اپوا کی چھٹی سالانہ ورکشاپ اور جانا ہمارا لاہور۔نصرت نسیم

1
1410

اپوا کی چھٹی سالانہ ورکشاپ ہر سال کی طرح اس سال بھی بڑے شاندار انداز میں منعقد کی گئی۔چونکہ اس میں ہماری پہلی کتاب” کہکشاں ہے یہ مرے خوابوں کی “کو ایوارڈ براے کتاب 2022کے لئے نامزد کیا گیا۔سو علی بھای کی طرف سے اس دعوت پر کشاں کشاں لاہور جاپہنچے۔
یہ میلہ آٹھ اکتوبر کو ڈیوس روڈ پر ہیری ٹیج ہوٹل کے یخ بستہ خوبصورت ہال میں سجایا گیا۔جہاں ملک بھر سے لکھنے والے آج اکٹھے تھے۔میرے ساتھ میری دوست شاہین رضوی بھی تھیں۔
سیڑھیاں چڑھ کر جیسے ہی اندر داخل ہوے۔ایم ایم علی اور ان کے ساتھی اسقبال کے لئے کھڑے تھے۔انہوں نے پھولوں کا خوبصورت بوکے ہمیں پکڑایا۔اور فوٹوگرافر نے اس لمحے کو محفوظ کیا۔ہال کے اندر داخل ہوے توریحانہ اعجاز نے مسکراتے ہوئے سواگت کیا اور ہمیں سٹیج پر لے گئیں۔جہاں کراچی سے آی ہوی خواتین لکھاریوں سے تعارف اور مزے کی گفتگو ہوئی۔تصویریں بنیں۔باقاعدہ پروگرام کا آغاز ہوا تو ہم سٹیج سے اتر کر اپنی نشستوں پر آگئے۔
پروگرام کا آغاز تلاوت کلام پاک اور تفسیر سے ہوا۔درود وسلام ونعت نے سماں باندھ دیا۔اپوا کے بانی ایم ایم علی نے اپوا اور اس کی غرض وغایت بیان کی۔زبیر احمد انصاری سرپرست اعلی ہیں۔انہوں نے ملک اور بیرون ملک سے آے ہوے مہمانوں کو خوش آمدید کہا۔اور بتایا کہ آل پاکستان ویلفیئر ایسوسی ایشن نئے لکھنے والوں کی حوصلہ افزائی کرتی ہے۔اس تربیتی ورکشاپ کامقصد بھی یہی ہے۔کہ کچھ سیکھ کر جائیں۔زبیر احمد انصاری نے کئ بار خطاب کیا۔ان کے مختصر خطاب دلچسپ اور ہر بار نئے نکات پر مشتمل تھے۔وہ بنیادی طور پر بزنس مین ہیں۔مگر اپوا کی سرپرستی، اور لکھاریوں کی فلاح وبہبود کے لئے ایم ایم علی کے ساتھی اور نوجوانوں کے لئے چھپر چھاوں ہیں۔زبیر احمد انصاری کے بارے میں ایم ایم علی اور دوسرے لوگوں سے پتہ چلا۔کہ فلاحی ورفاعی کاموں میں دل کھول کر خرچ کرتے ہیں۔اپوا کے کئ منصوبوں اور ادیبوں کی خدمت کے لیے پر عزم ہیں۔
حاضرین سے ریحانہ عثمانی، سحرش بٹ، سمینہ مشتاق اور کینڈا سے آی ہوی مہمان ساجدہ نے بھی خطاب کیا۔اور بیچ بیچ میں حاضرین کو کہا گیا۔کہ وہ اپنا تعارف کروائیں۔یہ سلسلہ کافی دل چسپ رہا۔کہ ماشاءاللہ ہماری نوجوان بچیاں اپنی صلاحیتوں کا لوہا منوا رہی ہیں۔خاص طور پر فلک زاہد سترہ سال کی عمر میں 4 کتابیں لکھ چکی ہیں۔پہلی کتاب 16 سال کی عمر میں لکھی۔نوجوان بچیوں کے تعارف اور کارکردگی کا سن کر خوشی ہوئی اور دل میں کہا
ذرا نم ہو تو یہ مٹی بڑی ذرخیز ہے ساقی
تعارف کے ساتھ ایوارڈ کی تقسیم بھی جاری رہی۔جلد ہی مجھے بھی ایوارڈ کے لئے بلایا گیا۔مسعود رضاآہیر جو کہ ماہر تعلیم اور جیو ٹی وی سے منسلک ہیں۔
نے مجھے ایوارڈ دیا۔اس لمحہ فخریہ ومسرت کو مختلف کیمروں نے محفوظ کیا۔تالیوں کی گونج میں اپنی سیٹ پر واپس آئ۔تو اللہ کا شکر ادا کیا۔کہ میری دوسری کتاب یعنی خود نوشت “بیتے ہوے کچھ دن ایسے ہیں “کو تو کے پی آباسین آرٹس کونسل کا ادبی ایوارڈ براے نثر 2021ملا۔تو میری پہلی کتاب “کہکشاں ہے یہ مرے خوابوں کی “کو اپوا ایوارڈ ملنے سے میری دونوں تصانیف ایوارڈ یافتہ ہوگئیں۔الحمدللہ الحمدللہ۔شکریہ اپوا شکریہ ایم ایم علی اور زبیر احمد انصاری
