گاہے گاہے بازخواں ایں ۔۔قسط نمبر 23 ,نصرت نسیم

0
987

اس سے پہلے خود نوشت میں آنے والے کچھ کرداروں سے آپ کا تعارف کروایا ۔۔کچھ مزید کردار ایسے ہیں ۔کہ ان کے بارے میں بتانا ضروری ہے ۔یہ میری تین خالاؤں کی کہانی ہے ۔جس پر سوچا تھا کہ ناول لکھونگی مگر اتنی فراغت وفرصت میسرنہ آ سکی ۔۔اورجانے کاتب وقت نے اور کتنی مہلت ومدت لکھ رکھی ہے ۔تو کیوں نہ لمحہ ءموجود سے فائدہ اٹھاوں اور مختصرا”ان کی کہانی آپ کو سناؤں ۔
تین عورتیں تین کہانیاں
تین عورتیں تین کہانیوں میں پہلی کہانی بجو کی ہے. جن کا اصل نام مہر نگار تھا. اور یہ پھپھو اماں کی واحد اولاد تھیں. جنہوں نے باپ کی وفات کے کچھ عرصے بعد اس عالم آب و گل میں آنکھ کھولی. کچھ بڑی ہوئیں تو بیوہ ماں کو روتے دھوتے محنت مزدوری کرتے دیکھا. پھر ڈیڈی انہیں اپنے گھر لے آے. اور لڑکپن انہوں نے ڈیڈی کے دوبچوں دیدی اورانکل کو کھلاتے گزارا. اسی گھر کے ایک حصے میں ڈیڈی کے بڑے بھائی جو وفات پا چکے تھے. ان کی بیوہ اور بچے رہتے تھے. بجو ابھی بہت چھوٹی تھی کہ اس زمانے کے رواج کے مطابق ان کا نکاح ڈیڈی کے سب سے بڑے بھتیجے سے کر دیا گیا جب کہ وہ بھی ابھی کم عمر تھا. جب یہ جوان ہوا تو اپنی مرضی سے کسی عورت سے شادی کرکے اسے گھر لے آیا. اس کے اس عمل سے ڈیڈی شدید غم . و غصے کا شکار ہو گئے .اور انہوں نے دل میں عہد کر لیا کہ وہ اس کے چھوٹے بھائی سے دیدی کی منگنی بھی ختم کر دیں گے. کیونکہ یہ بات ان کی غیرت وحمیت کے منافی ہے. کہ ان کی بیوہ بھانجی کے ساتھ یہ ظالمانہ سلوک ہو اور وہ خوشی خوشی اپنی بیٹی کا رشتہ طے کرتے پھریں. یہ نہیں ہو سکتا. اب اسی گھر میں وہ اپنی منکوحہ لے آیا جسے دیکھ کر سب دانتوں تلے انگلیاں داب لیتے اور سب کو یقین آجاتا کہ محبت اندھی ہوتی ہے. بجو جیسی خوبصورت، نیک سیرت کو چھوڑ کر جس کو لے کر آے. اس کے بارے میں اب کیا لکھوں. مختصر یہ کہ دن رات کافرق تھا. اس پر ان کی زبان سے وہ پھول جھڑتے کہ اللہ دے اوربندہ لے. زرا سی غلطی پر وہ بے نقط سناتیں اور یہ خاموش تھر تھر کانپتے رہتے. پھر اولاد بھی نہیں ہوی ساری زندگی اسی عورت کے ساتھ گالیاں اورجھڑکیں کھاتے گزار دی. دیکھنے والے اسے مکافات عمل کہتے کہ بجو کی زندگی خراب کی تو خود بھی سکھ نہیں پایا. کیونکہ خود تو شادی کرلی. مگر بجو کو طویل عرصے لٹکاے رکھا اورطلاق نہ دی. اور جب دی تو کافی عمر ہو چکی تھی. پھر بھی اکا دکا رشتے آجاتے. جنہیں نکاح کا بتا کر بھگا دیتے. بالآخر بجو نے اعلان کر دیا. کہ بس اب اس عمر میں انہیں شادی کا کوئی شوق نہیں. وہ ایسے ہی ٹھیک ہیں. اور اپنے جہیز کا بکس کھول کر سارے کپڑے دیدی آنٹی میں بانٹ دیے. ماں نے کن ارمانوں سے بیوگی میں جہیز اکٹھا کیا تھا.وەروتی دھوتی رہ گئیں. کیسے پیارے پیارے کپڑے، اور ان کے نام کتنے مزے کے تھے.
