گاہے گاہے باز خواں ایں ,,, قسط نمبر 26 ،نصرت نسیم

0
1020

گزشتہ چار پانچ قسطوں سے ان تمام کرداروں کا باری باری آپ سے تعارف کروایا. جن کا ذکر بار بار اس کہانی میں آرہا تھا.تو اس لئے ضروری تھا. کہ آپ کو بتاؤں کہ کیسے کن لوگوں کے ساتھ بچپن گزرا
اس پرانے طرز کے بنے ہوے بڑے سے گھر میں ان تمام مستقل مکینوں کے ساتھ ساتھ باقی رشتے داروں کا آنا جانا لگا رہتا. ڈیڈی کی ایک اور بیوہ بھانجی تھی. جو اپنی اکلوتی بیٹی کے پاس رہائش پذیر تھی. وہ صبح ناشتے کے بعد آتی اور مغرب کے بعد بیٹی کے گھر جاتی. اس طرح کے اور رشتے دار بھی آتے جاتے رہتے. اور سارادن چاے قہوہ چلتا رہتا. ایک بڑی سی کیتلی جسے چا جوش کہا جاتا. وہ ہر وقت آگ پر دھرا رہتا. (پشاوری گھروں میں چاجوش عام تھا اب کا پتہ نہیں)اور ضرورت پڑنے پر ابلتے پانی سے فوری طور پر چاے یا قہوہ تیار ہوجاتا. اب سوچتی ہوں تو حیرت ہوتی ہے کہ کیسے مہمانوں کا تانتا بندھا رہتا. کبھی دیدی کی خالہ آرہی ہیں تو کبھی انکل کے شاہ پور سے خالہ زاد بھائی اور ماموں. اسی طرح پشاور سے مہمان آرہے ہیں. ہفتہ دس دن ٹہہرنے کے لئے. تو نہ کوئی اطلاع دے کر آنے کی پابندی نہ زیادہ رہنے پر اعتراض. مہمان سے یہ سوال کیا ہی نہیں جا سکتا تھا. کہ وہ کتنے دن ٹہریں گے. مہمان کو واقعی اللہ کی رحمت سمجھا جاتا تھا. اس طرح ہم لوگ بھی پشاور آتے جاتے رہتے. اوران رشتےداروں کی میزبانی سے لطف اندوز ہوتے خریداری کے لیے اس وقت پشاور کی کیفی مارکیٹ اورگورا بازار خریداری کے اہم مراکز تھے.
سینما اس دور کی اہم ترین تفریح تھی. کوہاٹ میں تو انہیں بازار جانے اور فلم دیکھنے کی اجازت نہ تھی. لہذا پشاور جا کراپنے جہیز کے لئے خوب خوب خریداری کرتیں. اور ایک آدھ فلم بھی میزبانوں کی مہربانی سے دیکھ لیتیں. اس وقت 11 سے 3 ایک سپیشل شو بھی خواتین کے لیے ہوا کرتا. تو اس شو میں یا 3سے 6 بجے والا شو بھی خواتین کے لیے پسندیدہ ہوتا. ایک فلم جو شاید پہلی ہی فلم تھی. کہ میں ساراوقت اندھیرے سے ڈر ڈر کر اندر ہی اندر روتی رہی کہ کب روشنی ہو اور باہر جائیں. ایک سین جو اب تک یاد ہے. کہ ہیرو صاحب رو رو کر گا رہے ہیں. محبت کا جنازہ جارہا ہے. آگے آگے ہیروئن کی ڈولی جا رہی ہے پیچھے پیچھے ریت میں گرتا پڑتا ہیرو.
