اُردو کے اُستاد، ادیب و شاعر اور مترجم،وحید اختر انصاری کی رِحلت

0
1243

 ممبرا: (ندیم صدیقی) بتاخیر یہ اطلاع دیتے ہوئے ہمیں بھی افسوس ہو رہا ہے کہ اُردوکے معروف ادیب و شاعر،مترجم اور اُستاد(61 سالہ) وحید اختر انصاری گزشتہ 29نومبر (2022 ع) کو انتقال کر گئے اور اسی شام مُمبرا کے نئے قبرستان( واقع نزداسٹیڈیم) میں ان کے جسدِ خاکی کو سپردِ لحد کر دیا گیا۔
وحید اختر انصاری کا آبائی وطن مالیگاؤں تھا وہ16جولائی1961 ع کو پیدا ہوئے تھے۔ مرحوم، بی ایڈ ہی نہیں تھے بلکہ ماسٹر آف آرٹس کی سند بھی رکھتے تھے۔ اُن کی شاعرانہ صلاحیت کا اندازہ اس سے بھی لگایاجاسکتا ہے کہ ملک کی اہم ریاست اتر پردیش کے سابق وزیر اعلیٰ اورممتاز آنجہانی وزیراعظم وِشوناتھ پرتاپ سنگھ کی ہندی نظموں کو انہوں نےاُردو کا لباس دیا تھا جو (بعنوان: ایک ٹکڑا زمین ، ایک ٹکڑا آسمان) کتابی شکل میں شائع بھی ہوا۔ ہماری اطلاعات کے مطابق مشہور اسلامک دانشور اور مہاراشٹر کے ممتاز مسلم لیڈر رفیق زکریا کی ایما اور اُن کی نگرانی میں وحید اختر انصاری نےترجمے کا یہ کام مکمل کیا تھا۔
(نوٹ: وحید اختر انصاری کے دوست، ممبئی کے مشہور شاعر اور اُردو کے اُستاد سید ریاض رحیم نے رفیق زکریا کی ایما اور اُن کی نگرانی والی اِطلاع سے اختلاف کیا ہے۔)
وحید اختر انصاری نے رسول کریمﷺ سے متعلق ایک کتاب بھی تالیف کی تھی جو ’’محمد رسول اللہﷺ رحمۃ للعالمین‘ کے نام سے مالیگاؤں کے سیفی آفسیٹ پریس سے 2020 میں شائع ہوئی۔
ممبئی کی مشہور دانش گاہ’ مہاراشٹر کالج‘ کے جواں سال لکچرر انورظہیر خان کی (1999 میں)ناگہانی رِحلت کے بعد لکچرر شپ کی جگہ خالی ہوئی تو اُس وقت وحید اختر انصاری اس منصب ِجلیلہ کے لیے منتخب کر لیے گئے اورکچھ مدت انہوں نے مذکورہ کالج میں درس و تدریس کی خدمات بھی انجام دیں مگر ایک نا خوشگوار واقعے کے بعد اُن کی یہ ملازمت جاتی ہی نہیں رہی بلکہ اُنھیں شدید نامساعد حالات کا شکار بھی ہونا پڑا جس کا بیان آج بھی ہمارے لیے تکلیف دِہ ہے۔
ان کے والد محمد عمر انصاری گورنمنٹ آف مہاراشٹر کے ایک اچھے عہدے سے ریٹائر ہوئے تھے انہوں نے اپنے بیٹے کواعلیٰ تعلیم بھی دلوائی مگر شومئی قسمت بیٹا حالات کی نذر ہوگیا۔
گزشتہ ایک دہے میں وحید اختر انصاری کی حالت ِ زار پر راقم کی جب جب نظر پڑتی تھی تو عبد الحمید عدؔم کا مشہورِ زمانہ شعر اِک تصرف کے ساتھ بیساختہ یاد آجاتا تھا:
بس اِک قدم اُٹھا تھا غلط راہِ شوق میں