کریپ، دل کی پیاس، تیری میری مرضی، شیشہ جارجٹ، شنیل، مخمل، لتہ، شنگھائی وغیرہ وغیرہ یہ لکھتے ہوئے پتہ نہیں کیوں ایک شعر بار بار در دل پر دستک دیے چلا جا رہا ہے
بے تابیاں سمیٹ کر سارے جہان کی
جب کچھ نہ بن سکا تو میرا دل بنا دیا
بجو کی زندگی درد وغم کا مرقع تھی. مگر شادی نہ کرنے کے فیصلے کے بعد وہ یکسو ی اور تندہی سے ماموں کی خدمت اورگھر داری میں مصروف ہو گئیں.بجو کا نام ہی مہر نگار نہ تھا ۔وہ حقیقت میں پیکر مہر و وفا تھیں ۔ہر ایک سے پیار کرنے والی، خیال رکھنے والی اپنے منہ کا نوالہ بھی دوسروں کو کھلانے والی ۔ہم بچے اس کا خوب فائدہ اٹھاتے ۔وہ ہمیشہ اپنے حصے کی چیز بچوں کے لیے رکھ دیتیں ۔ان کے دل میں کسی کے لئے کوئی بغض یا برائی نہ ہوتی ۔اس کا اندازہ اس بات سے لگائیں کہ جن لوگوں نے ان کی زندگی خراب کی ۔ان کے لیے بھی دل میں کوئی برائی یا گلہ نہ تھا ۔کوئی چیز پکاتیں تو اس عورت کے لئے بھی بھجواتیں جو ان کی سوکن بن کر آئی گھر میں. ۔آنٹی ان کے اس عمل سے روکتیں تو بڑے رسان سے کہتیں چھوڑو رات گئ بات گئ ۔مجھے دیکھو جب میں نے دل میں کوئی بات نہیں رکھی۔تو تم لوگ کیوں ایسا کرتے ہو ۔مگر بجو جیسا دل کوئی کہاں سے لاے ۔کہ جس میں چھوٹے بڑے دوست دشمن سب کی محبت رچی بسی تھی ۔عمرے کے لئے گئیں تو ملنے جلنے والے بےشمار لوگوں کے لئے نفل پڑھ پڑھ کر دعائیں کیں ۔ہر ایک کو دعائیں دینا ان کا وطیرہ تھا ۔اور اسلئے سب لوگ ان کی بےحد عزت و تعظیم کرتے ۔اور ان سے دعائیں کرواتے ۔کہ یہ کنواری بی بی ہے اس زمانے کی آٹھویں جماعت تک پڑھی ہوئی تھیں. اخبار اور میگزین آخیر عمرتک شوق سے اور سارے کا سارا پڑھتیں. عبادت کا تو مت پو چھیں.جیسے ہی فارغ ہوتیں قرآن پڑھنے بیٹھ جاتیں. ذکر ازکار کے علاوہ نفلی روزے اتنی کثرت سے رکھتیں کہ سب منع کرتے رہتے اوران کا جواب ہوتا. کہ پیسے والے تو صدقہ خیرات دیتے رہتے ہیں. میں کیا لے کر جاونگی. ماں تو وہ نہیں بنی مگر مامتا کا ایسا بےپناہ جذبہ تھا. کہ بچے بچے سےوالہانہ پیار تھا. دوسروں کی خوشی میں خوش ہونا اور غم پر رو دینا یہ بجو جیسے صاف صاف دل لوگ ہی کر سکتے ہیں ہیں دل کی اتنی صفائی اور خلوص نیت شاید ہی میں نے کسی