مہمانان خصوصی ایک ایک کرکے آتے گئے۔اور سٹیج پر رونق افروز ہوتے گئے۔
مسعود رضاآہیر، جہاں زیب قمر، مبشر لقمان، مشہور کارٹونسٹ جاوید اقبال، افتخار احمد ان تمام معزز مہمانوں نے تربیتی ورکشاپ کے شرکاء کو اچھالکھنے کے بنیادی اصول اور اپنی کامیاب زندگی کی کہانی سنائی۔آغاز سفر کی مشکلات بیان کیں اور نئے لکھنے والوں کو مفید مشوروں سے نوازا۔افتخار احمد نے شگفتگی سے خطاب کیا۔اور اپنی مشہور نظم سنائی
کسی بشر میں جو کوئی خامی دیکھو تو چپ ہی رہنا
کہ وہ دیکھتا ہے اور چپ ہے۔
مہمانان خاص کی تقاریر کے ساتھ ساتھ ایوارڈ، میڈلز کی تقسیم بھی جاری رہی۔
اتباک ابرک نے اپنا کلام پیش کیا اور حاضرین نے دل کھول کر انہیں داد دی۔
نئے سانچے میں خود کو ڈھالنا ہے
زمانہ ساز ہونا چاہتا ہوں
کہانی مختصر کرنا پڑے گی
سبھی کردار تھکتے جارہے ہیں
ہال میں نئے لکھاریوں کے ساتھ ساتھ سینئر ادبا وشعرا موجود تھے۔اور ہال بین الصوبای رابطے اور یگانگت کا مظہر تھا۔لبنی غزل، ریحانہ اعجاز، سمینہ طاہر بٹ، فرزین لہرا رخسانہ افضل کراچی سے تشریف لائ تھیں۔رخسانہ افضل نے اپوا کے بانی ایم ایم علی اورسرپرست اعلی زبیر احمد انصاری کو خراج تحسین پیش کرتے ہوئے اجرک پہنای ۔
مہمان خصوصی مجیب الرحمن شامی تھے۔انہوں نے بھی اپنی تقریر میں نصف صدی سے زیادہ صحافتی زندگی اور جدوجہد پر بات کی انہیں اپوا کی جانب سے لائف ٹائم اچیومنٹ ایوارڈ دیا گیا۔جس کے بعد اپوا کے عہدے داروں، کارپردازوں کو میڈل، شیلڈ اور ایوارڈ دیے گئے۔میں نے اس موقع پر مہمان خصوصی اور زبیر احمد انصاری کو اپنی کتاب پیش کی۔نیز ریحانہ اعجاز، ریحانہ عثمانی، ساجدہ،سمینہ طاہر بٹ کو اپنی کتاب دی۔اور جوابا”انہوں نے بھی اپنی کتابیں دیں۔آخر میں شاندار ظہرانے سے تواضع کی گئ۔کھانے پر بھی گپ شپ ہوتی رہی۔کتابیں اورفون نمبرلئے جاتے رہے۔شاہین اشرف علی کے منفرد لباس اور زیورات خواتین کو پسند آے۔ایڈووکیٹ سعدیہ ہما شیخ نے بھی ان کی تعریف کی۔
پھول کے ایڈیٹر شعیب مرزا صاحب سے ملاقات ہوئی۔اس ماہ کے رسالے میں ہماری حدیث کہانی چھپی تھی۔انہوں نے رسالہ دیا۔ایم ایم علی ساری تقریب کے دوران اندر باہر انتظام وانصرام میں مصروف رہے۔لہذا انہیں ڈائنگ ہال میں “بیتے ہوے کچھ دن ایسے ہیں “پیش کی۔ساجدہ چوہدری نے تصویر لی۔زبیر احمد انصاری اور ایم ایم علی کو اس کامیاب تقریب پر مبارکباد پیش کی۔کہ اتنی طویل تقریب اور مسلسل تقاریر کے باوجود لوگوں کی دلچسپی برقرار رہی۔
ہماری دوست شاہین اشرف علی کو تقریب بےحد پسند آی اور انہوں نے اپوا میں شمولیت کا ارادہ ظاہر کیا۔
سب سے مل کر گاڑی میں بیٹھے تو آٹھ اکتوبر کا سورج غروب ہونے کو تھا۔شام کے دھندلکے میں لاہور کی عمارتیں ربیع الاول کے لئے سجاے گئے دل آویز قمقموں سے روشن تھیں تو دل میں بھی آج کی بھرپور، پرمسرت تقریب اور ایوارڈ کی خوشی میں مسرتوں کے دیپ جھلملا رہے تھے۔شکر بسیار پروردگار

SHARE

1 COMMENT

LEAVE A REPLY