اپریل 7 / 2020
کورونا اور بچے

ایک ہفتہ پہلے
عزیزی دوست شاہین اشرف علی کا لاہور سے فون آیا تھا
بھرائی ہوئی آواز میں بتایا ۔۔ کہ ۔۔
اس کا بھانجا سعید آباد کا اسٹنٹ کمشنر عمار حسین
اس کی بیوی اور ایک نو سالہ بیٹا قرنطینہ میں ہیں
وہ تینوں کورونا مثبت ہیں
جبکہ ان کے دو چھوٹے بچوں کو انفیکشن نہیں ہے
کورونا کے مریض اب تنہائی میں ہیں
اور ان کے سارے بچے بھی الگ الگ کمروں میں ہیں
اذیت جیسی اذیت تھی ۔۔۔
کرونا کی بربادی اپنی جگہ مگر اسکا اصل نقصان فاصلے ہیں
اور خاص طور اس عمر کے بچے
جو یہ نہیں سمجھ سکتے ہم ان سے کیوں نہیں ملنے جاتے
پہلے کی طرح انکو گلے کیوں نہیں لگاتے
انکو پیار کیوں نہیں کرتے
بچوں کی تکلیف ان کے چہروں پر لکھی تھی
بھلا تنہائی کے بارے کتنا جانتے ہوں گے
ایک لمحہ بھی بیٹھنا انہیں سزا لگ رہا ہوگا
ایک ہی گھر میں دیواریں کھنچ گیئں تھیں
شاہین بتا رہی تھی ۔۔۔
” ایک روز یوں ہوا
جب نوسالہ پوتے کو دادا کے پکارنے کی آواز آئی
وہ بلڈنگ کے تیسرے فلور کی بالکنی میں آیا
نیچے کھڑے دادا دادی نے اسے دیکھ کر رونا شروع کر دیا
وہ اوپر سے ہی چیخ کر بولا آپ لوگ اوپر نہیں آئیے گا
اور مجھے تو بالکل بھی ہاتھ نہیں لگائیے گا
ورنہ آپ کو بھی یہ بیماری لگ جائے گی
جائیں آپ لوگ واپس چلے جائیں
میں بھی اندر جارہا ہوں ۔۔۔
ورنہ آپ لوگ نیچے کھڑے روتے ہی رہیں گے ”
اف وہ بچہ جسے بیماری کی سنگینی کا پتہ بھی نہیں
پر اپنے پیاروں سے دوری برداشت نہیں کر پا رہا ۔۔ رو رہا ہے
وہ معصوم بچے
جنہیں کورونا کی بابت معلوم ہی نہیں
انہیں انفیکشن بھی نہیں ہے پر تنہائی کی سزا کاٹ رہے ہیں
بڑے تو باتیں کر لیں گے ۔۔ کتابیں پڑھ لیں گے ۔۔خود کو بہلا لیں گے
بچے کیا کریں ۔۔؟؟
ان کے ذہنی دباؤ کا عالم کیا ہوگا
ان کے ان گنت سوالوں کے جواب کیا ہونگے
جب سے سوچ رہی ہوں ۔۔۔
دنیا میں بےشمار بچے ہیں
جو ۔۔
اس تنہائی کی اذیت کو سہہ رہے ہیں
دنیا میں اب تک
کورونا وائرس سے 1,345,363 سے متاثر اور 75،000 اموات ہوئیں
چینی اعداد و شمار کے مطابق
جن میں 2 فیصد کی عمر 19 برس سے کم ہے
اور بہت ہی چھوٹے بچوں کی تعداد 1 فیصد تھی
امریکہ ، اٹلی اور برطانیہ میں
اٹھارہ سال سے کم عمر بچوں میں 2 فیصد انفیکش کی اطلاع ہے
ایسی صورتحال سے نمٹنے کے لئے حوصلہ چاہیئے
خود پرسکون رہ کر بچوں کو تسلی دینا کتنا مشکل ہو رہا ہے
بچے ہمارے زبانی اور عملی ردعمل کا اثر ہی تو قبول کرتے ہیں
ایسے میں ہم
اپنے بچوں کے اضطراب کو بڑھا سکتے ہیں یا کم کر سکتے ہیں
ہمیں انہیں بتانا ہوگا
وہ اور ہمارا خاندان سب ٹھیک ہیں
انہیں سمجھانا ہوگا
کہ ۔۔ہم ۔۔ اور ان کے اسکول ٹیچر
انہیں محفوظ اور صحت مند رکھنے میں مدد کے لیے موجود ہیں
ہم والدین کو انہیں شوق دلوانا ہوگا
وہ اپنے احساسات پر بات کر سکیں
وہ اپنی تشویش سے ہمیں آگاہ کر سکیں
ہمیں ان کے ہر سوال کے لئے خود کو تیار رکھنا ہوگا
تاکہ ۔۔ ان کے ہر خوف اور تشویش کے لئے تسلی بن سکیں
انہیں پیار شفقت اور تحفظ کا احساس دے سکیں
والدین کو اپنے بچوں کو یقین دلانا ہوگا
کورونا وائرس انفیکش کے لئے وہ ہرگز زمہ دار نہیں ہیں
اور اس کورونا تنہائی سے بہت کچھ سیکھا جا سکتا ہے
جیسے بہن بھائیوں کی قدر ۔۔ماں باپ سے مکالمہ ۔۔دوستوں کی سننا
وقت اور پیسوں کی قدر ۔۔ دین مذہب کی قدر ۔۔۔اور بھی بہت کچھ
ہمیں اپنے بچوں سے
19 انٹرنیٹ پر کووڈ
کے بارے میں بہت ساری کہانیوں
افواہوں اور غیر مصدقہ معلومات پر بات کرنی چاہیئے
انہیں سچ بتانا ہوگا
شدید تناؤ میں
ان کی جسمانی اور نفسیاتی نشو ونما کی فکر کرنا ہو گی
ان کی نصابی اور غیر نصابی سرگرمیوں پر ان کو شاباش دینی ہو گی
سکول کے نئے اصولوں یا طریق کار پر گفتگو کرنی چاہیئے
انفیکشن کے پھیلاؤ کو روکنے میں انہیں بھی شامل کرنا چاہیئے
تاکہ ۔۔۔
بچوں کے اپنے اضطراب میں کمی کا احساس ہوتا رہے
شاہین نے آج بتایا ۔۔
کہ ۔۔۔ ریسٹ اور گھریلوعلاج کے بعد
عمار حسین اور بیوی بچے کورونا نیگیٹو ہو گئے ہیں
انہوں نے سنا مکی اور کلونجی کوپانی میں ابال کر پیا تھا
شفا یابی میں دعایئں دوایئں اور ٹوٹکے سب شامل تھے