میں دیکھا ہو. چونکہ وہ خود بہت مخلص اور پیار کرنے والی تھیں. لہزا جوابا لوگوں کے رویے دیکھ کر برداشت نہ کر پاتیں. اور رونے لگتیں. روٹھ جاتیں. کئ روز تک کھانا پینا چھوڑ دیتیں سب منت سماجت کر کر تھک جاتے تو نہ مانتی. پھر خود ہی من جاتیں. شروع میں ایسا نہیں تھا. پھپھو اماں کی وفات کے بعد اور کچھ خود عمر رسیدہ ہونے پر یہ روٹھنے رونے والی عادت پختہ ہو گئ. جس کے ہاتھوں سب نالاں رہتے. ایک اور عادت جو سب کو ناپسند تھی. وہ ان کا ہر جگہ جانے پر اصرار کرنا. حت الواسع ان کی طبیعت کے پیش نظر سب خیال کرتے کہ انہیں ساتھ لے جائیں. سو جب جانا ہوتا تو خوشی وجوش دیدنی ہوتا. رومال تک استری کرکے بیگ میں رکھتیں. مگر واپسی کے سفر میں اس کے الٹ پژمردگی چھائی ہوتی. ایسے میں بس زرا اونچ نیچ ہوی اور بجو ناراض ہو کر بستر پر پڑگییں یا پھر قرآن مجید لے کر پڑھنے بیٹھ جاتیں اور پڑھے چلی جاتیں. کوئی خوشی کا موقع ہو کچھ ایسا ہوجاتا کہ وہ خوشی ان کے لئے غم بن جاتی. مثلاا” انکل کی شادی کے لئے گوٹے کاسوٹ بنوایا اور عین تیار ہوتے وقت شلوار کھو گئ. روتے دھوتے شادی گزری .شادی کے 3ماہ بعد بڑے بکس کے پیچھے سے شلوار ملی تو اٹھا کر پرے پھینکی اور دوبارہ رونے بیٹھ گئ. یہ داستان اتنی لمبی ہے کہ پوری کتاب میں بھی نہ سمائے .بس سب نے سمجھ لیا کہ ہر موقع پر بجو نے روٹھنا ضرور ہے.
میرے اور جگنو کے ساتھ جو محبت تھی اس کا زکر تو آگے کہانی میں آے گا. مگر ہم چھ بہن بھائیوں کو وہ اپنے بچوں سے بڑھ کر سمجھتیں. اور سب ہی ان کا خیال رکھتے. جس پر وہ فخر کرتیں. انہوں نے طویل عمر پائی اور ہمارے نواسے نواسیاں بھی انکی محبت سے مستفیض ہوے. انکل، میری بہن صبیحہ ان کے بیٹے عدنان نے ان کی ایسی خدمت کی کہ سگی ماں کی بھی کوئی نہ کرے. بعد میں ان کی بہو زینب نے بھی خوش دلی سے خدمت کی اور دعائیں لیں. نئے کپڑوں کی بے حد شوقین تھیں. رسال پور کے قریب رشکئ شیرین کوٹھے کپڑوں کی بڑی مارکیٹ ہے. میں ان کے لئے جوڑے لے کر جاتی تو ڈھیروں ڈھیر دعائیں لے کر آتی. اور پھر جب جب جوڑا پہنتیں تو دعائیں دیتی جاتیں.

اللہ نے محتاج نہیں کیا. آخر تک چلتی پھرتی رہیں. روزے نفل کچھ نہیں چھوٹا ان سے.
