حُسین شناسی کا سفر۔3۔ طویل عزائی نظم ، ڈاکٹر نگہت نسیم

0
1237

سڈنی میں مقیم ڈاکٹر نگہت نسیم کا قلمی سفر طویل اور ہمہ جہت ہے انکو نظم ونثر دونوں پر دسترس حاصل ہے وہ کئی کتابوں کی مصنف ہیں۔ اس برس انہوں نے ۔۔حُسین شناسی کا سفر۔۔۔ کے عنوان سے ایک طویل عزائی نظم کہنے کا اہتمام کیا ہے جو عالمی اخبار کے لیئے خاص طور پر لکھی گئی اور کئی اقساط میں شائع ہو گی۔ ادارہ انکی صحت و سلامتی کے لیئے دعا گو ہے

ادارہ عالمی اخبار

…………………………………….

تیسری قسط

یہ وہی حسین ع ہیں
جو سید وسبط اصغر، شہیداکبر، اورسیدالشہداء ہیں
امام حسین علیہ السلام
تین شعبان چار ہجری ، بمطابق 8 جنوری 626ء کو جب روئے زمین پر آئے
تو ۔۔۔ زمین خوشی سے تھرک رہی تھی
آسمان ۔۔چاند ۔۔ تارے سب رقصاں تھے
ام الفضل بنت حارث نے خواب میں دیکھا تھا
رسول کریم کے جسم کاایک ٹکڑا کاٹ کران کی آغوش میں رکھا گیا ہے
یہ حسین ابن علی ابن ابی طالب تھے جو آغوش رسالت میں تھے
جن کی نشو و نما ۔۔ نوارانی ماحول میں ہوئی
ایک طرف ۔۔۔ پیغمبراسلام صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی گود تھی
جو اسلام کی تربیت کاگہوارہ تھی
جن کی زندگی کا مقصد ہی اخلاق انسانی کی تکمیل تھی
دوسری طرف
حضرت امیر المومنین علی ابن ابی طالب علیہ السّلام کی توجہ تھی
جو اپنے عمل سے خدا کے محبوب تھے
اور۔۔۔ تیسری طرف
حضرت فاطمہ زھرا سلام اللہ علیھا کی محبت تھی
جو پیغمبر خدا کی رسالت کی عملی تفسیر تھیں
تاریخ لکھتی ہے ۔۔۔
حضرت محمد مصطفےٰ (ص)
اپنے دونوں نواسوں کے ساتھ انتہائی محبت فرماتے تھے
سینے پر بٹھاتے ، کاندھوں پر چڑھاتے ۔۔ان کے ساتھ ساتھ رہتے تھے
اور ۔۔پھر مسلمانوں کو تاکید فرماتے
“ حسن اور حسین سے محبت رکھو “
تاریخ یہ بھی لکھتی ہے ۔۔
لیکن نبی پاک ص کی حسین ع سے محبت کے انداز کچھ خاص تھے
مسجد نبوی میں سجدہ کی حالت میں
حسین ع پشت مبارک پرآجاتے تو سجدہ طویل کر دیتے
ایک بار یوں ہوا۔۔ آپ ص خطبہ پڑھ رہے تھے
حسین ع مسجد کے دروازے سے داخل ہونے لگے اور زمین پر گر گئے
آپ رسول پاک ، نبی آخر صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے
خطبہ قطع کردیا۔۔ منبر سے اتر کر حسین ع کی طرف دوڑے
اور حسین کوزمین سے اٹھایا
گلے سے لگایا
اور ۔۔۔ پھر انہیں گود میں لیئے منبر پرتشریف لے گئے
اور مسلمانوں کو متنبہ کیا ۔۔ فرمایا
“ دیکھو یہ حسین ہے
اسے خوب پہچان لو اور اس کی فضیلت کو یاد رکھو “
پھر خاص طور پر فرمایا
“ حسین مجھ سے اور میں حسین سے ہوں “
پھر یہ بھی خوشخبری سنائی ۔۔۔ کہ
“ فاطمہ جنت کی عورتوں کی سردارہیں
اورحسنین جنت کے مردوں کے سردارہیں
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

جاری ہے

SHARE

LEAVE A REPLY