بین الاقوامی ادارہ صحت (ڈبلیو ایچ او) کے ڈائریکٹر جنرل جنرل ٹیڈروس ایڈہیم گیبریاسس نے ادارے کے ایگزیکٹو بورڈ کا بتایا ہے کہ کرونو وائرس کے انسداد کی سرگرمیوں میں ڈبلیو ایچ اور کو 90 کروڑ ڈالرز کمی کا سامنا ہے۔
ڈبلیو ایچ او کے ایگزیکٹو بورڈ کے نئے چیئرمین اور بھارت کے وزیر صحت ہرش ودرھن کی صدارت میں یہ پہلا ورچوئل اجلاس تھا جس میں عالمی ادارہ صحت کے ڈائریکٹر جنرل ٹیڈروس ایڈہیم گیبریاسس کا کہنا تھا کہ ڈبلیو ایچ او کرونا وائرس سے نمٹنے کے بین الاقوامی اقدامات کے حوالے سے دن رات کام میں مصروف ہے۔
ٹیڈ روس کا مزید کہنا تھا کہ ڈبلیو ایچ او نے کرونا وائرس سے متعلق پہلا ہمہ گیر ہدایات نامہ جنوری کے آغاز میں ہی جاری کر دیا تھا۔
ان کا مزید کہنا تھا کہ عالمی ادارہ صحت نے وبا سے متعلق 100 سے زائد تیکنیکی دستاویزات جاری کی ہیں۔
وبا سے نمٹنے کے حوالے سے اقدامات پر ٹیڈروس نے کہا کہ عالمی داری صحت نے 50 سے زائد نیوز بریفنگز کیں جب کہ متعدد ہائی ٹیک پلیٹ فارمز کے ساتھ کام کیا جن میں فیس بک، گوگل اور انسٹاگرام بھی شامل ہیں۔ اسی طرح وبا سے متعلق غلط معلومات پر مبنی خبروں اور معلومات کی ترویج روکنے کی کوشش کی گئی۔
عالمی ادارہ صحت کے ڈائریکٹر جنرل کا کہنا تھا کہ فروری کے بعد سے دنیا بھر میں 400 سے زائد تحقیق کاروں سے اجلاس کیے گئے ہیں جو تحقیق سے متعلق ترجیحات کا تعین کریں جب کہ یہ تحقیق کار ان 700 کلینکل ٹرائلرز کا بھی مشاہدہ کر رہے ہیں جو دنیا بھر میں کیے جا چکے ہیں۔
آن لائن ہونے والے اجلاس کے دوران ایگزیکٹو بورڈ کے چیئرمین ہرش وردھن نے کھڑے ہو ان فرنٹ لائن ورکز کو خراج تحسین پیش کیا جنہوں نے وبا کے علاج میں اپنی جان کی پرواہ کیے بغیر خدمات انجام دیں۔