آخری کچھ دن چپ چاپ بستر پر لیٹی رہیں. آخری دن بار بار وضو کرواتیں اور کہتی چپل دو میں اپنے گھر جا رہی ہوں. وہ جس نے کبھی اپنا گھر نہیں دیکھا. اپنے ابدی گھر روانہ ہوگیں. افسوس میں ان دنوں فری کے پاس کینیڈا گئ ہوئ تھی. یہ خبر سن کر سارا دن روتی رہی. وہ تو دعاوں کا خزانہ تھیں -دعاوں کا در بند ہو گیا اس دن الہدی میں فرحت ہاشمی کی کلاس تھی. اور تمام کلاس نے ان کے لئے دعاے مغفرت کی.
اور اب میں جو کچھ پڑھتی ہوں. ان کو بخشتے ہوے ہمیشہ یہ دعا کرتی ہوں کہ ان کے بچے نہیں تھے. یا اللہ مجھے ان کا صدقہ جاریہ بنا اور میرے ہر اچھے عمل کا ثواب انہیں پہنچا آمین ثم آمین
ایک محروم چلے میر ہم ہی عالم سے

ورنہ عالم نے زمانے کو دیا کیا کیا کچھ

.دیدی :ڈیڈی کی پہلی بیوی سے اکلوتی بیٹی جن کا اصل نام تو بلقیس تھا. مگر پیار سے سب بلو کہتے. ان کی شکل اپنی مرحومہ سے ملتی تھی جو ڈیڈی کو بےحد محبوب تھی. اور اس لئے دونوں بچوں میں دیدی ان کی آنکھوں کا تارا تھی.دیدی تھی بھی بےحد خوبصورت بڑی بڑی آنکھیں، گوری چٹی رنگت، کشادہ پیشانی اور گھٹنوں سے نیچے گھنے بالوں کی ناگن سی لہراتی ہوی. ان کے اس قیامت خیز حسن کی وجہ سے جب بھی سکول میں ڈرامہ سٹیج کیا جاتا. انہیں ملکہ یاشہزادی بنایا جاتا .

بجو بتاتی تھیں. کہ جہانگیر والے ڈرامے میں انہیں ملکہ نورجہاں بنایا گیا. تو لوگ ان کی تعریف کرتے نہیں تھکتے تھے. دیدی ڈیڈی کی پہلی بیوی سے تو انکل دوسری بیوی کے بطن سے تھے. اس لحاظ سے ماں کی طرف سے سوتیلے تھے. مگر آپس میں اتنا پیار تھا کہ کبھی یہ محسوس نہیں ہوا کہ مائیں الگ الگ ہیں. دیدی کی منگنی ڈیڈی کے دوسرے نمبر کے بھتیجے سے طے تھی. اور جیسا کہ پہلے لکھ چکی ہوں. کہ بجو کی وجہ سے ڈیڈی نے دیدی کی منگنی بھی توڑدی.دیدی کے بے مثال حسن کی وجہ سے بہت رشتے آیا کرتے. مگر یہ منگنی ٹوٹنے کے بعد تو ڈیڈی نے ایک نہ پکڑ لی. ان کے دوستوں نے انہیں بہتیرا سمجھایا. مگر وہ ٹال جاتے.
