( *خبردار کی کھوج کیمطابق )*
اسٹیشن ڈائریکٹر ریڈیوپاکستان پشاور عفت جبار مورخہ 12-اپریل کو اپنے عہدے سے ریٹائر ہوچکیں ہیں _ ( بزعمِ خود ) صوبے کی پہلی سٹیشن ڈائریکٹرخاتون کی حیثیت سے انہوں نے اپنے پورے کیئریرمیں اپنے عہدے کا غلط استعمال کیا اورجاتے جاتے ڈرامہ سٹوڈیوکواپنے مرحوم والد سے منسوب کردیاجس کے باعث ریڈیوسے وابستہ نامور اورسینئرلوگوں میں تشویش کی لہر دوڑگئی ہے۔ ملازمین اور سابقہ معروف براڈ کاسٹرز نے ایک بیان میں کہاہے کہ عفت جبارنے اپنی کرسی کا غلط اور ناجائز استعمال کرکے ڈائریکٹر جنرل ریڈیو پاکستان طاہر حسن کی منظوری سے ریڈیو پاکستان پشاور کے ڈرامہ سٹوڈیو کو اپنے مرحوم والد سید عبد الجبار (جو کہ ایک عام سینیئرپروڈیوسر کی حیثیت سے ریٹائر ہوئے) کے نام سے منسوب کرکے اسکا افتتاح صوبائی وزیرسے کروایا جس پر ملازمین اور سابقہ اسٹیشن ڈائریکٹر صاحبان نےجو اپنے دور کے معروف براڈ کاسٹرز رہ چکے ہیں شدید تشویش کا اظہار کیا ہے اور ڈائریکٹر جنرل ریڈیو پاکستان طاہر حسن سے اس غلط فیصلے کو فوری طور پر واپس لینے کا پور زور مطالبہ کیا ہے اور ساتھ میں یہ کہا ہے کہ اگر ڈائریکٹر جنرل ریڈیو پاکستان طاہر حسن نے اس فیصلے کو واپس نہ لیا تواس حق تلفی کے خلاف عدالت سے رجوع پر غور کیا جاسکتا ہے۔
ایک نامی گرام پروڈیوسر کا کہنا ہے کہ حیرت ہے، سید عبدالجبار مرحوم بہ حیثیت ایک انسان یقیناً قابل احترام تھے ، اچھے اور شریف آدمی تھے، تاہم بہ حیثیت پروگرام پروڈیوسر ان کی خدمات کبھی قابل رشک کے زمرے میں بھی شامل نہیں رہیں، وہ ساری زندگی بس بیرونی نشریات سیکشن یا زیادہ سے زیادہ شعبہ تقاریر سے وابستہ رہے اور عمر بھر ایک اوسط درجے کے پروڈیوسر رہے ۔۔اس سے پیشتر وہ مختلف سٹیشن ڈائریکٹرز کے پی اے رہے بعدازاں ڈیوٹی آفیسر اور پھر اسسٹنٹ پروڈیوسر سے ترقی کرتے کرتے پروڈیوسر اور سینئر پروڈیوسر کے عہدے تک پہنچے اور اسی دوران اللہ کو پیارے ہوگئے۔۔

ڈرامے کے شعبہ سے ان کا تعلق تو سید میثاق حسین زیدی مرحوم کی سٹپنی سے زیادہ کبھی نہیں رہا، میثاق حسین ان کو ڈرامہ سیکشن دلوا کر ڈرامے خود پروڈیوس کرتے تھے تاکہ ان سے ڈرامہ جانے کے بعد بھی سیکشن ان ہی کے قبضے میں رہے اور وہ ڈرامہ آرٹسٹوں کے ووٹ اباسین آرٹس کونسل کی مجلسِ عاملہ میں اپنے حق میں استعمال کرکے اس نیم سرکاری ادارے کی چودہراہٹ بھی قبضے میں کرتے رہنے کے علاوہ مرحوم عبدالجبار کے گھر کے پکوانوں خاص طور پر سری پائے سے کام ودہن کا ساماں کرتے رہے۔ سب سے زیادہ خدمات تو اردو ڈرامے کے شعبہ میں باسط سلیم صدیقی، عمر ناصر، میثاق حسین ، فقیر حسین ساحر، مشتاق شباب سردارعلی خان اور کچھ دیگر ساتھیوں کی ہیں، یہ تو نہ صرف ان نابغہ روزگار شخصیات کے ساتھ زیادتی ہے بلکہ ڈرامے کی توہین ہے۔
