اللہ کے رسول کا کردار ہیں حسین۔9. شاہین رضوی۔ مختصر مرثیہ

0
833

نویں قسط

17

عباس خیمہ گاہ سے لے کر علم چلے
خیبر کی سمت جیسے علی زی حشم چلے
رُک کر نگاہ بچوں پہ کی دو قدم چلے
لمحے کو یوں لگا تھا کہ سوئے عدم چلے

چہرے پہ پھیلا نور تھا ابرو ہلال تھے
مُٹھی میں بند غازی کے جوں ماہ و سال تھے

18

پہنچے فرات پر تو غضب کا جلال تھا
ہاتھوں میں تھا علم تو نظر میں سوال تھا
یہ پسرِ بوتراب یہاں بھی کمال تھا
بچوں کا سوچ سوچ کے چہرہ بھی لال تھا

جو بدخصال سامنے آیا ہلاک تھا
پتھر کا دل بھی تیغ سے اب چاک چاک تھا

جاری ہے

SHARE

LEAVE A REPLY