گھر آتے ہی ڈیڈی سب سے پہلے دن بھر کی کمائی دیدی کے حوالے کر دیتے. دیدی بھی باپ کو دیکھ کر کھل اٹھتی. باپ بیٹی کی محبت مثالی تھی. اور اس مثالی محبت پر دیدی کی باقی خوشیاں قربان ہوگیں. کہ دیکھتے دیکھتے بالوں میں چاندی اتر آئی اور اچھے اچھے رشتوں کی بھیڑ چھٹ گئ. انکل کے لندن جانے کے بعد تو ڈیڈی اور بھی حساس ہوگئے اب ان کے دوست اگر سمجھاتے تو کہتے کہ اس کو رخصت کرکے مجھے زندہ قبر میں دفن کر دینا اس کے بغیر تو میں جینے کاتصور بھی نہیں کر سکتا. ہاے بےچاری لڑکیاں کہ کبھی نفرت کی بھینٹ چڑھا یجاتی ہیں تو کبھی پیار کی شدت میں پیار کے معبد میں قربان ہو جاتی ہیں.دیدی نے ماں کا پیار نہیں دیکھا تھا. ڈیڈی اور اس کا پیار ہی اس کی کل کائنات تھی. یا پھر اپنا گھر بسانے کی آرزو اور آس کہ اب تک قائم تھی. اور اس امید اورآس میں انہوں نے ایک سے ایک خوبصورت اور نایاب چیزیں اکٹھی کر رکھی تھیں. اور بڑے شوق سے وہ بار بار ان چیزوں کو نکال کر دیکھتیں. کپڑوں میں تمباکو اور کافور کی گولیاں رکھتی. بار بار کی دیکھی پوی چیزوں کو میں ہر بار بڑے شوق سے دیکھتی کہ وہ سب کچھ تھا ہی اتنا خوبصورت. دیدی کی پسند بھی بہت اچھی تھی. اور آخر وقت تک کپڑا زیور جوبھی پہنتی بہت میعاری ہوتا اوران پر خوب جچتا..دیدی کی شادی نہیں ہوی. بچے نہیں تھے. مگر مامتا کا جذبہ بہت تھا بچے بہت اچھے لگتے اور دل وجان سے ان کی خدمت کرتیں . مجھے میری امی سے لیا گیا. تو میں ان ہی کے پاس سویا کرتی. کہ بقول بجو کہ دن کو توباریاں رکھی ہوی تھی. اٹھانے اورکھلانے کے لئے ایک دوسرے سے لڑتے. کہ اس گھر میں ابھی سب کنوارے تھے اور کوئی بچہ نہیں تھا. صرف میں تھی. اور اس زمانے میں درزی کے ہاتھ کی سلی ہوی فراکیں اورریڈی میڈ فراک پہنا کرتی. خیر پھر انکل کے جانے کے بعد میرا بھائی جگنو بھی آگیا. تو جگنو بھی دیدی کے پاس سوتا اور دیدی وڈیڈی کی محبت کا مرکز تھا. پھر انکل کی شادی کے بعد بھتیجے بھتیجوں میں جان تھی اور انہیں بڑے شوق سے پالا. تو ماں کی محبت کو ترسی پوی دیدی کے اندر مامتا کے جذبات اور پیار کی ایسی شدت تھی.
دیدی کی حیثیت گھر میں بھی ملکہ کی سی تھی. کبھی کوئی سخت کام نہیں کیا. حساس بھی بہت تھیں. جب بھی کوئی ناگوار صورت حال پیش آتی. فورا” الٹیاں لگ جاتیں اور کئ روز تک بستر سے جالگتیں. ڈیڈی نے دیکھتے ہی دیکھتے اس دنیاے فانی سے عالم بقا کے لیے رخت سفر باندھا اور دیدی رو رو کر ہلکان ہوگئیں. دیدی کی زندگی اور واقعات ایک ضخیم کتاب کے متقاضی ہیں لہذا قصے کو مختصر کرتے ہیں ۔انکل کی شادی کے ہنگاموں میں اور بعد ازاں بھائی کے بچوں میں مگن ہو گئیں ۔دنیا امید پر قائم ہےاپنے گھر اور بچوں کی خواہش ابھی ان کے دل میں موجود تھی پھر ایک بہت اچھے خاندان سے رشتہ آیا ۔جو انہوں نے قبول کر لیا ۔ان صاحب کے جوان بچے تھے ۔بیوی فوت ہوگئ تھی ۔سادگی سے شادی ہوئی نسیم دولہا کو لے کر اندر آے تو رونا آگیا ۔دیدی کا حسن تو اب بھی برقرار تھا ۔اور دولہا بس قدرت کے رنگ نرالے
