زندگی بہت مختلف تجربات کا نام ہے کچھ اپنے تجربات سے سیکھتے ہیں اور کچھ حالات کی وجہ سے، پر سیکھتے دونوں ہی ہیں پر فائدہ ہر کوئی نہیں اٹھاتا۔ کیونکہ ان تجربات سے انسان کے نظریات اور سوچ کے پہلو بدل جاتے ہیں جو لوگ دنیا کو بدلنا چاہتے ہیں وہ ان مراحل سے گزر کر سیکھ لیتے ہیں کہ بدلنا خود کو پڑتا ہے دوسروں کو نہیں کیونکہ تبدیلی اندرونی طور پر پرورش پاتی ہے اور اسکا اثر ظاہر میں نظر آتا ہے اور کچھ تبدیلیاں دماغ کی پختگی یا میچورٹی تک لے جاتی ہیں

زندگی میں ہمارے کئ تجربات ایسے ہوتے ہیں جو ہماری سوچ کو نقطہ نظر کو بدل کر رکھ دیتے ہیں جو چیزیں ہم کو بہت اہم لگتی ہیں وہ اپنی اہمیت کھو دیتی ہیں کیونکہ شعور پروان چڑھ رہا ہوتاہے اور ہم جان لیتے ہیں کہ جو ہونا ہے وہ ہو کے رہنا ہے اور جو ہو کر رہنا ہے اس پر راضی ہو جاو، ہماری سوچ کی وسعت کم ہوتی ہے اور اسکی وجہ سے ناکام ہو سکتے ہیں پھر ہم کو اس طریقے کی طرف دیکھنا پڑتا ہے جو رب نے ہمارے لئے وضع کیا ہوتا ہے۔ ہم اللہ کی رضا کو قبول کرنا اور راضی رہنا سیکھ لیتے ہیں۔ ہر چیز میں خیر پوشیدہ ہے یہ بات ہم کو سمجھ آنے لگتی ہے اور ایسے میں ہم ان لوگوں کی بھی سمجھ آنے لگ جاتی ہے جو نہ تو خود سیکھتے ہیں اور نہ کسی کو سیکھنے دیتے ہیں کیونکہ وہ اپنی انا کے مقام پہ پھنس چکے ہوتے ہیں ان کو اپنی زاتی عزت ہر شے سے پیاری ہوتی ہے پر میچور انسان عمل ایسے کرتا ہے جس میں اس کا نفس نہیں روح خوش ہوتی ہے اسے یہ ہنر آ چکا ہوتا ہے اصل خوشی دوسروں کو خوش رکھنے کا نام ہے ہمیں یہ احساس ہوجاتا ہے کہ ہمارا ذہنی سکون اصل میں اندر کا سکون ہے جو کسی بھی چیز سے زیادہ اہم ہے
ایسے میں یہ سمجھنا اور قبول کرنا ضروری ہوتا ہے کہ ہر انسان پیدا تو ایک فطرت پہ ہوا ہے پر پرورش اور نشوو نما مختلف ہوئی ہے جسکی وجہ سے ہر انسان دوسرے سے مختلف نطریات رکھتا ہے آپ اپنی سوچ کسی پہ مسلط نہیں کر سکتے بلکہ صبر اور شکر کا دامن تھام کر ان کے ساتھ رہتے ہوئے اپنی ایک الگ دنیا بنا لی جاتی ہے اور ایسی حالت میں ہر بات کا جواب دینا ضروری نہیں ہوتا۔ اور انسان خود کو درست ثابت کرنا چھوڑ دیتا ہے اس کے اعمال اسکی درستگی کا بتا دیتے ہیں بہت سارے مشکل مراحل آتے ہیں آپ کا امتحان لینے آپکے ذہن کی پختگی کو آزمانے پر میچور انسان کبھی خاموش رہ کر کبھی چند الفاظ ادا کر کے اپنے اندر کے سکون سے باہر کے شور کو ختم کر دیتا ہے اور یہ عقل کو تسلیم کرنے اور نفس کو غلام بنانے سے ہوتا ہے آپ کا قلب آپ کے نفس یعنی خواہشات کا حکمران ہوتا ہے نہ کہ نفس کے تابع اور ایسے انسان پر دنیا اور آخرت کے اصل حقائق کے در کھلنے لگتے ہیں کیونکہ ایسا انسان عافیت کے راستہ کا مسافر بن چکا ہوتا ہے

SHARE

LEAVE A REPLY