پچھلے کچھ عرصے میں اکثر نام ور شخصیات ہم سے بچھڑیں ،جن میں ایسے اسکالر اور مزہبی لوگ بھی تھے جو ہمارے دل کے قریب تھے ۔علامہ طالب جوہری صاحب جن کی شامِ غریباں اب شاید ہی کوئی اس طرح بیان کر سکے جس طرح دل میں اتر جانے والی رقت آمیز آواز سے وہ سنایا کرتے تھے کہ ہر آنکھ اشک بار ہو جاتی تھی ، اسی طرح مولانا نعیمی ایک انتہائی شفیق اور اچھے استاد بھی تھے اور علم بانٹنے والے بھی ،انکی کمی کو بھی مدتوں محسوس کیا جائے گا ۔
میں نے کچھ عرصہ پہلے ایک کالم لکھا تھا جس میں طارق عزیز صاحب کا ایک جملہ دیکھتی آنکھوں سنتے کانوں بھی استعمال کیا تھا کیوں دماغ میں ایک دم سے آیا تھا نہیں پتہ لیکن یہ جملہ اتنا مقبول تھا اور یہ پروگرام اتنا دیکھا جاتا تھا کہ طارق عزیز بھی ایک لیجنڈ کی طرح بن گئے تھے ۔انکی کمی بھی بہت محسوس کی جائے گی وہ ایک پڑھے لکھے برد بار اور انسان دوست آدمی تھے ۔لوگ آتے جاتے رہتے ہیں کہ یہ ہی ازل سے ابد تک چلتا رہے گا مگر جو اچھے نقش چھوڑ جائیں وہ ہی کامیاب ہوتے ہیں ۔
ملک میں کرونا کے ساتھ ساتھ اور بیماریاں بھی چل رہی ہیں جو تیزی سے اب پکڑ میں بھی آرہی ہیں اور ان کے نوٹِس بھی لئے جارہے ہیں ۔زخیرہ اندوزی سے لے کر پائلیٹس کی جعلی ڈگریاں اور بھرتیاں بھی سامنے لائی جا رہی ہیں ۔ساتھ ساتھ ایک جج صآحب بھی معہ بیگم کے کٹہرے تک پہنچے لیکن منی ٹریل نہ دی ۔یہ ٹریل اتنی ظالم کیوں ہے کہ جس سے بھی پوچھو وہ یا تو رونے لگتا ہے یا اسٹے آرڈرز ۔ضمانتوں اور نکتوں کے پیچھے چھپتا ہے ۔ہم یہ سمجھنے سے قاصر ہیں کہ یہ بات اتنی مشکل کیوں ہے کہ پیسہ کہاں سے آیا اور باہر کیسے لے گئے ؟
اب پھر وہ ہی چکر دوبارہ شروع ہوگیا کوئی دھمکیاں دے رہا ہے تو کوئی حراساں کر رہا ہے ۔اور خوش قسمت لوگوں کی شُنوائی فورا` ہو رہی ہے ۔ہمیں ایسے کیس بہت اچھے لگتے ہیں جن پر فیصلے بھی جلدی آئیں اور نکتے بھی نہ نکلیں ۔لیکن ایسا کم ہی ہوتا ہے صرف کچھ خوش قسمت ہوتے ہیں جنہیں یہ آسانی مئیسر آتی ہے ورنہ بڑے بڑے اہم کیس ابھی تک کہاں پڑے ہیں پتہ نہیں ؟
کہتے ہیں جاسوسی کی گئی بھئی مان لیا لیکن جاسوسی سے جائیداد تو نہیں بنا دی نا یہ تو آپ نے خود کہا کہ ہماری ہے ۔پھر ثبوت بھی دے دیں کہ آپ کی ہے ،
ایک وزیر کا ایک انٹروئیو میڈیا کی زینت بھی بنا اور حکومتی ارکان کے لئے مشکل بھی ۔ہم نے بھی وہ انٹڑویو سنا لیکن ہمیں لگا کہ یہ ہم پہلی حکومت دیکھ رہے ہیں جس میں کوئی وزیر اپنی ہی حکومت کے بارے میں بات کر سکتا ہے گو بات بہت بے وقت کی گئی اور جنہوں نے انٹروئیو لیا وہ شھباز صاحب کے بہت قریب صحافی ہیں ۔لیکن فواد صاحب کی باتیں اگر سمجھ سکیں تو ان میں کوئی ایسی بات نہیں تھی جو پہلے خبروں میں نہ رہپی ہو ۔مگر اللہ بھلا کرے ہمارے میڈیا کا وہ جس بات کو چاہے جتنا چاہے حساس بنا دے ۔یہ بات بالکل حق ہے کہ پارٹی کے اختلافات کو اس طرح بلا وجہ باہر نہیں لانا چاہئے لیکن فواد صاحب تو اس بات میں ماہر ہیں اس لئے سب کو پتہ ہے کہ وہ کسی وقت بھی کچھ بھی کہہ سکتے ہیں ۔لیکن اس وقت جس سخت وقت سے سب گزر رہے ہیں اس میں ایسا انٹروئیو شاید مناسب نہیں تھا ۔