دیدی کی شادی اتنی دیر سے ہوئی ۔کہ اس وقت تک میری شادی ہو چکی تھی ۔اور فری بھی 6ماہ کی تھی ۔دیدی گھومنے پھرنے اچھے کپڑوں اچھی چیزوں کی شوقین تھیں ۔بہت زندہ دل تھیں اب ستم ظریفی دیکھیں ۔کہ جس صاحب سے شادی ہوئی وہ انتہائی ٹھنڈے مزاج کے یا دوسرے لفظوں میں سرد مہر کہہ لیں ۔ایسے سرد مہر کہ نہ غم کی بات پر غم کریں اورنہ خوشی کی بات پر خوشی ۔ان کو دیکھ کر کڑھ کر رہ جاتیں ۔مگر ان پر کوئی اثر نہ ہوتا ۔بچے بھی نہ ہوسکے ۔
دیدی کی بھی ساری عمر غموں اوردکھوں میں گزر گئ ۔اور ان غموں نے ان کے اعصاب اور زہن کو متاثر کیا ۔اب وہ بھی بجو کی طرح بات بات پر روٹھ جاتیں ۔ناراض ہو کر بے نقط سناتیں ۔روتی رہتیں پھر خود ہی راضی ہوجاتیں ۔کبھی چھوٹی سی بات پر خوش ہو جانا کبھی چھوٹی سی بات پر رو دینا ۔بس ایسے ہی زندگی گزری ۔ہمارے علاوہ بھائی اور بھائی کےبچوں سے بے اندازہ پیار تھا ۔بچے اچھے لگتے تھے تو سوتیلے پوتوں سے بھی خوب پیار کیا ۔میاں کی وفات کے بعد کچھ عجیب سی حرکتیں کرنے لگیں جو پہلے ہم لوگ نہیں سمجھ پاے ۔آخر سینے میں دل ہی توتھا نہ سنگ وخشت درد سے بھر کیوں نہ آتا ۔پیمانہ لبریز ہو کر چھلک پڑا ۔دماغ نے اہستہ آہستہ ساتھ چھوڑ دیا ۔ہوش وخرد سے بیگانہ ہو کر سال سوا سال زندگی کے دن پورے کئے ۔آفرین ہے صبیحہ پر کہ دل وجان سے خدمت کی ۔شادی سے پہلے افشین نےبھی خوب خدمت کی ۔افشین کی شادی ہوگئ تو صبیحہ کے ساتھ ان کی بہو زینب نےبھی خدمت کا حق ادا کیا ۔
اور آخر طویل بیماری کے بعد وہ ڈیڈی کے ساتھ جاملیں ۔اللہ ان کی قبر کو جنت کا باغ بناے اور ان دکھوں کے بدلے جنت الفردوس میں اعلی مقام عطا فرمائے
جیسا خدمت کا حق تھا ۔وہ تو بوجوہ ادا نہ کر سکی ۔مگر اب جو بھی عبادت کروں ۔سب سے پہلے دیدی اور بجو کو یاد کرتی ہوں ۔اللہ سے گڑگڑا کر دعا مانگتی ہوں کہ یا آللہ تجھے پتہ ہے کہ ان دونوں کی کوئی اولاد نہیں مجھے ان کی اولاد کی جگہ ان کا صدقہ جاریہ بنا ۔ان کے درجات بلندکررحیم وکریم رب!
صد موسم گل ہم کو تہہ بال ہی گزرے
مقدور نہ دیکھا کبھی بے بال وپری کا
ابھی تیسری خالہ کی کہانی باقی ہے مگر میرا دل دماغ تھک گئے ۔یہ سب لکھنا بہت ازیت ناک تھا ۔لہذا تیسری کہانی آئندہ بشرط زندگی
رہے نام اللہ کا

نصرت نسیم

SHARE

LEAVE A REPLY