حضور ﷺ کے وصال کےبعد سے ہمارا وطیرہ فروغ انتشار کیوں ہے۔اس کے باجود کے انہوں ﷺ نے صحابہ کرام (رض) عہد لیا تھا کہ دیکھو تم میرے بعد آپس میں لڑنا مت؟ لیکن ہم نے جانے کیوں نافر مانی کی قسم کھا رکھی زبانی دعوے تو محبت کے بہت ہیں مگر جو ان سے محبت کا تقاضہ ہے۔ اس کاعکس ہمارے عمل میں کہیں بھی دکھا ئی نہیں دیتا؟ جبکہ اللہ سبحانہ تعالیٰ کا بھی تاکیدی فرمان ہے کہ“ جو مجھ سے محبت کادعویدار ہیں ان سے فرما دیجئے کہ وہ آپ اتباع کر یں“ مزید تاکید یہ بھی ہے کہ“ تمہارے لیئے تمہارے نبی کے اسوہ حسنہﷺ میں بہترین نمونہ ہے“ اور یہ بھی حکم ہے کہ جب بھی تم میں کسی بات اختلاف ہو جا ئے تو اللہ و رسولﷺ سےرجوع کرو؟ میرا علم محدود ہے جس کا مجھے اعتراف ہے۔ لیکن میں نے اپنی اس طویل عمر میں مسلم امہ کو کبھی ایسا کرتے نہیں دیکھا جیسا کہ یہ حکم ہے؟ آخر ہمارے قول اور فعل میں تضاد کیوں ہے۔ شاید اس لیئے تو نہیں کہ ہم سچ بولنے اور حق کہنے سے ڈرتے ہیں۔ حضور ﷺ نے نجران سے آنے والے ا نصار کے وفد کو اسی دلیل سے لا جواب کردیا تھا؟ جب انہوں نے اس آیت پر اعتراض کیا کہ “ انہوں نے اپنے علما ء کو خدا بنا رکھا ہے “ تو حضور ﷺ نے صرف یہ پوچھا کہ کیا تم یہ نہیں کرتے کہ اپنی کتاب سے رجوع کر نے کے بجائے اپنے علماء کی بات مانتے ہو تو وہ لا جواب ہو گئے ۔ کیا اس آئینہ میں ہم خود کو نہ دیکھیں؟ اگر دیکھیں گےتو ہمارے خداو خال ہم پر واضح ہو جا ئیں گے۔ علما ء کرام کے آگے میرا کچھ کہنا ایسا ہے جیسے کہ سورج کا منہ چڑانا جس کے لئے میں معزرت خواہ ہوں ۔ مگر مجھے اپنے قوم کی افرا تفری پر حیرت ہوتی ہے۔ شاید ان کی نظر سے سورہ اعراف کی آیت نمبر6 نہیں گزری جس میں اللہ سبحانہ تعالیٰ نےتنبیہ فرما ئی ہے اورخبر دار فرمایا ہے کہ “نبی (ص) سے ہٹ کر کسی اور کی تابع داری نہ کرنے لگنا ورنہ حکم عدولی پر سزا ملے گی “اسے پڑھ کر جو صاحب ِ تقویٰ ہیں انکی تو چیخیں نکل جانا چا ہیئے۔ جبکہ علماء عظام سے زیادہ متقی کون ہو سکتا ہے۔ اور علما ء پوچھنا چا ہتا ہو کہ قر آن اور حدیث میں کوئی ایسی مثال نہیں ہے کہ ایسے مواقعات پر ہم کیسے نماز ادا کریں؟ جبکہ چاروں طرف وبا پھیلی ہو ئی ہو۔ اور لوگوں کا با جماعت نماز پڑھنے کے مقابلے میں گھر رہنا زیادہ بہتر ہو۔ جبکہ اس جرثومہ کا مزاج یہ ہی ہے کہ اسے کسی کہ کاندھے پر پلنے میں مزاہ آتا ہے۔اور اس کی زندگی بڑھتی ہے۔ جنہوں نے سا ئنس پڑھی ہے یا دوسروں کے کاندھوں پر کسی کو پلتے نہیں دیکھا ہے؟ تو با غ میں چلے جا ئیں اور آکاس بیل کو دیکھ لیں کہ بغیر جڑ کے وہ درخت پر ہی پلتی رہتی ہے اور پھولتی اور پھلتی رہتی ہے۔ اور اس پودے کا رس چوستی رہتی ہے ،جب تک اس میں آخر ی قطرہ باقی رہتا ہے؟ اگر مالی اس کی جان نہ چھڑا ئے تو نتیجہ میں باغ کا خاتمہ ہوجاتا ہے۔ کیاکوئی عقلمند مالک کبھی چا ہے گاکہ ایسا ہو؟ پا کستان پراللہ سبحانہ تعالیٰ کی ہمیشہ کی طرح عنایت ِخاص ہے کہ وہاں کے لوگوں کی اتنی غلطیوں کے با وجودابھی ہلاکتوں کی تعداد بہت کم ہے۔ میری بات کو اگر سمجھنا ہے تو دنیا کی سپر پاور کو دیکھ لیں ترقی یافتہ ملکوں میں اٹلی وغیرہ کو دیکھ لیں؟ کہ کیا حالت بنی ہوئی ہے۔ ایسی ضد کرنا کہاں کی عقلمندی ہے کہ اس غیر معمولی حالت میں بھی اپنی ضد سے بعض نہ آئیں کہ ہم تو ویسا ہی کریں گے جیسا ہمیشہ کر تے آئے ہیں۔ جبکہ اسلام ہر حالت میں انسانی جان بچانے کا حکم دیتا ہے۔ یہ مانا کہ نماز پڑھنے کا ہر حالت میں حکم ہے کہ اسے کسی حالت میں بھی ترک نہیں کیا جاسکتا۔ مگر ساتھ میں یہ بھی فرما دیا ہے کہ جیسا موقع ہو اس طرح ادا کریں۔مثلا ً اگر کھڑے ہوکرنہیں پڑھ سکتے ہیں تو بیٹھ کر ادا کریں اگر بیٹھ کر ادا کر نہیں سکتے ہیں تو لیٹ کرادا کریں اگر یہ بھی نہیں تو اشاروں سے ادا کریں؟ پھر امن کی حالت میں احکام کچھ اور ہیں۔ اگر حالات تھوڑے سے بھی مختلف ہو تو کچھ اور ہیں! جیسے با قاعدہ مسجد نبوی ﷺ سے موذن حضور ﷺ کے حکم پر اذان کے بعد ہدایت دیتے تھے کہ نماز لوگ اپنے گھروں پر پڑھیں۔ اور زیادہ غیر معمولی حالات ہوں تو نماز بجا ئے چار رکعات ادا کرنے کہ ایک ایک کر کے اور تکڑیوں میں بٹ کر پڑھ لیں۔ ہماری اکثریت سال بھر تو نماز پڑھتی ہی نہیں ہے صرف چند خاص راتوں میں خدا یاد آتا ہے۔یا پھر رمضان میں؟ اس لیئے کہ وہاں ایسی حدیث ملتی ہیں کہ بے انتہا ثواب کی نوید ہے۔ لیکن یہ کوئی نہں بتاتا کہ انتا ثواب جب ہے جب کہ مسلمان پورے سال اس پرعامل رہیں اور ان کی مزید افادیت سے فا ئدہ اٹھا ئیں۔ ان میں زیادہ تر وہ احادیث ہیں جوکہ محدثین نے اپنی کڑی تفتیش میں پورا نہ اتر نے کہ با وجود اپنی کتابوں میں صرف اس لیئے رہنے دیں کہ اس سے لوگوں میں عمل کی تحریص پیدا ہوتی ہے اور دینی کاموں کے فروغ لیئے اسکی اجاز ت ہےاور دین کے سلسلے میں ایک دوسرے پر سبقت لینے میں کوئی حرج نہیں ہے۔ میں نےاپنی بڑی عمر اس امرکی تبلیغ میں گزاردی کہ “ خدارا اسوہ حسنہ (ص) پر واپس آجاؤ اور سب ملکر اجتمائی توبہ کرلو تاکہ اللہ سبحا نہ تعالیٰ کی ناراضگی دور ہواور مصیبتوں سے نجات ملے لیکن نقار خانے میں اک طو طی کی آواز کیا کرتی۔ مگر اب خدا شکر ہے کہ بہت سے علماء نے اس سلسلہ میں آگےقدم بڑھا یا ہے۔اوریہ جمعہ صلواہ تو بہ کے لیئے رکھا ہے۔ مگر ڈر یہ ہے کہ کہیں کسی کی انا،احساس کمتری یا جہالت آڑے نہ آجائے۔ آئیے دعا مانگے کہ جو لوگ اس سلسلہ میں کام کر رہے ہیں ان کو اللہ ثابت قدم رکھے تا کہ اس کی ناراضی دور ہوسکے (آمین) اور یہ موقع تو بہ کرنے کا کیونکہ لو ہا بھی گرم ہے۔













