میں دنیا بھر کی خوب سیروسیاحت سے لطف اندوز ہوئی لیکن محرم سرگودھا جیسا کہیں نہیں پایا۔ اردو انشائیہ کے بانی محروم ڈاکٹر وزیر آغا بھی اپنے لندن میں مستقل قیام کو فقط اس لئے نہیں اپنا سکے کہ انھیں بھی محرم سرگودھا ہی میں کرنا مقصود تھا یہ بات انھوں نے مجھے بہت فخر سے بتائی کہ سرگودھا میں انکا گاوں وہ پہلا گاوں تھا جہاں سے جلوس ذولجناح کا سلسلہ شروع ہوا اور وہ سارا سال امام حسین (ع) کی سواری کا بہت ذیادہ خیال کیا کرتے تھے ۔ جنھیں وہ غالبا شاہ جی کہہ کی پکارتے تھے اور جب اس ذولجناح کا انتقال ہوا تو باقاعدہ اس پہ لکھا۔ خیر یہ تو ذکر تھا سرگودھا کی ایک بڑی صاحب حیثیت کی عقیدت کا۔
آج بات کرتی ہوں سرگودھا کے نہایت مفلس مومن گھرانے کی کہ جن کی غالبا نو محرم کی نیاز کسی بھی ریاکار نام نہاد مومن کو احساس دلانے کے لئے کافی ہے۔ میری عمر کوئی لگ بھگ دس برس کی ہوگی جب کا یہ واقعہ ہے۔ چونکہ میں اپنے گھر میں سب سے بڑی ہوں تو میری والدہ محرم کے ایام میں تین مجالس فی یومیہ سے ذیادہ اس لئے نہ سن پاتیں کہ باقی چھوٹے میرے بہن بھائی بھی سنبھالنا ہوتے تھے۔ لیکن اس معاملے میں میری بڑی خالہ سیدہ تہذیب فاطمہ نقوی بہت دلیر تھی یکم محرم تا دس محرم گھر میں بہت ہی مجبوری ہوتی تو چولہا جلتا ورنہ سارا دن صبح آٹھ بجے سے رات بارہ۔ بجے تک گھر گھر میں منعقد کی جانے والی ہندوستانی شیعہ گھرانوں میں مجالس اپنے بچوں کے ہمراہ سنتی تھی بس گھر آنے کا ایک ہی ٹائم ہوتا کہ جس وقت ان کے بچے سکول سے واپس آتے خالہ انھیں بھی کالا لباس پہنا کہ اپنے ساتھ مجالس میں لے جاتیں ۔ مجھے امی سے ذیادہ خالہ کے ساتھ مجالس میں جانے کا شوق ہوتا اور خالہ کی عادت میں میری امی جیسا غصہ بھی نہیں ہوتا تھا جو مرضی شرارت کر لو ڈانٹ تو پڑنی نہیں ہوتی تھی
چونکہ میں نے اپنی اس تحریر کے ابتدا میں ایک مفلس مومن گھرانے کا ذکر کیا آئیے آج انکی عقیدت کاواقعہ آپ کے گوش گزار کروں۔ نو محرم تھی تو حسب عادت خالہ کے ساتھ اندرون شہر سرگودھا میں انجان راستوں میں چلتے چلتے خالہ ایک پرانے سے گھر کے سامنے رکی تو کہا “بس مجھ سے تو پل صراط پہ نہیں چڑھا جائے گا “ یہ سنتے ہی میری خالہ ذاد بہنیں اور مذید انکی پھوپھی زاد بمعہ تایا ذاد بہنوں نے ہنسنا شروع کر دیا جس پہ خالہ کی نند لالی پھوپھو نے سب کو ڈانٹا” حیا کرو آج نو محرم ہے لوگ کیا کہیں گے سیدانیاں ہنس رہی ہیں“
ہم سب چپ کر گئے اب یہ فیصلہ ہوا کہ خالہ انکی نندا ور انکی جیٹھانی سمیت میں بھی اس گھر میں نہیں جائیں گے باقی تمام باجیاں جائیں گی جب میں نے سنا کہ مجھے بھی نہیں اجازت تو میں نے ضد شروع کر دی مجھے سب نے بہت سمجھایا لیک میں نہ مانی خیر فیصلہ یہ ہوا کہ مجھے درمیان میں رکھا جائے گا اور حفاظت کے ساتھ اوپر نیچے لایا جائے گا لیکن میری خالہ کو انکی نند اور جیٹھانی نے بار بار کہا کہ اقتدار (میرے والد)کے غصے کو تو جانتی ہونا اگر یہ گر گئی تو کیا قیامت برپا کر دے گا وہ؟
