اے آر وائی کے مقبول ڈرامے “میرے پاس تم ہو” کے مصنف
خلیل الرحمان قمر اچھے رائٹر یقیناً ہونگے مگر اچھے انسان بالکل بھی نہیں ہیں۔ مجھے ماروی سرمد اور اُس قبیل کے لوگوں سے ہمیشہ سے اختلاف رہا ہے اور میں ان کے خلاف لکھتا بھی رہا ہوں مگر آج ایک ٹاک شو کی ویڈیو دیکھی جس میں خلیل الرحمان قمر موجود ہیں اور جس میں ماروی سرمد فون سے حصّہ لے رہی ہیں۔
اس ٹاک شو میں قمر نے انتہائی بدتہزیبی کا مظاہرہ کیا۔ اُن کے لہجے سے کہیں سے بھی یہ ظاہر نہیں ہورہا تھا کہ وہ کوئی پڑھے لکھے انسان ہیں یا زندگی میں کبھی کسی اسکول کی دیوار کے پاس بھی بیٹھے ہیں۔
اُنہیں تو یہ شعور بھی نہیں کہ خواتین کی موجودگی میں کس طرح کی گفتگو کرنی چاہیئے۔ ایک عام غیر تعلیم یافتہ سڑک پر بیٹھا چھابڑی والا یا بس کنڈکٹر بھی عورتوں سے اس طرح گفتگو نہیں کرتا۔ میں یہ نہیں جانتا کہ ڈرامے کی مقبولیت نے اس شخص کا دماغ خراب کیا ہے یا یہ شخص فطرتاً ہی ایسا ہے۔
بہرحال یہ ثابت ہوگیا کہ ضروری نہیں کہ اچھا لکھنے والا حقیقی زندگی میں بھی ایک اچھا انسان بھی ہو۔ یہ پروگرام دیکھ کر انتہائی افسوس ہوا اور ڈرامہ “میرے پاس تم ہو” کے بعض مکالموں کی وجہ سےقمر کی جو دل میں عزت بنی تھی وہ زمین پر آ رہی۔
مجھے یہ شخص انتہائی خودسر، گھمنڈی اور ہٹ دھرم نظر آیا۔ جب یہ ٹی وی چینل پر اتنا بدتمیز
ہے تو عام زندگی میں کیسا ہوگا۔
انگریز صحیح کہتے ہیں۔
Never judge a book by its cover.












