اسلامی طرز ِ زندگی (16)۔۔۔۔ شمس جیلانی

0
1029

ہم گزشتہ مضون میں یہاں تک پہنچے تھے کہ پنجوقتہ نماز کے بعد کسب حلال کمانا سب سے زیادہ اہمیت رکھتا اس لیئے کہ حرام کمائی کی سب سے بڑی خرابی یہ ہے کہ وہ اللہ کی نظروں میں اپنا مقام کھودیتا ہے؟ اس کا جو بندگی کاذریعہ وہ ہے بند ہوجاتاہے وہ دعائیں مانگتا ہے وہ قبول نہیں ہوتیں؟ اسے خوداپنے بھی اعتماد نہیں رہتا نتیجہ یہ کہ خود ٹوٹ پھوٹ کر رہ جاتا ہے ؟عاملوں اور کاملوں کے چکر میں پڑجاتا ہے حتیٰ کہ اپنا ایمان کھودیتا ہے؟ اب ہم آگے بڑھتے ہیں۔ اس کا آسان طریقہ یہ ہے کہ جوجگھڑے کی جڑ ہے اس سے توبہ کرے؟اللہ یقیناً اسے معاف کر دے گا۔اور اس کی تمام چیزیں اور صلاحیتیں لوٹ آئیں گی۔ اس کے آئین میں معاف کا کوئی راستہ نہیں ہے سوائے توبہ کے۔دوسروں کے پیچھے بھا گنےسے یہ معاف کرادیگا وہ معاف کرادیگا۔ معافی ناممکن ہے کیوں کہ اللہ فرماتا ہے میں اپنی سنت کو تبدیل نہیں کرتا؟ نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ بقیہ مال متاع یہ جعلی قسم کے عامل کامل پیر فقیر لے جاتے ہیں۔ تمام مسلمانوں کو میرا مشورہ یہ ہے کہ وہ اپنے اپنے دلوں میں جھانکیں اور اس غفوراور رحیم کے دربار میں تو بہ کرکے رجوع کر لیں۔ جس کے بارے میں حضورﷺ کی حدیث ہے کہ اگر بند ہ پہاڑوں جیسا گناہ لے کر آئے تو بھی میں معاف کردونگا۔ سوائے حقوق العباد کے یہ خود اس کا اورصاحبِ معاملہ کا معاملہ ہے اسیممعاف کرانا پڑیگا، یا ادا کرنا پڑیگا۔ رہی دنیاہر مسلمان کو سختی سے منع ہے کہ کوئی اس کو اس کی سابقہ غلطیاں یاد نہ دلا ئے۔ ایک حدیث یہ بھی کہ اللہ تعالیٰ اس پرہنس نے والے کو پکڑلیتا ہےاور اس کو اپنی رحمت سے معاف کر دیگا۔بہتر یہ ہے کہ جہاں لوگ پریشانیوں میں گرفتار ہیں وہ اجتمائی توبہ کرلیں۔ آئیے اللہ سبحانہ تعالیٰ دعا کریں کہ وہ گناہ گاروں کوتوبہ کرنے کی توفیق عطا فرما ئے آمین۔
حضرت ابو سعید حدریؓسے روایت ہے(ایک طویل حدیث میں) کہ حضورﷺ نے فرمایا یہ مال خوشنما چیز ہے۔جوشخص اسے حق کے ساتھ(یعنی جائزطریقہ سے)حاصل کرے اور جائزموقعہ پرخرچ کرے تو وہ اچھی مدد دینے والی چیز ہے۔(بخاری۔ مسلم)
حضرت کعب بن مالکؓسے روایت ہے کہ میں نے عرض کیا کہ یا رسولﷺاللہ میرا عہد ہے کہ میں ہمیشہ سچ بولوں اور اپنے کل مال کو اللہ اورسول ﷺ کی نذر کرکے اس سے دست بردار ہو جاؤں ۔ آپﷺ نے فرمایا کچھ مال تھام لینا چاہیئے یہ تمہارے لیئے بہتر ہے۔ تو میں نے کہا وہ حصہ تھام لوں جو خیبر میں مجھ کو ملا ہے۔(ترمذی)
حضرت حدیفہ ؓ سے روایت ہے کہ نبیﷺ کریم نے فرمایا مومن کو لائق نہیں ہی کہ اپنے نفس کو ذلیل کرے۔عرض کیا گیا رسول ﷺ اللہ اس سے کیامراد؟ فرمایا جس بلا کو نہ سہار نہ سکے اس کا سا منا کرے(ترمذی)
اعمال صالح کی وجہ سے شہرت اللہ کی نعمت ہے۔حضرت ابو ذر غفاریؓ سے روایت ہے کہ رسولﷺ اللہ سے سوال کیا کہ کیاارشاد ہے ایسے شخص کے بارے میں جو کوئی اچھا عمل کرتا ہے اس کی وجہ سے لوگ تعریف کرتے ہیں؟اور دوسریجگہ میں یہ ہے کہ سوال اس طرح کیا تھا کہ کیا ارشاد ہے اس بارے میں کہ کوئی شخص اچھا کام کرے اور شہرت ہو لوگ اس سے محبت کرتے ہوں؟ آپﷺ نے ارشاد فرمایا کہ یہ تو مومن بندے کی نقد بشارت ہے۔(صحیح مسلم)
اصلام کی خوبی۔حضرت ابو ہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ رسولﷺ اللہ نے فرمایاآدمی کے اسلام کی خوبی اور اس کے کمال میں یہ بھی داخل ہے کہ وہ فضول اور غیر مفید باتوں کا تارک ہوتا ہے۔(ابن ِ ماجہ۔ترمذی)
بشارت ِ تبلیغ۔رسول ﷺاللہ نے فرمایااللہ تعالیٰ اپنے اس بندے کو سر سبز اورشاداب رکھے جو میریﷺ بات سنے پھر اسے یاد کرلے اور محفوظ رکھے اور دوسروں تک اسے پہنچا ئے۔بہت سے لوگ فقہ کے حامل ہوتے ہیں مگر خود فقیہ نہیں ہوتے۔اور بہت سے علم ِدین کے حامل اس کو ایسے بندوں تک پہنچادیتے ہیں جو ان سے زیادہ فقیہ ہوتے ہیں۔(سنن ابو داؤد۔ معارف الحدیث)
نوٹ۔ اس میں اس کی نفی ہوتی ہے جیسے علماء کہتے ہیں کہ صرف عالم ہی تبلیغ کا کام کریں ؟ اس دعامیں کم علم بھی شامل ہیں ۔عالم اور فقیہ شامل ہیںمیڈیا والے بھی شامل ہیں اور یہ نودرات آرکائی میں محفوظ رکھنے والے بھی شامل ہیں۔اللہ ثواب کمانے کی سبکو توفیق دے۔آ(مین)

SHARE

LEAVE A REPLY