دو ریاستی حل کا مستقبل خطرے میں ہے، جان کیری

0
306

امریکہ کے وزیرِ خارجہ جان کیری نے کہا ہے کہ اسرائیل – فلسطین تنازع کا واحد حل دو ریاستوں کے قیام سے ہی ممکن ہے لیکن اس مجوزہ حل کا مستقبل خطرے میں ہے۔

بدھ کو امریکی محکمۂ خارجہ میں اسرائیل فلسطین تنازع پر پالیسی خطاب کرتے ہوئے امریکی وزیرِ خارجہ نے گزشتہ ہفتے اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل میں پیش ہونے والی قرارداد ویٹو نہ کرنے کے امریکی فیصلے کا دفاع کیا اور اس بارے میں اسرائیلی حکومت کی تنقید مسترد کردی۔

قرارداد میں مقبوضہ فلسطینی علاقوں میں یہودی بستیوں کی تعمیر کو بین الاقوامی قوانین کی کھلم کھلا خلاف ورزی قرار دیتے ہوئے اسرائیل کی مذمت کی گئی تھی۔

امریکہ ماضی میں سلامتی کونسل میں اسرائیل کے خلاف قراردادیں ویٹو کرتا رہا ہے لیکن گزشتہ ہفتے ہونے والی قرارداد پر امریکہ نے رائے شماری میں حصہ نہیں لیا تھا جس کے بعد سلامتی کونسل کے 15 میں سے 14 ارکان نے مذکورہ قرارداد متفقہ طور پر منظور کرلی تھی۔

قرارداد کی منظوری اور امریکہ کی جانب سے اسے ویٹو نہ کرنے پر اسرائیلی حکومت سخت برہم ہے۔ اسرائیلی حکام نے اس قرارداد کا ذمہ دار امریکی صدر براک اوباما اور وزیرِ خارجہ جان کیری کو ٹہراتے ہوئے امریکی پالیسی کو اسرائیل کی پیٹھ میں خنجر گھونپنے کے مترادف قرار دیا ہے۔

بدھ کو اپنے خطاب میں سیکریٹری کیری نے امریکہ کے فیصلے کا دفاع کرتے ہوئے کہا کہ سلامتی کونسل میں پیش ہونے والی قرارداد مشرقِ وسطیٰ میں دو ریاستی حل کو بچانے کا ایک راستہ تھا جسے ویٹو نہ کرنے کا فیصلہ ان اقدار کے عین مطابق تھا جن پر امریکہ یقین رکھتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ بدقسمتی سے کچھ لوگ سمجھتے ہیں کہ امریکہ کی ان سے دوستی کا مطلب یہ ہے کہ وہ ان کی ہر پالیسی کو تسلیم کرلے گا، جو درست نہیں۔

انہوں نے کہا کہ اگر اسرائیل سمجھتا ہے کہ فلسطین کا مسئلہ صرف ایک ریاست کے قیام سے حل ہوسکتا ہے تو اسرائیل صرف جمہوریت سے محروم ایک یہودی ریاست کے طور پر ہی باقی رہ پائے گا۔

جان کیری نے کہا کہ اسرائیل کی بطور ایک جمہوری اور یہودی ریاست سلامتی اور استحکام کا واحد راستہ “دو ریاستی حل” ہے اور یہی فلسطینیوں کے دیرینہ مطالبات بھی پورے کرسکتا ہے۔

امریکی وزیرِ خارجہ نے اسرائیلی وزیرِاعظم بینجمن نیتن یاہو کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ اگر انہوں نے مقبوضہ فلسطینی علاقوں میں فلسطینی بستیوں کی تعمیر جاری رکھی تو انہیں معلوم ہونا چاہیے کہ اقوامِ متحدہ خاموش نہیں رہے گی اور امریکہ عالمی ادارے کے کسی بھی جائز قدم کی راہ میں حائل نہیں ہوگا۔

انہوں نے کہا کہ سلامتی کونسل میں منظور ہونے والی قرارداد نے اسرائیل کو تنہا نہیں کیا بلکہ یہ مقبوضہ فلسطینی علاقوں میں یہودی بستیوں کی تعمیر کی پالیسی ہے جس کے باعث اسرائیل عالمی برادری میں تنہا ہوتا جارہا ہے۔

انہوں نے کہا کہ دونوں قوموں اور خطے کے امن اور محفوظ مستقبل کے لیے ضروری ہے کہ اسرائیل – فلسطین تنازع پر کھل کر بات کی جائے۔

SHARE

LEAVE A REPLY