جب تک برقی ذرائع ایجاد نہیں ہوئے تھے اعلانات و معلومات کی تشہیر کے لئے دنیا بھر کی تاریخ میں نقیب کا کردار بہت اہم سمجھا جاتا ہے ۔۔ وہ بادشاہ کے آنے کا اعلان اس کے اسناد و القابات کیساتھ کیا کرتا تھا یا کسی واقعہ سے قوم کو خبردار کرتا تھا یعنی اسکی خبر نقارے کی آواز کے آغاز کیساتھ اپنی بلند بانگ آواز میں کیا کرتا تھا گویا وہ سب کو مخاطب کرتے ہوئے سننے والوں کو کسی خاص اعلان یا کسی خاص واقعہ کی طرف متوجہ کرتا تھا ۔۔۔ اگر مجالس میں زاکرین کو نقیبِ آل محمد کہا جائے تو بے جا نہ ہوگا وہ تمام صفات جو ان ہستیوں میں موجود تھیں ان کو مناقب کی صورت پڑھنا سوز و سلام کا خاص موضوع ہوتا ہے ۔۔۔سوز خوانی کرنے والے چند افراد کے گروہ یا مختصر انجمن میں
صاحب بیاض کی آواز ان سب پڑھنے والوں میں قدرے بلند ہوتی ہے۔۔
دائیں بائیں بیٹھنے والے ساتھی عرفِ عام میں بازو کہلاتے ہیں یہ افراد صاحبِ بیاض سے آواز کو ہم آہنگ کرتے ہوئے دھیمی آواز میں اس کا ساتھ دیتے ہیں اور سُر برقرار رکھتے ہوئے پڑھتے ہیں تاکہ سننے والوں کو کورس کی ایک ہی آواز معلوم ہو۔۔ محرم میں تواتر سے مرثیہ پڑھنے والے پان ، لونگ اور الائچی اور موجودہ دور میں کسی ٹافی یا اسٹرپسلز جیسی دوا کا استعمال کثرت سے کرتے ہیں تاکہ گلا خشک نہ ہو ۔۔ اکثر صبح سے شام تک کئی کئی مجالس و محافل میں مرثیہ خوانی کرنے کے بعد پڑھنے والے/ والی کا گلا جواب دے جاتا ہے اور وہ گلے کے گرد رومال کو گلوبند کی طرح کس کر باندھ لیتے ہیں تاکہ آواز کو مزید بلند کرتے ہوئے انہیں دقت کا سامنا نہ ہو۔
صاحبِ بیاض جب بین یا مصائب کے اشعار کو بلند آواز میں رقت سے پڑھتے ہیں تو لفظ .. ہائے … یا ارے کے اضافے کیساتھ ہاتھ کے اشاروں سے یا زانو پر ہاتھ مارتے ہوئے اس طرح دکھ کا اظہار کرتے ہیں کہ جو حاضرین و سامعین پر بھی اثرانداز ہوتا ہے۔
سوز اور مرثیہ کے اشعار میں مقامی جذبات کو استعمال کرنا بھی شعراء یا زاکر کی خوبی ہے ۔یہ انسانی نفسیات ہے کہ
جب تک آپ مقامی انداز کے روایات و انسانی جذبات کو بیان میں نہ شامل کریں ۔۔سننے والے اس تاثر کو بعینہ محسوس نہیں کرسکتے خود کو ان واقعات سے متصل نہیں کرپاتے۔۔ مثال یہ ہے کہ میر انیس کے مرثئے کے اشعار میں مہندی، نیگ ، سہرا ، اور شادی کی دیگر رسومات کا تذکرہ کرنا یا بہن بھائی کی رخصت پر جذباتی گفتگو ۔۔دکھ کے لمحات کا بیان بے ساختہ خوشی اور غم کا اظہار کرنا ہے ۔۔ ان جزئيات کی آمیزش جو خالصتا” برصغیر پاک وہند سے متعلق تھیں ۔۔ شامل کیا گیا یعنی