منزل تمام عمر’ اُسے‘ ڈھونڈتی رہی
ہم جیسے عقل و دانش کے اکثر مدعی ایک زَعم میں مبتلا رہتے ہیں، دراصل عقل و دانش بھی ہمارا امتحان لیتی ہے کہ ’ ہم‘ اس کے محرِم ہیں یا نہیں؟!! اور اگر اُس کے اصول و ضوابط پر پورے اُترے تو یہ ہمیں اعتبارووقار کے ساتھ بسا اوقات حرمت کے مقام تک پہنچا بھی دیتی ہے ورنہ نامحرموں کے ساتھ ہونے والے سلوک میں کوئی تامل نہیں کرتی۔
وحید اختر انصاری اعلیٰ تعلیم یافتہ تھے ، فہم کے بھی حامل تھے مگر اُن کی تعلیم کے احساس نے یا پھر اُن کی فہم نےاُن کے ساتھ دغا کی یا پھر اسکے برعکس معاملہ ہوایا یہ سب ایک خواب تھا اور ایسا خواب جس کی تعبیر محض’’ حسرت و غم‘‘ تھی!!
ہم دوسروں کے حق میں اکثر اوقات جج بننے میں تعجیل برتتے ہیں مگر اپنے حق میں ایک بہت ذہین و فطین اور مصلحت و حکمت سے بھرے وکیل ِدفاع کا کردار ادا کرتے ہیں مگر زمانہ ہے کہ وہ ہمارے دونوں کردار سے برابر حساب کتاب کرلیتا ہے۔
کیا ہم میں سے واقعتاً اپنے بارے میں کوئی یہ دعویٰ کر سکتا ہے کہ اگلے لمحے ہم سے خلافِ وقوف کوئی حرکت سرزد نہیں ہو سکتی!! ہم ’اہلِ نظر‘ ہوتے ہوئے بھی اپنے دامن کے داغ دھبّے دیکھنے سے قاصر رہتے ہیں، ہائے ہماری نظر۔۔۔!!
دراصل ہماری عقل اور ہمار ےنفس کی لگام تو کسی اور کے ہاتھ میں ہے اوریہی بات ہم فراموش کیے رہتے ہیں، اےکاش دُنیا کے حادثوں سے ہم عبرت لینا سیکھیں ورنہ وقت ہمیں عبرت کا نقش بنانے میں ہر گز نہیں ٗچوکتا ۔
وحید اختر انصاری کی رِحلت کی خبرتاخیر سے دیتے ہوئے ہمیں اپنے اخبارچی ہونے پر افسوس ہو رہا ہے، وقت عجب عجب صورتِ حال سے دوچار کرتا رہتا ہے، یاد آتا ہے کہ اپنے وقت کے ایک ممتاز عالِم دین مفتی خلیل احمد بدایونی جن کی ’بہشتی زیور‘ جیسی ایک کتا ب مشہور ہوئی، انہوں نے کسی وقت ایک بدنام زمانہ فتوئے تکفیر کے خلاف ایک ’ حق‘ بات کہہ دی تھی تو جس کا نتیجہ یہ نکلا کہ ان کے انتقال کی خبر بڑے’سلیقے‘ سے دبا دِی گئی آج برسوں ہو گئے ہم جیسے اخبارچی بھی اُس عالِم دین کی رحلت سے بے خبر رہے۔
آج لمحہ لمحہ و لحظہ لحظہ بے خبروں کی خبر بھی عام ہوتی جاتی ہے مگر ہم جو’ مخبرِبدنام‘ ہیں وہ بھی وحید اختر انصاری کی خبر دینے میں پِچھڑ گئے۔
اللہ، غفور الرحیم و کریم جیسی صفات کا حامل ہے ہم اُسکی بارگاہ میں وحید اختر انصاری کے حق میں ملتجی ہیں کہ وہ اپنی شایانِ شان صفات کے ساتھ خیر کا معاملہ فرمائے ۔ آمین

SHARE

LEAVE A REPLY