نویں قسط
17
عباس خیمہ گاہ سے لے کر علم چلے
خیبر کی سمت جیسے علی زی حشم چلے
رُک کر نگاہ بچوں پہ کی دو قدم چلے
لمحے کو یوں لگا تھا کہ سوئے عدم چلے
چہرے پہ پھیلا نور تھا ابرو ہلال تھے
مُٹھی میں بند غازی کے جوں ماہ و سال تھے
18
پہنچے فرات پر تو غضب کا جلال تھا
ہاتھوں میں تھا علم تو نظر میں سوال تھا
یہ پسرِ بوتراب یہاں بھی کمال تھا
بچوں کا سوچ سوچ کے چہرہ بھی لال تھا
جو بدخصال سامنے آیا ہلاک تھا
پتھر کا دل بھی تیغ سے اب چاک چاک تھا
جاری ہے











