اسلام کردار اور عمل کا نام ہے۔ڈاکٹر ثروت رضوی

2
1434

کوئ ایک ہفتہ قبل جاب کے دوران ایک زمے داری مس ہوگئ یوں سمجھ لیں کہ ایک غلطی ہوگئ نادانستگی میں ،اور ایسے کہ میں خود لاعلم تھی کہ کیا کرگئ ہوں ،خیر ،کوئ پندرہ منٹ بعد جب غلطی کی نشاندھی ہوئ تو میں مزے سے اپنی سیٹ پر مصروف تھی اور ایکٹوٹی جاری تھی ، میرے بارے میں بات ہورہی تھی اور میں بلینک ،پھر یاد آیا ارے یہ مجھ سے کیا ہوا ،اب صورتحال یہ کہ مارے خفت کے کان گرم اور گال لال ہوگئے ،بے یقینی کی کیفیت طاری کہ میں ایسا کیسے کرسکتی ہوں مگر غلطی ہوچکی تھی ،میں نے اٹھ کر اپنی غلطی کا اعتراف کیا اور یہ بھی کہ مجھے کچھ بھی یاد نہیں کہ ایسا کیوں ہوا
کچھ دیر بعد آفس سے بلاوا آیا ،چار رکنی ٹیم نے کچھ سوال جواب کیے ،میں نے جو بھی کہانی تھی بتادی ، یہ کہہ کر واپس بھیج دیا کہ اب آفیشل بلاوے کا انتظار کریں دوسرے دن ایک نامہ موصول ہوا جس میں نو بجے ایچ آر والوں سے ملاقات طے تھی ، دو دن سے شدید برفباری اور ٹھنڈ کی وجہ سے اور پھر کچھ یہ ٹینشن ،صبح اٹھی تو گلا بند اور بخار
جانا ضرور ہے ،ورنہ مزید غیر زمے دار سمجھی جاؤں گی ،دل ہی دل میں فیصلہ کیا اور منہ پر ماسک لگا کر مرتجز کے ساتھ ہی نکل گئ ،
گھر سے باہر نکلی تو گاڑی کا دروازہ جام ،دس منٹ تو برف جھاڑنے میں لگ گیے ،گھر یے سامنے ایک محبت کی دیوی ہے سٹیفنی مہتا جو گزشتہ چند ماہ سے مرتجز کو اسکول ڈراپ کررہی تھی ،ادھر دو ہفتے پہلے ہی میں نے شروع کیا ہے جب سے لائسنس ملا،اس نے مجھے دروازے سے جھگڑتے دیکھا تو زور سے آواز دی
عالے کم آن ،لیٹس گو ود می ،،،،
مما میں ان کے ساتھ جاؤں
مرتجز نے گاڑی میں سے جھانکتے چاند تارے جیسے بچوں کی طرف اشارا کیا ،سٹفنی کے بچے اسے بلا ریے تھے اور بالکل ریڈی تھے ،میں نے بچے کو رخصت کیا ،اور لینڈلارڈ وحید بھائ کی مدد سے دروازہ کھولا اور وقت مقررہ پر جاب پر پہنچی جہاں پہلے نو بجے آفس میں حاضری تھی
زہن میں طرح طرح کے خیالات آرہے تھے ،26 سال ائیرلائن میں اتنی زمے داری سے جاب کی ،کوئ ڈسکریپینسی نہیں ،کوئ شوکاز نہیں ،اے سی آر بھی ہمیشہ اگر آؤٹ سٹینڈنگ نہ رہی تو ویری گڈ سے کم بھی نہ ہوئ کبھی
ایچ آر سے ہم نے ہمیشہ پاکستانی دفاتر میں نوٹس اور شوکاز ملتے ،سزا ملتے دیکھاتھا زراسی کوتاہی بھی ہو تو رائ کا پہاڑ بن جاتا تھا
اب یہاں کیا ہوگا ،دیکھتے ہیں
جیسے ہی منہ پر ماسک لگائے آفس می میں داخل ہوئ سب نے گڈمارنگ کے فورا بعد خیریت دریافت کی
جیسے ہی بتایا کہ بیمار ہوں مگر آپ نے جو آفیشل محبت نامہ بھیج کے طلب کیا تو آگئ ہوں ،تواحسانمندانہ مسکراہٹ کے ساتھ تھینک یو اور آئ ایپریشیٹ کہہ کر عزت سے بٹھا دیا گیا
نو بجے سے سوئ پندرہ منٹ اوپر گئ تو تاخیر کی معذرت کے ساتھ بیماری میں صبر کے ساتھ انتظار کرنے پر سراہا گیا
نو تیس پر ایچ آر کی ٹیم کی آمد پر متعلقہ میٹنگ روم میں بھیج دیا گیا جہاں چھ رکنی ٹیم موجود تھی
دو ادارے کے لوگ
دو ایچ آر کے
اور دو یونین رپرزنٹو
پرفیشنل ڈیولپمنٹ اور
ڈیوٹیز اینڈ رسپانس ایبلٹیز پر بات ہوئ
پھر مجھ سے دوبارا تفصیل پوچھی گئ جو میں نے من و عن بتادی کہ سچ کی خاصیت یہ ہے کہ اسے کئ بار بھی دہرانے کے لیے بھی سوچنا نہیں پڑتا
تمہاری اوورآل پرفارمنس بہت اچھی ہے امید ہے کہ یہ غلطی جو کہ یقینا ایک ھیومن ارر ہے اور نادانستگی میں ہوئ دوبارا نہیں ہوگی ،وقت نکال کر آنے کا شکریہ ،لیکن تمہاری فائل میں یہ لیٹر رہے گا
البتہ
تم نے بتایا تمہارا زہن بلینک تھا
ہاں اس دن تم نے مستقل اور بار بار ایک ہی ڈیوٹی کو بھی انجام دیاکیونکہ تمہارے زون میں عملہ کم تھا
اب کبھی ایسا ہو تو اپنے ٹیم لیڈر سے کہنا کہ دس. منٹ کا بریک دے دے
اگر تم کو کوچنگ اینڈ کاؤنسلنگ کی ضرورت ہے یہ نمبر ہے
اوراگر تم کو کرئیر اور ورک کا مسئلہ ہے تو یہ نمبر اور یہ ای میل
اگر فنانشل اور لیگل مسائل ہیں تو یہاں رابطہ کرو
پرسنل کوئ بھی ایشو ہے تو کانٹیکٹ کرو
چھ کی چھ مہربان نگاہیں
اور نرم لہجہ
اور ہاں ،ہمیں علم ہوا ہے کہ یو لاسٹ یور ینگ سن ان پاسٹ
سو سوری
ایکسپٹ اوّر کنڈولنس
ہم چاہتے ہیں ہمارے ادارے کے تمام ایمپلائز ،مائنڈفل ،خوش اور صحت مند رہیں
تاکہ ماحول پازیٹو رہے
اور ادارہ کامیاب اور ترقی کی طرف گامزن
ہیو آ نائس ڈے
ٹیک ریسٹ اینڈ ڈونٹ کم ان ٹل گیٹ ویل
مسکراہٹ
پھر جوابی مسکراہٹ کے ساتھ شیک ہینڈ
چھ کے چھ سے باری باری
گڈ بائے
او تسی کون لوگ ہو بھئ
کہاں سے آئے ہو
نو لیگ پُلنگ
نو ایمبیرسنگ تھریڈز
نو شوکاز
نو پنشمنٹ
نو چٹھی نو پروانہ
صدقے جاواں
ڈاکٹر ثروت رضوی

SHARE

2 COMMENTS

LEAVE A REPLY