اے میرے پاک پروردگار
بس رحم کر دے
کورونا مزید کسی کو نہ ہو
اور بچوں کو تو بلکل بھی نہ ہو
بس میرے خدا !
کہیں ایسا نہ ہو
کہ ۔۔۔۔ آنے والی نسلیں یہ کہیں
کاش ہمارے بڑے ہر طرف پھول پودے اگاتے
اور ۔۔۔۔ ہم بچے
تازہ ہواؤں کی خوشبوؤں کے دوست ہوتے
منزل کی جانب سفر در سفر کرتے
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
کورونا اور جانور

آج کینبرا سے میری بیٹی آمنہ کا فون آیا تھا
وہ پریشان تھی ۔۔۔ بولی
خبروں میں آرہا ہے
کہ ۔۔ پالتو جانوروں کو بھی کوویڈ ہو سکتا ہے
جو ۔۔ اگر ہو جائے تو ان کو آئسولیشن میں رکھنا ہوگا
کیا لیو اور کلیو کو میں انفیکشن دے سکتی ہوں ؟
یا لیو اور کلیو مجھے انفیکشن دے سکتے ہیں ؟
لیکن کیسے ۔۔۔۔۔۔۔۔ امی ۔۔۔ کیسے ؟
لیو اور کلیو اس کی بینگل بلیاں ہیں تو
میرے پاس بگینی ، کالا اور بینو ہیں
خدا نہ کرے جو ان بے زبانوں کو کچھ ہو
ہم انسانوں نے
جانوروں کو سوائے تکلیف کےاور دیا ہی کیا تھا
ستمبر 2019 میں
نیو ساؤتھ ویلز اور وکٹوریا میں 200 سے زائد مقامات پر آگ لگی
جس میں 50 کروڑ سے زائد جانور اور پرندے مر گئے
ہائے ۔۔۔کوالا کی 30 فیصد آبادی ختم ہو گئی
میں اپنی بیٹی کو آنے والے خدشات سے آگاہ رکھنا چاہتی ہوں
میں اسے بتا رہی تھی ۔۔۔ کہ ۔۔۔
اب چونکہ سارس-کوو -2 انفیکشن
انسانی آبادی میں وسیع پیمانے پر تقسیم ہورہے ہیں
اس بات کا امکان ہے کہ متاثرہ انسانوں سے قریبی رابطے سے
کچھ جانوروں کو بھی
SARS-CoV-2
انفیکشن ہوجائے
وائرس والے جانوروں کے انفیکشن سے
دوسرے جانوروں کی صحت اور فلاح و بہبود
جنگلات کی زندگی کے تحفظ
اور ۔۔۔ بائیو میڈیکل تحقیق کے مضمرات ہو سکتے ہیں
اس لیئے
پالتو جانوروں سے ہم کو یا ان کو ہم سے انفیکشن ہو سکتا
یہ سچ ہے کہ
لیبارٹری مطالعات کے ابتدائی نتائج کے مطابق
بلیاں ابھی تک سارس-کوو -2 کے لئے سب سے زیادہ حساس جانور ہیں
لیکن کوویڈ 19کا موجودہ پھیلاؤ
انسان سے انسان میں منتقل ہونے کا نتیجہ ہے
ابھی تک بہت کم جانور
COVID-19
سے متاثر ہوئے ہیں
ان میں نیو یارک شہر کے
ایک چڑیا گھر کا شیر اور چیتا شامل ہے
ان جانوروں کو کووڈ ۱۹کا انفیکشن
اس قریبی انسان سے ملا تھا جوخود کورونا مثبت تھا
لیکن اس بات کا کوئی ثبوت نہیں ہے
کہ ۔۔۔ گھریلو یا چڑیا گھر کے جانور
وائرس کے پھیلاؤ میں اہم کردار ادا کرتے ہیں
اس لیئے جنہیں کورونا مثبت نہیں ہے
انہیں اپنے پالتو جانوروں کو
خود سے الگ کرنے کا کوئی جواز نہیں
تھینک گوڈ ۔۔۔۔۔۔
آمنہ کی آواز میں خوشی دیدنی تھی
آجکل وہ گھر سے آفس کا کام کر رہی ہے
لیو اور کلیو اس کے گرد منڈلاتے رہتے ہیں
اس کا فکرمند ہونا بجا تھا ۔۔۔
مجھے اپنی بیٹی کی
اس کیئرنگ نیچر سے بہت پیار ہے
اس کا بس چلے تو ہر بے زبان کی زبان ہو جائے
ڈاکٹر نگہت نسیم