ایک اور ہماری رشتے دار تھیں. بہت نفیس اورشفیق خاطرداری کرنے والی، ان کا گھر بازار مسگراں کے ارد گرد کسی گلی میں تھا. صبح فجر کی نماز کے بعد ان کے میاں دستر خوان لےکر جاتے اور واپس آتے تو گرم گرم روغیاں اور کلے پائنچے لے کر آتے. جو قریب ہی مٹی کے بڑے بڑے مٹکوں میں پکاے جاتے. کبھی نان اورملای کا ناشتہ ہوتا. پشاور کی ملائ گاڑھی گاڑھی الگ زائقے کی ہوتی .تو کبھی پوری حلوے کا ناشتہ کرواتیں. حلوہ پوری تو آجکل بھی ملتی ہے لیکن اس وقت ساتھ کتلمے اورمیٹھا پوڑہ بھی ہوتا جو بہت ہی لذیذ اورمزے کا ہوتا اور کشمیری چاے کے ساتھ بہت مزہ دیتا. پشاوری لوگ ناشتے میں زیادہ تر کشمیری چاے کا استعمال کرتے. قہوے کا دور تو سارا دن چلتا. جو ان مرغن غذاؤں کو ہضم کرنے میں معاون ہوتا. قہوہ پشاور کے لوگوں سے اچھا کوئی نہیں بنا سکتا نہ تب نہ اب -قہوے کی روایت برقرار ہے.-ایک اور چیز کا ذکر کرنا رہ گیا. باقر خانیاں اور پھیڑیاں جو عموما”شام کی چاے میں ڈال کر کھائی جاتیں. کھانے میں بھی دو چار چیزیں ایسی تھیں جو خاص پشاوری گھروں میں پکتیں. ایک تو ان میں بھیں سر فہرست ہیں جو بچپن میں ہمیں زہر لگتے تھے. اور جو ہماری خالاؤں کے پسندیدہ تھےاتنے پسندیدہ کہ پشاور سے جاتے ہوے لے کر جاتیں. اور ہر آتے جاتے سے فرمائش کر کے منگواتیں. ایک اور ڈش بھی خاص پشاوری لوگ بناتے ہیں. گوشت، چنے کی دال کے ساتھ بٹنگ (ناشپاتی سے ملتا جلتا پھل )جو بہت ہی مزیدار بنتی تھی. ایک آدھ اور چیز بھی تھی. جو اس وقت یاد نہیں آرہی. بہرحال ہماری خالاؤں یعنی بجو دیدی آنٹی کو پشاور بہت پسند تھا. آنٹی آئینے میں بار بار اپنی سرخ وسفید رنگت دیکھتی. دیکھو مجھے پشاور کا پانی راس آیا ہے -اور دیدی اس کی تائید کر تی-کہ ہاں پشاور کا پانی دریاے باڑہ سے آتا ہے. اوربےحدہاضمے دار ہے.اب تو کسی شہر چلے جائیں. اس کے پانی کے اثرات کا پتہ ہی نہیں چلتا.پتہ بھی کیسے چلے. کہ اب ہر جگہ نیسلے کی بوتلیں ہیں. اس پر مجھے نسیم کے ایک دوست یاد آے. کہ جو کراچی سے آے تھے. عمر رسیدہ بھی تھے اور بہت ناپ تول کر کھانے والے. انہیں ہم سوات کی سیر کے لئے لے گئے. وہاں تو ان کی بھوک ایسی کھلی کہ ہر چیز کھانے لگے خوب پیٹ بھر کر -کالام جاتے ہوے راستے میں جو چشمہ آتا. آبشار آتی -گاڑی رکوا کر پانی پیتے اور کہتے جاتے. میری تو اوور ہالنگ ہوگئ ہے. –
لیکن یہ برسوں پرانی بات ہے -اب تو ہر جگہ پانی کی بوتلوں کا چلن ہے –
تو بات ہم نے کہاں سے شروع کی تھی. کہ بچپن میں آپس میں میل جول آنا جانا بہت زیادہ تھا. اور اس میں کسی طرح کا کوئی تکلف نہیں برتا جاتا تھا -اب بغیر کسی موقع کے کوئی آجائے توحیرانگی ہوتی ہے -بلاوجہ کسی کے گھر جانا تو درکنار. بہن بھائیوں کے گھر بھی پہلے سے فون کرکے جانا پڑتا ہے-لیکن ہمارے ڈیڈی ایسے چھتنار درخت کی طرح تھے. کہ سب اس کی گھنی چھاوں تلے زمانے کی دھوپ سے محفوظ تھے. وہ پھپھو اماں ہو بجو یاآنٹی سب کے لیے محفوظ پناہ گاہ تھے. تو دن بھر کئ اپنے پراے، دوست احباب آ کرسستاتے اور رات گئے گھروں کو لوٹ جاتے -اس گہما گہمی اور مہمانوں کی آمدورفت میں ہم بڑے خوش ہوتے. پھپھو اماں کھانا بناتے، کھانا پروستے ہوے بار بار ایک ہی دعا کیے جاتیں. کہ یا اللہ رزق میں اسی برکت دینا .