چوتھی قسط
امام حسین علیہ السّلام کی عمر ابھی چھ سال ہی کی تھی
جب انتہائی محبت کرنےوالے نانا کاسایہ سر سے اٹھ گیا
پیغمبراکرم ص کی وفات کے بعد
امیر المومنین کی شہادت تک کا پچیس سالہ دور ہے
امام حسن اور حسین ع وہ شخصیت بن کر ابھرے
جو کڑیل جوان، رشید، عالم اورشجاع ہیں
جنگوں میں آگے آگے ہیں
عالم اسلام کے بڑے بڑے کاموں میں حصہ لیتے ہیں
اسلامی معاشرے کے تمام مسلمان ان کی عظمت وبزرگی سے واقف ہیں
مکہ ومدینے کے مسلمانوں میں
جب بھی کسی جواد و سخی کا نام آتا تو سب کی نگاہیں
امام حسن و حسین علیہ السلام پر مرکوز ہو جاتیں
جہاں جہاں اسلام کا نور پہنچا
وہاں وہاں حسنین کریمین خورشید کی مانند جگمگا رہے ہوتے
لوگ حسن ع و حسین ع کی عظمت و بزرگی کے قولاً و عملاً قائل تھے
اپنے زمانے کے
بے مثل وبےنظیر جوانوں کا نام نہایت احترام اور عظمت سے لیتے
امام حسین علہ السلام کے اخلاق و اوصاف کیا بیان ہوں
آپ عصمت و طہارت کا مجسمہ تھے
آپ کی عبادا ت ، زہد , سخاوت ، کمال اور اخلاق کےدوست و دشمن قائل تھے
آپ کے لئے خود رسول اللہ نے فرمایا تھا
“ حسین میں میری سخاوت اور میری جراَت ہے “
آپ کے دروازے پر مسافروں اور حاجتمندوں کا ایک سلسلہ تھا
جو قائم رہتا تھا اور کوئی سائل محروم واپس نہیں جاتا تھا
آپ کا لقب ابوالمساکین ہو گیا
راتوں کو روٹیوں اور کھجوروں کے پشتارے اپنی پیٹھ پر اٹھانا
غریب محتاج بیواؤں اور یتیم بچوں کو پہنچانا کام ہو گیا
امام حسین ع ہمیشہ فرمایا کرتے تھے
“ جب کسی صاحبِ ضرورت نے
تمہارے سامنے دست سوال پھیلا دیا
گویا ۔۔اس نے اپنی عزت تمھارے ہاتھ بیچ ڈالی
اب تمھارا فرض بنتا ہے
تم اسے خالی ہاتھ واپس نہ کرو
کم سے کم اپنی ہی عزتِ نفس کا خیال کرو“
غلاموں اور کنیزوں کے ساتھ آپ عزیزوں کا سا برتاؤ کرتے تھے
ذرا ذرا سی بات پر آپ انہیں آزاد کر دیتے تھے
دشمنوں پر بھی وقت آنے پر رحم کھاتے تھے
اور ۔۔ اللہ اللہ ایثارایسا
اپنی ضرورت نظر انداز کر کےدوسروں کی ضرورت پوری کرتے
امام حسین ع کی عبادت
حرم پیغمبر میں آپ کا اعتکاف
آپ کی معنوی ریاضت اورسیر و سلوک و اخلاق
آپ کی حیات مبارک کا صرف ایک رُخ ہے
اب 35 ہجری کا وہ دور پر آشوب شروع ہوتا ہے
جب امام حسین ع کی عمر31 برس تھی
آپ کی حیات مبارکہ کادوسرا رُخ شروع ہوتا ہے
جو دین میں ہونے والی تحریفات سے مقابلہ کیے جانے سے عبارت ہے
علم اور تعلیمات اسلامی کے فروغ میں آپ کی خدمات کا اعتراف ہے
حضرت علی ا بن ابی طالب علیھما السّلام کو بحیثیت خلیفہ اسلام چنا گیا
طرح طرح کے ناگوارحالات امام حسین علیہ السّلام دیکھ رہے تھے
اور ساتھ ساتھ اپنے والد بزرگوار کی سیرت اور تحمل کا مطالعہ کرتے
اُس زمانے میں ہونے والی تحریف دین
درحقیقت اسلام کیلئے
ایک بہت بڑی آفت و بلا تھی
پورے اسلامی معاشرے کو
برائیوں کے سیلاب نے اپنی لپیٹ میں لے لیا تھا
یہ وہ زمانہ تھا
جب اسلامی سلطنت کے شہروں، ممالک اور مسلمان قوموں کے درمیان
اِس بات کی تاکید کی جاتی تھی
اسلام کی سب سے عظیم ترین شخصیت
امیر المومنین حضرت علی ابن ابی طالب علیہ السلام پر
مسجد و منبر سے لعن و شتم کریں
یہ وہ وقت تھا
اگر کسی پر صرف یہ الزام ہی ہوتا
کہ یہ امیر المومنین کی ولایت و امامت کا طرفدار اور حمایتی ہے
تو اُس کے خلاف قانونی کاروائی کی جاتی
اُس کا مال و دولت لوٹ لیا جاتا
بیت المال سے اُس کاوظیفہ بند کردیا جاتا یا قتل کر دیا جاتا
جاری ہے













