پاکستان میں بدھ سے سوشل میڈیا پر ایک ویڈیو کے چرچے ہیں۔ مذکورہ ویڈیو میں خیبرپختونخوا کی ہزارہ موٹر وے پر مبینہ طور پر ایک کرنل کی بیوی کو پولیس اہلکار کے ساتھ بدکلامی کرتے ہوئے دکھایا گیا ہے۔
مذکورہ ویڈیو میں دکھایا گیا ہے کہ موٹر وے پر راستہ بند ہے اور گاڑیوں کی لائن لگی ہے۔ ایک خاتون راستہ کھولنے پر اصرار کر رہی ہے۔ لیکن پولیس اہلکار اُنہیں جانے کی اجازت نہیں دے رہا۔
خاتون اس پر سیخ پا ہو جاتی ہیں اور پولیس اہلکار کو کہتی ہیں کہ وہ کرنل کی اہلیہ ہیں، لہذٰا اُنہیں جانے سے کوئی نہیں روک سکتا۔ ڈیوٹی پر موجود پولیس اہلکار اُنہیں بتاتا ہے کہ آپ نائب صوبیدار سے بات کریں، جس پر خاتون غصے میں کہتی ہیں کہ نائب صوبیدار کی کیا اوقات ہے۔
خاتون گاڑی سے اُتر کر خود بیریئر ہٹانے کی کوشش کرتی ہیں جس کی پولیس اہلکار مزاحمت کرتا ہے۔ خاتون ڈرائیونگ سیٹ پر موجود نوجوان کی جگہ خود ڈرائیونگ سنبھال لیتی ہیں اور پولیس اہلکار کو آگے سے ہٹنے اور کچلنے کی دھمکی دیتی ہیں۔
بعدازاں خاتون وہاں سے نکلنے میں کامیاب ہو جاتی ہیں۔ عسکری ذرائع کے مطابق خاتون کے شوہر لیفٹیننٹ کرنل ہیں اور 2018 میں پشاور کے علاقے حیات آباد میں وہ بھی ایک ٹریفک اہلکار سے اُلجھے تھے جس پر اُن کا تبادلہ کر دیا گیا تھا۔
ٹوئٹر پر اب تک ہزاروں لوگ اس ویڈیو کو شیئر کر چکے ہیں جب کہ اس معاملے پر تبصروں کا سلسلہ بھی جاری ہے۔
کچھ صارفین اسے پاکستان میں طاقت ور طبقات کی اجارہ داری کی ایک مثال قرار دے رہے ہیں۔ وہیں خاتون کے سامنے ڈٹ جانے والے پولیس اہلکار کی بھی تعریف کی جا رہی ہے۔
سینئر تجزیہ کار ڈاکٹر حسن عسکری کہتے ہیں کہ اس طرح کے واقعات کو صرف فوج کے ساتھ منسوب کرنا درست نہیں۔ اُن کے بقول پاکستان میں جس طاقت ور کو بھی موقع ملتا ہے وہ قانون توڑنے میں فخر محسوس کرتا ہے۔
ڈاکٹر عسکری کے بقول یہ رویے بڑائی اور برتری کی عکاسی کرتے ہیں کہ ہم عام لوگوں سے بڑھ کر ہیں، لہذٰا ہم پر قانون لاگو نہیں ہوتا۔
ڈاکٹر حسن عسکری کہتے ہیں کہ سیاست دان، بیورو کریٹ، پولیس افسر یہ سب معاشرے میں اپنی برتری دکھاتے ہیں۔ لہذٰا صرف فوج کو مورد الزام ٹھیرانا درست نہیں ہے۔
اُن کا کہنا تھا کہ جب تک ریاست قانون کے احترام کی اہمیت اُجاگر نہیں کرے گے، ایسے واقعات پیش آتے رہیں گے