ہم جہاں تک جہانگیر ترین اسد عمر اور محمود قریشی صاحب کو جانتے ہیں ہمیں لگتا ہے کہ یہ اتنے نہیں گر سکتے کہ ایک دوسرے کو منصب سے ہٹانے کا باعث بنیں ۔ہمیں دکھ صرف یہ ہوا کہ ہم اب تک سنجیدہ نہیں ہورہے اور اُس شخص کی پُر خلوص کو ششوں کو ناکام بنانے میں کوئی کسر نہیں چھوڑ رہے جو دل سے چاہتا ہے کہ اس کا ملک ترقی کرے آگے بڑھے
اتحادی جو ہمیشہ اتحاد اسی لئے بناتے ہیں کہ جب وقت پڑے وہ زیادہ سے زیادہ فائدہ اُٹھائیں وہ بھی کھل کر سامنے آگئے ۔بلوچستان کو ان لوگوں نے ہمیشہ ہی مسئلہ بنائے رکھا یہ خود تو بڑے بڑے گھروں میں رہتے ہیں عیش و آرام کی زندگی گزارتے ہیں بلوچوں کے نام پر لیکن بلو چوں تک نہ امداد پہنچتی ہے نہ فائدے ،جتنا بھی فنڈ ملتا ہے کہاں جاتا ہے آج تک کوئی پوچھنے والا نہیں ،ہمارے صؤبوں کے کسی بھی رہنماکا خرچہ کم نہیں ہے ، نہ ہی کوئی دولت میں کم ہے لیکن وہاں کے لوگ کسمپرسی کا شکار ہیں اس طرف بھی نظر کرنی چاہئے تاکہ ملک کے غریبوں اور محروموں کے مسائل حل ہوں ۔
ہر روز ایک خبر سب سے پہلے سنائی جاتی ہے کہ حکومت کے دن کم رہ گئے ۔ہم سمجھ نہیں پاتے کہ ہمیں کس قسم کے لوگ حکومت میں چاہئیں کیا ہم اب بھی ان ہی کرپٹ اور بے ایمان حکمرانوں کی راہیں سیدھی کر رہے ہیں ۔جنہوں نے ہمیں غربت میں دھکیلا اور خود باہر عیش کرتے رہے ہیں اور اب بھی کر رہے ہیں ۔ہم جب تک متحد ہو کر یہ نہیں فیصلہ کریں گے کہ ہمیں کن لوگوں سے نجات پانی ہے جب تک ہم اسی طرح پنڈولم بنے رہیں گے اور کبھی بھی سیدھے نہ چل سکیں گے ۔اس لئے اب سب کے لئے ضروری ہے کچھ سنجیدگی سے ملک اور قوم کی طرف دیکھیں ،اداروں کی جو تباہی کی جاچکی ہے انہیں سنوارنے اور بنانے کی طرف توجہ دیں اور حکومت کا ساتھ دیں ،ان کی غلطیوں کی نشاندہی کریں الزامات لگانے کے بجائے سچی خبریں سامنے لائیں ۔
کوئی بھی ہتھیلی پر سر سوں نہیں جما سکتا ہمیں لگتا ہے کہ اس حکموت کے آتے ہی سال تین سوپینسٹھ دن کا نہیں رہا بلکہ پانچ سو دن کا ہوگیا ہے کیونکہ کہتے ہیں کہ دو سال ہو گئے حکومت کو ابھی تک کوئی مسئلہ حل نہیں ہوا ہم حٰران ہیں کہ وہ لوگ جو تیس سال تک حکومت کرتے رہے اور کچھ بھی نہ کیا سوائے ہر اُس جگہ روڈ بنانے کے جہاں سے انہیں گزرنا ہوتا تھا ۔یا ایسے پراجیکٹ جن سے انکی جیب بھرنی تھی جب کسی نے نہ پوچھا کہ اتنے سال آپ نے کیا کیا ؟
وہ صحافی جو کہتے ہیں کہ ہماری والدہ حیات ہیں تم فکر کرو ۔وہ صحافی جو کہتے ہیں کہ شھباز صاحب کو بلایا گیا ہے کہ آجاؤ کرسی تیار ہے ۔وہ صحافی جو کہتے ہیں ڈٰیم کا فنڈ کہیں اور خرچ کر دیا گیا ۔یہ کیسا پاکستان چاہتے ہیں ۔ہمیں تو لگتا ہے کہ ایک سروے کرانا چاہئے کہ جو لوگ دن رات ہمیں خبریں دیتے اور جھوٹی سچی سناتے ہیں وہ کن لوگوں کے حامی ہیں ۔کیونکہ ایک سچا اور اچھا پاکستانی تو پاکستان کے ترقی اور بہتری کی بات کرے گا ۔اس لئے ہماری سوچ تو یہ ہے کہ اگر کچھ اچھے لوگ اچھی سوچ کے ساتھ سامنے آرہے ہیں تو ان کا ساتھ دیں تاکہ ہمارا ملک ترقی بھی کرے اور دنیا کی نظروں میں محترم بھی ٹہرے ۔اب بڑے ہو جائیں گُڈلیوں چلنے کے بجائے اپنے پاؤن پر کھڑے ہوں ۔
اللہ میرے ملک کا محافظ ہو آمین

SHARE

LEAVE A REPLY