کہ کبھی چنگیر میں سےروٹی ختم نہ ہو. تب اس دعا اوربرکت کی سمجھ نہیں آی – بعد میں اس دعا کی سمجھ آی. کہ برکت کسے کہتے ہیں. اور بانٹنے اور تقسیم کرنے سے چیزیں کم نہیں ہوتیں. ضرب کھا کر واپس آ تی ہیں. کہ اللہ کا وعدہ ہے. کہ سات سو گنا اور کبھی اس سے بھی زیادہ کئ گنا زیادہ کر کے اللہ میاں واپس کرتے ہیں. اور اللہ کے وعدے سچے ہوتے ڈیڈی کی شخصیت میں محبت، خلوص اور اخلاق و مروت کی وہ چاشنی تھی کہ پھر ان کے بعد کسی نے متاثر نہیں کیا –
اس پرانے طرز کے گھر میں الگ سے ایک حصہ غالبا بعد میں نیا بنایا گیا تھا. سرخ سنگ مرمر کا برآمدہ باقی گھر کی نسبت بلندی پر اور ساتھ بڑا سا کمرہ مکمل مغربی انداز سے سجا ہوا بہترین ایرانی سرخ قالین، سپرنگ والے بھاری صوفے، شو کیس میں اصلی چینی کے وہ ڈنر سیٹ جو اب نایاب ہیں. کاغذ سے بھی باریک چینی کے برتن نفیس رنگ ونقش ونگار کے ساتھ، لکڑی کی میزیں جو بوقت ضرورت بڑی کرلیں اور بیضوی شکل اختیار کر لیں. ایک طرف قیمتی لکڑی کا دل کش پلنگ اور ڈریسنگ ٹیبل جہاں ڈیڈی ٹائی باندھتے ہوے تادیر کھڑے رہتے اور میں ان کے ہاتھوں کو دیکھتی رہتی. تو یہ تھا وہ کمرہ وہ جزیرہ جہاں میرا زیادہ تر وقت گزرتا. باقی گھر میں تو گہما گہمی اور آمد ورفت لگی رہتی -یہ کمرہ وہ گوشہ تنہای تھا جہاں ڈیڈی محدب عدسے کی مدد سے اخبار ورسائل کا مطالعہ کرتے -یا بہت انہماک سے بی بی سی ریڈیو سنتے. بہت بڑا سا ریڈیو جس کے شاٹ ویو میڈیم ویو پر طرح طرح کے سٹیشن سنائی دیتے. پڑھنے کے ساتھ ساتھ ریڈیو سننا بھی میری عادت بن گئ تھی -یہاں تک کہ جب پشاور داخلہ لیا اور ہاسٹل میں رہنا پڑا تو چھوٹا سا ٹرانسسٹر ساتھ لے کر گئ. جو میرے تکیے کے ساتھ رکھا ہوتا. ریڈیو بھی اس وقت زبان وبیان سیکھنے اور بولنے کا با اعتماد ادارہ تھا. جہاں شعر و ادب سے وابستہ بڑی بڑی شخصیات موجود تھیں. تو یہاں بیٹھ کر پڑھتے بھی اور ڈیڈی کے ساتھ گپ شپ بھی لگاتے -یہ استسنا مجھے اور جگنو کو حاصل تھا. باقی گھر والے نہ بلا ضرورت اندر آتے نہ بات چیت کی ہمت کرتے. اگر کہیں جانے کی اجازت لینی ہوتی تو مجھے پیامبر بننا پڑتا. مگر زبان غیر سے کب شرح آرزو ہوسکی ہے. اکثر انکار ہوتاتوکس انداز میں کہ اپنی مرضی ہے-یہ سن کر تو خالائیں بے بسی سے رو پڑنے کے قریب ہو تیں -اس وقت گھر کے مردگھر میں قدم رکھتے تو تمام اہل خانہ مودب رعایا کی شکل اختیار کر لیتے.آج کل کی نعرے لگاتی عورتیں اس وقت کے مردوں اور صابر وشاکر عورتوں کو دیکھ لیں تو. …

SHARE

LEAVE A REPLY