سننے والوں کی فکر کے مطابق سنائے جانے والے واقعات کو ڈھال دیا گیا تاکہ سامع اپنے رشتوں اور جذبات کو ان واقعات میں رکھ کر اس درد کو محسوس کرے جو کربلا میں آلِ محمد پر وارد ہوئے ۔۔
یوں سمجھئے کہ جہاں امام حسین اپنی بہن سے مخاطب ہیں یا بیٹی سے رخصت طلب ہیں سننے والا خود کو انکی جگہ رکھتے ہوئے ان تمام حادثات و صدمات کو محسوس کرتا ہے ۔اور گریہ کرتا ہے۔ ۔۔ گویا اس وقت تک آپ اس درد کو جذبے کو درک نہیں کرسکتے جب تک کہ آپ کی یاداشت میں محفوظ کوئی اسی جیسا واقعہ یا دکھ آپ کے سامنے نہ آن موجود ہو۔۔
میر انیس اس طرح منظر نامہ تحریر کیا کرتے تھے کہ گویا کوئی فلمبندی ہے جو چشم تصور نے خود دیکھا اور محسوس کیا ہو۔۔۔ میر انیس کی طرح منظر کشی میں شاید ہی کوئی شاعر ایسی مہارت سے شعر کہنے پر قادر ہو۔۔۔وہ اگر فوج کا بیان کرتے ہیں تو اسکی شان و شوکت، زرہ، تلوارِ آبدار، خورد آہنی اس میں موجود زنجیریں یہاں تک کہ سواروں کے قدموں کی دھمک اور قدو قامت بھی سننے والے کے لئے مفصل طور پر بیان کرتے ہیں یوں جیسے تصور میں ہر لفظ بصورت تصویر دیکھا جارہا ہو ۔۔
ان سب کے ساتھ ساتھ وہ عقیدہ و اعتقاد سب سے بڑھ کر سامع کی سوچ کو تحریک دیتا ہے کہ جب آپ جوانانِ جنت و ساقیِ کوثر اور رسول مقبول و انکی آل پاک کو ان واقعات میں گِھرا دیکھتے ہیں ۔۔
پھر اس سلسلے کو مزیب سے جوڑتے وقت نہیں لگتا ۔۔واقعہ کربلا کو شاعری کی صورت دینے کا ایک اور سبب یہ بھی تھا کہ
شعراءِ عرب زمانہء قدیم میں بھی اپنی فصاحت و بلاغت میں ایک شہرت رکھتے تھے ان کے گھروں میں عورتوں کو بھی الفاظ کے استعمال پر خوب دسترس حاصل تھی ۔۔ اسی لئے نبیء کریم کا معجزہ کلامِ خدا بھی شاعری کی صورت متوازن حروف اور ایک خوبصورت آہنگ میں ہدایت کے لئے نازل کیا گیا۔۔
سورہ کوثر وہ پہلا سورہ تھا کہ جس کے مقابل اس وقت کے عرب فصحاء کوئی سطر بھی نہ تخلیق کرسکے تھے اور “ما ھذا کلام البشر” کہتے ہوئے دستبردار ہوئے تھے۔۔
اسی طرح بارگاہ نبوی میں موجود صحابی حسان بن ثابت جو شاعر بھی تھے ۔۔
عرب کے منکرِ نبی (ص) شعراء کے سامنے اپنی رسول کریم سے مودت و محبت سے مزین اور مدحت سے سرشار شاعری میں نبی کریم صلی اللہ علیہ والہ وسلم کے فضائل بیان کرتے تھے ۔۔نبی اکرم ان کے متعلق فرماتے ہیں کہ “حسان ّکے اشعار ُکفار کے خلاف مسلمانوں کے تیروں سے بھی زیادہ مؤثر ہیں”
۔۔
گویا شاعری کی صورت کہی بات زمانہء قدیم سے طاقتِ اظہار رکھتی ہے
