آج ریڈیو سیٹ نکالا تو یادوں کا ایک دبستان کھل گیا۔حسین محمود

0
814

خبریں سننے کا اپنا ایک لطف ہوتا ہے، لیکن خبریں نشر کرنے کے جو قابل اعتبار ادارے ہوتے ہیں ان کی خبریں سننے کا الگ ہی لطف ہوتا ہے. جب ہم شمالی وزیرستان میں دنیا اور اس میں ہونے والے واقعات سے خود کو با خبر رکھنے کی کوشش کرتے تھے تو وہاں چونکہ ٹیلی ویژن نہیں تھا اور جب آیا بھی تو اس کو گھر میں رکھنا معیوب سمجھا جاتا تھا اور بعض گاؤوں میں تو ٹی وی لگانے پر اس قدر سخت پابندی تھی کہ اگر کوئی لگا لیتا تھا تو گاؤں کے لوگ اس سے مقاطعہ کر لیتے تھے، ان کے جنازے نہ پڑھنے کا اعلان ہوتا تھا. کسی زمانے میں ریڈیو سننے پر بھی پابندیاں تھیں. لیکن وہ ہمارے وقتوں سے پہلے کی بات ہے.

جب ہم اسکول میں پڑھتے تھے تو بی‌بی سی کا بڑا چرچا تھا اور اس ادارے کی خبریں نہایت مصدقہ سمجھی جاتی تھیں، مجھے بھی سننے کا اتفاق ہوا، تو اس کا اتنا اسیر ہو گیا کہ اس کے لیے اچھے سے اچھے ریڈیو کی تلاش کرتا تھا تاکہ خبریں صاف اور ٹھیک طرح سے سنی جا سکیں، چنانچہ اس کے لیے اور بھی کئی طرح کے ریڈیو سیٹ رکھے تھے لیکن یہ ریڈیو سیٹ واقعی ہر لحاظ سے فقید المثال تھا. بس پھر کیا تھا جب سے بی‌بی سی کے نام اور کام سے واقف ہو گئے ہم اسی ادارے کی خبریں سنتے رہے، اگر چہ عالمی خبریں تو تقریباً ایک طرح کی ہی ہوتی تھیں لیکن چونکہ اس ادارے کے لوگوں کی زبان بھی زیادہ مستند، درست اور شیریں ہوتی تھی سو اس سے اردو، پشتو، فارسی اور انگریزی کی خبریں سنا کرتے تھے.

انگریزی سروس سے وابستہ ایک رپورٹر مارک ٹیلی بڑا معروف تھا اور اچھی رپورٹس پیش کرنے اور تیار کرنے کا اس کو جنون تھا. ہر جگہ پہنچ جاتا تھا حتی کہ میدان جنگ سے بھی لایو رپورٹ کیا کرتا تھا.
اردو سروس یاور عباس، رضا علی عابدی، شفیع نقی جامعی، زبیر احمد، محمد حنیف، راشد اشرف، آصف جیلانی، صفدر ہمدانی، مہ پارہ صفدراور شاہد ملک وغیرہ ہوتے تھے.
پھر مجھے اس ادارے کو خطوط لکھنے کا شوق چرایا، چنانچہ ہفتہ وار پروگرام. آپ کا خط ملا، عارف وقار صاحب پیش کیا کرتے تھے، اس میں خطوط بھیجنا شروع کیا. جب بھی میں نے شمالی وزیرستان سے کوئی خط لکھا تو یہاں سے نہ صرف پورے اہتمام سے نشر ہوا بلکہ اکثر تو پروگرام کا آغاز ہی میرے خط سے ہوتا تھا، جب میں دریائے ٹوچی کے کنارے نکل کر اپنا خط بی‌بی سی سے سنتا تھا تو بڑا لطف آتا تھا، درجنوں خطوط لکھے اور ایک بھی ایسا نہیں تھا جو اس ادارے سے نشر نہیں ہوا، اس ادارے نے مجھے مستقل مکتوب نگاروں کی فہرست میں شامل کر دیا.
جب شہروں کی طرف آ گئے تو ریڈیو کا رواج بھی کم ہوتا گیا. اب بی‌بی سی بھی اپنی نشریات بند کر چکا ہے. وہ خبریں سنانے والے بھی نہیں رہے، سننے والے بھی بدل گئے لیکن فیس بک پر اس ادارے سے ماضی میں وابستہ کچھ لوگوں سے رابطہ برقرار ہے.
ہائے ہائے کیا زمانہ تھا، اب لد گیا. آج وہ ریڈیو سیٹ نکالا تو اس کے ساتھ یادوں کا ایک دبستان کھل گیا.ایک رات مجنون نے لیلی سے کہا کہ آپ کو عاشق تو شاید میرے بعد بھی مل جائیں لیکن ان میں کوئی مجنون نہیں ہو گا. بی بی سی کو بھی اب یہی کچھ کہا جا سکتا ہے.اب وہ لوگ کوئی کہاں سے لائے؟
شبی مجنون بہ لیلی گفت کای محبوب بی ہمتا
ترا عاشق شود پیدا ولی مجنون نخواہد شد.

حسین محمود

SHARE

LEAVE A REPLY