بہر حال اس غلط فیصلہ کی درستی ہونی چاہئے اورڈرامہ سٹوڈیو کو تمام قابل ذکر پروڈیوسرز کے نام سے مشترکہ طور پر منسوب کرکے ان کے ناموں کی یادگاری تختی لگا کر انکو خراج تحسین پیش کرنا چاہیئے ۔
واضح رہے کہ سٹیشن ڈائریکٹر عفت جبار نے اپنے عرصہ ملازمت کے دوران ہمیشہ اپنے عہدے کا غلط استعمال کیا ہے اور بے جا پروٹوکول نہ دینے والوں کو ہمیشہ اپنے انتقام کا نشانہ بنایا۔ حتیٰ کہ ایک خاتون سینئر پروڈیوسر نے انکے ذاتی اور انتقامی روئیے سے بچنے کیلئے 6مہینے جبکہ ایک پروگرام منیجر نے انکے ظالمانہ روئیے سے بچنے کیلئے 9 مہینے اور 10دن اور ایک دوسرے پروگرام مینجر نے 4ماہ کی چھٹی ہیڈ کوارٹر سے براہ راست لی ۔ دوسرے پروگرام مینجر نے سفارش لگاکر اپنا ٹرانسفر چترال کروایا ۔۔اس کے علاوہ گذشتہ برس دو ڈپٹی کنٹرولرز کا تبادلہ ہیڈکوارٹرز میں اپنا اثر و رسوخ استعمال کرکے انہیں بیٹھے بٹھائے اسلام آباد اور کوہاٹ سٹیشنوں پر بھجوایا۔۔ علاوہ ازیں موصوفہ نے اپنے ناپسندیدہ پروڈیوسرز کو کئی کئی مہینوں تک چھٹی نہیں دی جس سے متعلق کئی مرتبہ ہیڈ کوارٹر کو تحریری شکایات بھیجی گئیں لیکن ہیڈ کوارٹرنے انکے خلاف کوئی قانونی کاروائی کرنے کی زحمت نہ کی۔

اب جبکہ موصوفہ ریٹائر ہوچکیں اس تاریخی اور قومی ورثے کے حامل ریڈیو سٹیشن پر سٹیشن کی تاریخ میں پہلی مرتبہ شعبہء سیلز کے ایک کنٹرولر کی تعیناتی اس اہم اور پیشہ ورانہ عہدے پر کردی گئی ہے تا وقتیکہ رخصت پر گئے موصوفہ کے قریبی معتمد اور نورِنظر پروگرام مینیجر اکتوبر2023 میں رخصت سے واپسی پر ڈپٹی کنٹرولر(پروگرام) کی پوسٹ پر ترقی پاجائیں اور مذکورہ سٹیشن ڈائریکٹر کی جگہ نشست سنبھال لیں ۔یاد رہے کہ اسی پروگرام مینجر سے ایک دوسرے پروگرام مینیجر سینئر ہیں اور اس لحاظ سے اگلی ترقی کے حقدار ہیں . (اسمیں کوئی شک نہیں۔۔۔۔۔۔ پشاور سٹیشن پر موجودہ تین پروگرام مینجرز میں سینیارٹی کے لحاظ سے محمد طفیل باقی دو مینجرز سے سینئر ہیں جبکہ ستم ظریفی ملاحظہ ہو کہ ان سے جونئیر پروگرام مینجر عبدالمجید بلوچ کو ہیڈکوارٹر سے آئے ہوئے کنٹرولر سیلز کی جگہ سٹیشن ڈائریکٹرمقرر کیا جائے گا ۔مجید بلوچ سے قبل ان کی طویل رخصت کے دوران کنٹرولر سیلز(موجودہ سٹیشن ڈائریکٹر)جو ڈائریکٹر جنرل کا وہ منظور نظر ہے کہ جس نے سیلز سیکشن کی ساری کمائی اللوں پللوں پر خرچ کرنے کے لیئے قواعدوضوابط کے برخلاف ڈائریکٹر جنرل کے حوالے کردی تھی یہی بندہ موصوفہ کا بھی محض اس لیئے منظور نظر ہے لہٰذا یہ دو آتشہ موصوف کے حق میں نکلا تا کہ موصوفہ یکے بعد دیگرے بننے والے سٹیشن ڈائریکٹروں کی موجودگی میں سٹیشن میں ریشہ دوانیاں کرنے میں کوئی ہچکچاہٹ محسوس نہ کرتے ہوئے آزادانہ گھومتی پھرتی رہے۔
