یا ایک معصوم بچی کا باپ جسے جسٹس صاحب نے ایک اُ مید دی ہے کہ خوف مت کھانا میں ہوں تمہارے ساتھ ۔اور ہم بھی یہ ہی سمجھتے ہیں کہ خوف سے آزاد ہو کر اب جو کچھ پتہ ہے سامنے لانا چاہئے تاکہ ہم ان مصیبتوں سے نکل سکیں ۔
جناب نااہل صاحب اور اُن کی صاحبزادی جس طرح کی تقریریں کر رہے ہیں وہ شاید ہی کسی زمانے میں ہوئی ہوں ۔بد زبانی کی جاتی رہی ہے لیکن آپس میں ایک دوسرے کو برا کہنے کے لئے ،مگر عدلیہ پر اتنا سخت رویہ شاید ہی کسی تاریخ کا حصہ ہو ۔لیکن ہمارے نااہل لوگ اُلوؤں کو بھی مات دینے پر تُلے ہیں کہ عقلمندی بس ہماری میراث ہے اور عدلیہ کی خاموشی اُن کا پورا پورا ساتھ دے رہی ہے ۔کہتے ہیں مناسب وقت آنے پر ایکشن لینگے ۔؟ یہ مناسب وقت ہمارے ملک میں بہت مشکل سے آتا ہے بلکہ اکژتو حالات کی دُھند میں بہہ جاتا ہے ۔اگر اب کے بھی ایسا ہی ہوا تو شاید ہم کبھی بھی سنبھل نہ سکینگے ۔
کہتے ہیں عدلیہ دباؤ کا شکار ہے وہ عدل ہی کیا جو دباؤ میں آجائے ۔ہم تو سمجھتے ہیں کہ صرف عدل ہی ایک ایسی طاقت ہے جو کسی دباؤ کسی خوف کا شکار نہیں ہوتی یہ وہ ترازو ہے جو کسی کی طرف نہیں دیکھتا صرف اور صرف میزان پر سیدھا رہتا ہے سامنے کوئی بھی ہو ۔یہ توضیح ہماری سمجھ سے بالا تر ہے کہ عدلیہ دباؤ کا شکار ہے ۔تو کیا پھر کسی بھی مجرم کو سزا نہیں دی جاسکتی ؟ کسی سے بھی باز پُرس نہیں کی جاسکتی ؟ یہ کہاں کا قانون ہے ۔اگر قانون پر عمل کرانے والے ہی کمزور پڑینگے تو ٹھیک کس طرح کرینگے ؟
ہمیں اُمید ہے کہ اب سخت سزاؤں سے کم بات نہیں کی جائے گی ۔اگر خود کو ٹھیک کرنا ہے تو کڑوی گولی نگلنی پڑے گی کیونکہ اب تک ہم نے سزائیں نہ دے کر ،چشم پوشی اختیار کر کے ملک کو اس نہج پر ڈال دیا ہے کہ بڑے سے بڑا مجرم بھی ججوں کو جو چاہے کہہ رہا ہے ۔کیونکہ اب نہ اُس کا پیسہ چل رہا ہے اور نہ ہی فون کام آرہا ہے ، یہ بیچارے اس ماحول کے عادی کہاں تھے یہ ہی وجہ ہے کہ باپ بیٹی کاٹ کھانے کو دوڑ رہے ہیں ۔سامنے موجود لوگ ہماری سمجھ سے بالا تر ہیں ؟؟؟
ہم یہ بھی اُمید رکھتے ہیں کہ اب جو فیصلے بھی آئینگے وہ بالکل شفاف ہونگے اور واضح کہ ایک عام آدمی بھی سمجھ سکے کہ فیصلہ کیا ہے ۔مبہم فیصلےملزموں کی ہمت بڑھاتے ہیں جیسا کہ ہم سب ہی دیکھ رہے ہیں ۔جھوٹوں اور بے ایمانوں کو کھل کر سزائیں ملنی چاہئیں تاکہ لوگوں کو عبرت ہو ۔ھنگامی قدم اُٹھائیں روز مقدمے سُنیں تاکہ ہم جلدی اس مشکل سے نکل کر کچھ اچھا کر سکیں ۔اداروں کو تباہ کرنا کچھ مشکل نہیں ہوتا اُن کو ٹھیک کرنا جوئے شیر لانا ہے لیکن جب قومیں خود کو سنبھالنے کا عہد کر لیتی ہیں تو کچھ بھی مشکل نہیں رہتا ۔
ہماری استدعا ہے کہ اپنے لئے سوچیں اپنے ملک کے لئے سوچیں آنے والی نسلوں کے لئے سوچیں ،یہ شور مچانے والے ملک کی بربادی کے زمے دار ہیں اگر واقعئی ہیں تو سزا دیں تاکہ معاملات ٹھیک ہوں ورنہ یہ دھینگا مُشتی یونہی چلتی رہیگی اور یہ لوگ ملک کی قسمت سے کھیلتے رہینگے خدانخواستہ ۔ہمیں ان سب کی نیتوں پر بھی کوئی شک نہیں ہمیں تو ان سے بھی اُمید ہے کہ اب یہ قوم اور ملک کے مفاد میں پیچھے ہٹیں گے اور ملک کو آگے بڑھنے دینگے ۔کیونکہ جس قسم کی باتیں کی جارہی ہیں وہ کوئی بھی ملک سے اپنے وطن سے محبت رکھنے والا نہیں کر سکتا کہ یہ بھی پوچھا جا رہا ہے کہ ایسا ملک جس میں ہم نہ ہوں تمہیں منظور ہے کہ نہیں ۔۔۔۔۔ واہ ری قسمت
اللہ میرے ملک میں امن اور انصاف قائم کرے آمین













