ایک زناٹے دار تھپڑ. علی شان

1
349

عموماً میں اعتدال کا پروردہ ھوں نہ جانے آج کیوں دل چاھا کہ جنھوں نے ماضی قریب میں میری تحریر پر میرا مذاق اُڑایا اور جنرل راحیل کی تعریف میں زمین و آسمان کے قلابے ملائے انکے لئے زناٹے دار تھپڑ کے استعمال سے زیادہ مناسب لفظ میرے ذھن میں نہیں آ سکا.
جی ھاں وھی جنرل جس نے اپنے دورِ اقتدارِ بدمست میں فرمایا ” جب کسی کو ماں کی گالی دی جائے تو وہ اپنے خون کی حلالی کیلئے جواب ضرور دیتا ھے, یہ شیعہ ھماری ماں(عائشہ) کوگالیاں دیتے ھیں تو ھم کیسے خاموش رہ سکتے ھیں”. انھوں نے حکم دیا کہ جتنے ملاں اور مقرر ایسا کریں انکو منہ توڑ جواب دیا جائے جس کے نتیجے میں سینکڑوں شیعہ علماء کا پنجاب میں داخلہ بند کر دیا گیا بیسیوں کو علاقہ بدر کر دیا گیا کئی ایک تو درپیش انتقام سے بچنے کیلئے خود ھی ملک چھوڑ گئے جن میں معروف و مقبول خطیب جناب گلفام ھاشمی پہلے کینیڈا اور اب یورپ بدر ھو چکے ہیں.
یہی نہیں جنرل مشرف کو جس طرح حفاظتی کور دیا گیا اور پاکستان کی عدلیہ کا کھل کر مذاق اُڑایا گیا وہ بھی ڈھکا چھپا نہیں مگر قدرت ان تمام معاملات کو بڑا مسکراتے ھوئے دیکھ رھی تھی اور جنرل صاحب کے اپنے ھی ھاتھوں اپنی اصلیت ظاھر کرنے کے انتظامات کر رھی تھی

اللہ نا انصافی کو برداشت نہیں کرتا اور ظلم کی تو فورا گرفت کرتا ھے. نمرود کی ناک میں مچھر کا گھسنا, فرعون کا دریائے نیل میں غرق ھونا یزید کا اوسان کھو کر اڑھیاں رگڑ رگڑ کر مرنا یہاں تک کہ ضیاء الحق کا ھوا میں زندہ جل مرنا خدا کے غضب کی وہ تمام نشانیاں ھیں جنکو جانتے بوجھتے ھوئے بھی انسان خود کو اللہ کے احتساب سے بالا گردانتا ھے اور بالآخر اسی احتساب کا شکار ھو جاتا ھے.
نہتے زایرین پر ایرانی سرحدوں سے قبل تافتان میں مسلسل شرمناک دھشت گردی کے نتیجے میں اجتماعی ھلاکتیں اور پھر ان جتھہ بندوں کی طرف سے چشم پوشی شمالی علاقوں میں دھشت گردوں کے مقابلے میں رکاوٹ شیعہ اسلحہ بند عوام سے ھتھیاروں کی واپسی اور بڑے پیمانے پر انھیں نہتا کرنا,

پورے ملک میں دھشت گردی کے نتیجے میں کسی بھی فوجی یا سول ایڈمنسٹریٹو کا نوکری پر قائم و دائم رھنا دھشت گردوں کا مسلسل عدالتوں سے رھا ھونا اور فوجی عدالتوں سے اکثریت میں انکو سزائے موت ملنا جو دھشت گردی کی بجائے آپس کی خاندانی دشمنیوں یا زمین کے جھگڑوں وغیرہ کے باعث قتلوں مییں ملوث تھے اس بات کی جانب واضح اشارہ تھا کہ فوج جو ان دھشت گردوں کو جنم دے چکی ھے تو اب انھیں تحفظ بھی دے رھی ھے ھاں البتہ طاقت کے نشے میں بد مست جب چند کتے اپنے ھی مالک کے گلے آ پڑے تو ایسے عناصر کو ٹھکانے لگانے کیلئے کچھ حد سے بڑھنے والوں کے خلاف آپریشن ضرور عمل میں لایا گیا تاکہ انھیں انکی حیثیت کا احساس دلا دیا جائے.

یہ بات بھی حیرانی کا باعث تھی کہ پوری بیوقوف قوم کی آرزو کے باوجود جنرل صاحب اپنے اقتدار کو طول کیوں نہیں دے رہے تو بھائی عوام کو کیا معلوم کہ اندر ھی اندر یہ کھیل شروع ھو چکا ھے کہ کروڑوں ڈالر کی سعودی آفر موجود ھے اور پھر کمان بھی دنیا بھر کے چوروں کی اور وہ بھی ان چند شیعہ ملکوں اور افراد کے خلاف جن کو پاکستان کی فوجی کمان کے تحت ایک حد تک تو نقصان پہنچایا جا سکتا ھے حملے کر کے مکمل ختم نہیں کیا جا سکتا اور یہ اس غلیظ اتحاد ھی میں ممکن ھے جو یمن میں معصوم یمنی عوام پر وھابیت لادنے کیلئے بچوں کے ھسپتالوں تک پر بمباری کر رھا ھے تاکہ مستقبل کے معماروں تک کا ھی خاتمہ کر دیا جائے تاکہ شام میں داعش کی مدد کرتے ہوئے کربلا و نجف کے مزارات پر بھی سعودیہ کی خواھش کے مطابق بلڈوزر چلوا دئیے جائیں
راحیل شریف نے جس اتحاد کی سربراھی سنبھالی ھے وہ انکی تمام اندرونی و بیرونی خواھشات کی تکمیل کا واحد ذریعہ ھے مگر وہ بھول رھے ھیں کہ دنیا کی تمام بڑی طاقتیں اسرائیل کے ساتھ ملکر ایک حزب اللہ کو ختم نہیں کر سکی تو پوری دنیا میں پھیلی آلِ رسول کی شیدائی شیعہ قوم کو ان جیسے معمولی انسان کیا ختم کرسکیں گے ھاں البتہ ھم اللہ کی حکمت سے ایک اور دوھری شخصیت کی اصل حقیقت کو ضرور پیچان پائیں گے جو شائد مدتوں پردے کی آڑ میں چھپی رھتی..

علی شان

SHARE

1 COMMENT

LEAVE A REPLY