جیسے کوئی بہت قیمتی چیز کھو جائے۔نصرت نسیم

0
82

 لحظہ بہ لحظہ اترتی ہوئی شام
اس میں گھلا اداسی کاگہرا رنگ
اداسی جو لمحہ بہ لمحہ گہری ہ
اور تاریکی بڑھتی جائے
غم کی سیاہ شال میں لپٹا ہوامکان
اور وہ کمرہ
جہاں غموں کی راکھ اڑ رہی ہے
یادیں کرچیاں بن کر دل میں
اورسلگتی یادیں دھواں بن کرآنکھوں میں
خالی کمرہ اور گھپ اندھیرا
کہ آفتاب غروب اورچاند گہنا گیا
دعاوں کاحصارٹوٹ گیا
روشن وتاباں چہرے والی
ماں روپوش
خالی کمرہ خالی دل
جیسے کوئی بہت قیمتی چیز کھو جائے

نصرت نسیم، ایبٹ آباد

SHARE

LEAVE A REPLY