موصوفہ نے کلاس فور اور تھری سے لیکر سیکشنل ہیڈز تک سے 80 ہزار روپوں کا چندہ بٹورا اور آمدِرمضان سے ایک روز قبل ایک پرتکلف وپرتعیش تھری ڈش الوداعی تقریب بشمول محفلِ موسیقی سجا کر ڈائریکٹرجنرل طاہر حسن اور ان کے چہیتے مصاحبین میں سے ایک انجینئر مجدد کو اس دعوتِ شیراز میں مدعو کیا تھا ۔ اب ایسے میں طاہر حسن صاحب بھلا
موصوفہ کی ریٹائرمنٹ کو چار چاند نہ لگاتے ہوئے پشاور سٹیشن موصوفہ کے من پسند لوگوں کے حوالے نہ کرتے تو یہ سراسر بے وعدہ خلافی اور بےاعتنائی ہوتی ۔ موصوفہ نے طاہر حسن صاحب کی روشِ شاہانہ سے فائدہ اٹھاتے ہوئے چلتے چلتے یہ فرمائش بھی کرڈالی کہ موصوفہ کو پرائڈ آف پرفارمنس دلوانے کے لیئے متعلقہ محکمہ جات کو سفارش کی جائے حالانکہ عفت جبار نے اپنے سارے پیشہ ورانہ زندگی میں ایسا کوئی بھی کارنامہ سرانجام نہیں دیا ۔۔ موصوفہ نےساری سروس صرف اور صرف پشاور سٹیشن پر رہ کر بس گنتی اور بھرتی کے تین چار عام فارمیٹ کے پروگرامز تسلسل سے پیش کئے کہ دیگر پروگرام فارمیٹس اس کی بس اور ذہنی دسترس کی بات نہ تھی ۔

Time 9.30pm dated 12 April 2023.Car?
یہی عالم دفتری امور سےنابلدی کو اگر کتے اور اینٹ کی دشمنی کہا جائے تو بے جا نہ ہوگا۔ خبردار کو باوثوق ذرائع سے یہ بھی معلوم ہوا ہے کہ مورخہ 12 اپریل ہی کو وزارت اطلاعات ونشریات کے نئے چئیرمین سہیل علی خان کی صدارت میں بورڈ آف ڈائریکٹرز کی میٹنگ میں ایجنڈے پر دیگر نکات کے علاوہ صرف دو نکات پر ہی فیصلے ہوئے ۔ ایک ہائی پاور ٹرانسمیٹر مناواں لاہور اور ایچ پی ٹی روات راولپنڈی کی زمینوں کو سٹیٹ بنک آف پاکستان کو سات کروڑ ماہانہ کرائے پر دینے کی منظوری دی گئی ۔۔میٹنگ کا مزہ اس وقت کرکرا ہوا جب ڈی جی ریڈیو پاکستان نے پاکستان براڈکاسٹنگ اکیڈیمی ایچ 9 اسلام آباد کی عمارت کو کرائے پر دینے کی بات چھیڑی جوکہ ایجنڈے پر تھا ہی نہیں ۔۔سیکریٹری اطلاعات ونشریات نے برہمی کا اظہار کرتے ہوئے ڈی جی ریڈیو پاکستان کو متنبہ کیا کہ آئیندہ ایسے نکتے کو نہ چھیڑا جائے جو ایجنڈے پر نہ ہو ۔۔
۔یاد رہے ڈی جی ریڈیو ماہر انتظامی امور ہونے کے بجائے تاجرانہ ذہنیت کے مالک ہیں ۔۔خبردار کو یہ خبر بھی ہاتھ لگی کہ طاہر حسن صاحب اسلام آباد میں بچوں کی سویٹس بنانے والی ایک فیکٹری کے بھی مالک ہیں۔ لگے ہاتھوں یہ بھی پڑھتے جائیے کہ پشاور سے ریٹائر ہونےبوالی بسٹیشن ڈائریکٹر موصوفہ اپنے ازخود سجے سجائے دفترواقع فلور نمبر ایک میں رات گئے تک بیٹھی رہیں اور براڈکاسٹنگ ہاؤس کی عمارت کی دوسری منزل میں واقع اپنے برے وقتوں کے کمرے میں ذاتی سازوسامان اپنے چھوٹے بھائی کی نگرانی میں شفٹ کرتی پائی گئیں ۔۔اب یہ کیا سین تھا ؟؟؟ واللہ اعلم باالصواب