۔ اسی طرح وہ شاعری جو مجالس حسین علیہ السلام میں سننے میں آتی ہے وہ اردو ادب کا وہ ناگزیر حصہ ہے جو ایک مخصوص فرقہ تک محدود ہے جبکہ یہ کسی بھی طرح اردو کے صفِ اول کے شعرا کے کلام سے کم نہیں ہے ۔منظر نگاری اور سماں بندی میں میر انیس کا کوئی ثانی نظر نہیں آتا
اپنے زمانے کے معروف مقرر اور شاعر مولانا کوثر نیازی کا اپنی کتاب
انیس شاعر انسانیت میں کیا خوب کہنا ہے ۔ کہ”میر انیس کو پڑھتے ہوئے ایسا محسوس ہوتا ہے کہ امام حسین کے بہتر ساتھیوں میں انیس تہترویں فرد تھے

کوثر نیازی
دنیا بھر کی زبانوں میں سلام و مرثیہ، رباعی و منقبت لکھے گئے ہیں اور اب تک لکھے جاتے ہیں یعنی واقعے کربلا کے بارے تخلیق ہونے والا ادب عالمی ادب میں ایک الگ مقام رکھتا ہے ۔۔ اس شاعری میں سنگیت کےاساتذہ نے مقامی رائج انداز میں سُروں اور راگوں کی آمیزش سے عام لوگوں یعنی دوسرے مذاہب اور عقائد کے لوگوں کی دلچسپی کو بھی بڑھایا اور محافل میں اس رنگ سے یہ واقعہ پڑھنا شروع کیا گیا۔۔ یوں صوتی فنون میں سوز خوانی کا انداز اپنا مقام بنانے میں کامیاب ہوا
خاندانوں میں سوز خوانی کی باقاعدہ تربیت بھی
ہوتی ہے مگر مستقل محافل میں اپنے بڑوں کے ساتھ ساتھ بطور بازو پڑھتے ہوئے گلے اور سماعتوں کی تربیت خود با خود ہوتی چلی جاتی ہے ۔۔
۔اچھے اشعار کی پہچان الفاظ کی درست ادائیگی اور آواز کو متوازن رکھتے ہوئے سوز خوان خواتین و حضرات منبر کے تقاضوں کو بھی پورا کرتے ہیں ۔۔۔ اور ایسے اشعار کا انتخاب کرتے ہیں جو سیرت آلِ محمد بیان کرتے ہوئے اخلاقیات کی تبلیغ بھی کرتے ہوں ۔۔تاکہ فرش عزا پر بیٹھے سامعین علمی نکات سے بھی بہرہ مند کیئے جائیں ۔۔۔ فضائل و مصائب بیان کرنے کا طریقہ کار وہی ہے جو جناب زینب سلام اللہ علیہ نے دربار یزید میں لوگوں کو متوجہ کرنے کے لئے اختیار کیا تھا ۔۔
کسی شاعر نے کیا خوب کہا ہے کہ ۔۔
بتاتی جاتی تھیں مفہومِ کربلا سب کو
حسین اس لئے لائے تھے ساتھ زینب کو
روما رضوی














ایک اہم دستاویز ھے یہ رثائی ادب کے حوالے سے۔۔۔۔مولا بہترین اجر عطا فرمائیں
آپ نے ایک ایسے موضوع پر قلم اٹھایا ہے جس پر اس تفصیل کے ساتھ کم کم لکھا گیا ہے ۔ انداز بیاں سادہ و برجستہ ہے ۔
سوز خوانی پر بہت معلوماتی, جامع, برجستہ اور دل کو موہ لینے والی ایک نہایت شاندار تحریر, کم از کم مجھ جیسے کم علم کے لیے ایک خزانہ سے کم نہیں ہے, اندازِ بیان اور الفاظ کا چناؤ بہت اعلٰی ہے اس کے لیے آپ کو ہدیہ تبریک پیش کرتا ہوں, اللّہ کرے زورِ قلم اور زیادہ, الٰہی آمین