معاملہ میرے لئے مذید جستجو کا ساماں پیش کر رہا تھا خیر اخرکار مجھے جانے کی اجازت مل ہی گئی۔ گھر کی بالائی منزل پہ جانے کے لئے ایک لکڑی کی غیر متوازن سیڑھی تھی جسے بہت احتیاط کے ساتھ چڑھا گیا۔ لیکن معاملہ تب سنگین ہوا کہ جب یہ معلوم ہوا کہ جس کمرے کی دیوار کے ساتھ سیڑھی چڑھی اس کی تو چھت گری ہو ئی تھی اب جانا دوسرے کمرے کی طرف تھا ۔اور فقط بنا چھت کے دیوار پہ ایک پاؤں کے پیچھے دوسرا پاؤں رکھ کہ دوسرے کمرے کی چھت پہ پہنچنا تھا۔ ڈرتے ڈرتے پہنچ تو گئے معلوم ہوا کہ گذشتہ شب تیز آندھی طوفان کے باعث چھت گر گئی تھی۔مکان میں داخل ہوئے تو وہ کوئی تقسیم ہند کے وقت کا پرانا سا گھر تھا بوسیدہ سی عمارت تھی، اہل خانہ کے نہایت پرانے اور ایسے کالے کہ جن کی کالی رنگت بھی مختلف رنگ اختیار کرچکی تھی لیکن صاف ستھرے لباس میں ملبوس تھے۔میں نے اپنی کزن کا ہاتھ پکڑ کہ پوچھا کہ” یہ غریب لوگ ہمیں کیا نیاز کھلائیں گے؟
اس نے مجھے غصے سے گھورا اور خاموش ہونے کا اشارہ دیا۔
اس گھر کے تین ایک ہی لائن میں کمرے تھے اور تینوں ہی عورتوں سے بھرے ہوئے تھے ہمیں بھی اپنی شفٹ کا انتظار کرنا پڑا۔جیسے ہی ان میں سے ایک کمرہ خالی ہوا ہمیں ایک خاتون نے پیار سے آواز دی اور انتظار کرنے پہ معذرت کی۔ اچانک سے برتن آئے اور نیاز سامنے آئی۔میرا اللہ گواہ ہے میں نے زندگی میں اتنی غربت زدہ جگہ پہ ایسی لذیز اور وافر نیاز کبھی نہیں کھائی تھی ۔معلوم ہوا کہ گھر کی پچھلی گلی میں تمام شہر کے مردوں کو اس گھر کے مرد حضرات کھانا کھلا رہے ہیں جبکہ دوسری طرف اہل خانہ بار بار سب سے چھت گرنے کی وجہ سے مہمانوں کی تکلیف پہ معذرت مانگ رہے تھے۔سب مہمان انھیں محبت سے یہی جواب دے رہے تھے کہ اللہ آپ کی عبادت قبول فرمائے۔مجھے معلوم ہوا فقط اس سالانہ نیاز کے لئے یہ اہل خانہ اپنی اپنی تنخواہوں سے پیسے جوڑتے ہیں اور سال کی جمع پونجی اس دن کی نیازپہ لگا دیتے ہیں
میں نے اپنی کزن سے کہا کہ اگر ایک سال یہ نیاز نہ پکائیں تو اپنا کتنا پیارا گھر بنا سکتے ہیں اس گھر کی ایک بزرگ خاتون جو کہ سروتے سے چھالیاں کاٹ رہی تھی نے میری بات سن لی اور کہنے لگی
“اے میری چندا ہم تو صرف سارے سال کی جمع پونجی نیاز حسین (ع)میں لگاتے ہیں تو کونسا احسان کرتے ہیں بیٹا؟ کوئی بی بی خدیجہ (س)سے سیکھے جس نے عمر بھر کی جمع پونجی اسلام کی بقا کے لئے لگادی۔ خدا ہمیں بھی سنت خدیجہ پہ چلنے کی توفیق عطا فرمائے الہی آمین”
جس پہ سب نے یک زبان ہو کہ کہا الہی آمین
نادیہ بتول بخاری













