اُردو کی ممتاز فکشن نگار
پدم شری جیلانی بانو کا انتقال
نئی دہلی، یکم مارچ (یو این آئی) اردو ادب کے اُفُق پر افسانہ نگاری کا ایک روشن و معتبر نام، ممتاز افسانہ نگار و صاحبِ طرز ادیبہ پدم شری جیلانی بانو آج شام اس دارِ فانی سے رخصت ہو گئیں جیلانی بانو کافی عرصے سے علیل تھیں اور حیدرآباد(دکن) میں انہوں نے آخری سانس لی ان کے انتقال سے اردو دنیا ایک توانا، حساس و باشعور ادیبہ سے محروم ہو گئی۔ انھوں نے اپنے گہرے مشاہدے، حقیقت پسندانہ اسلوب و سماجی شعور سے بھرپور تحریروں کے ذریعے اردو افسانے کو نئی فکری جہت سے روشناس کرایا۔
جیلانی بانو کی ولادت اتر پردیش کی مردم خیز سرزمین بدایوں میں 14 جولائی، 1936 کو ہوئی۔
جیلانی بانو نےابتدائی تعلیم بدایوں ہی میں حاصل کی، بعد ازاں والد کے حیدرآباد منتقل ہونے پر اپنی بقیہ تعلیم یہیں مکمل کی۔ 1957 میں بی اے اور 1959 میں اُردو میں ایم اے کی ڈگری حاصل کی۔ ان کی شادی عثمانیہ یونیورسٹی کے پروفیسر، ڈرامہ نگار اور شاعر ڈاکٹر انور معظم سے ہوئی۔
جیلانی بانو نے جس عہد میں ہوش سنبھالا، وہ جاگیر دارانہ ماحول و معاشرے کی ٹوٹتی بکھرتی روایتوں اور قدروں، سیاسی و سماجی تغیرات اور تحریک آزادی کا دور تھا۔ اس دور کے حالات و مسائل نے ان کے حساس ذہن کو متاثر کیا اور جب انھوں نے قلم اٹھایا تو اپنی تمام تر فن کارانہ صلاحیتوں کو بروئے کار لانے کی سعی کی۔ انسانی زندگی کے نشیب و فراز اور دیگر سیاسی، سماجی مسائل کو کہانیوں کے پیرائے میں ڈھال دیا۔
ابتدائی عمر ہی سے انھوں نے میر تقی میر، غالب، اقبال، سعادت حسن منٹو، عصمت چغتائی، گورکی، چیخوف، موپساں، بیدی، فیض احمد فیض، مجاز، قرۃالعین حیدر اور احمد ندیم قاسمی سمیت تمام بڑے بڑے ادبا کی تحریریں پڑھ ڈالی تھیں، ان عظیم مصنفین کی تخلیقات کے مطالعے نے ان کی صلاحیتوں کو خوب جِلا بخشی-
جیلانی بانو نے نثر کی تمام اصناف پر طبع آزمائی کی۔ انھوں نے اپنا تخلیقی سفر ملک کی آزادی کے بعد شروع کیا۔ ان کی شہرہ آفاق تحریر بعنوان ’موم کی مریم‘ ماہنامہ’ سویرا ‘میں شائع ہوئی، جس نے انھیں شہرت کی بلندیوں پر پہنچادیا۔
جیلانی بانو نے 2002 میں ایک افسانہ لکھا تھا، جس کا عنوان ہے’عباس نے کہا‘ جسے صلاح الدین پرویز نے اپنے ادبی جریدے’استعارہ‘ میں شائع کیا۔ یہ افسانہ عراق پر ہونے والی جنگ میں امریکہ کی بربریت کی کہانی پر مبنی ہے۔ ان کے افسانے ان معنوں میں انفرادی اہمیت کے حامل ہیں کہ اس میں ماضی، حال اور مستقبل کے اشارے بھی واضح طور پر محسوس کیے جا سکتے ہیں۔ اُردو کے نسائی ادب میں وہ فکشن کے حوالے سے بلند مقام پر نظر آتی ہیں اور یہ مقام انہوں نے اپنی تخلیقی صلاحیتوں کے بل پر حاصل کیا۔
جیلانی بانو نے اپنے ناولوں میں کچھ ایسے مسائل کو موضوع بنایا ہے، جو برسہا برس گزرنے کے بعد بھی اس جدید ترین معاشرے میں کثرت سے پائے جاتے ہیں اور انسان اس کا مسلسل شکار ہو رہا ہے۔
’پتھروں کی بارش‘ کے نام سے ہندی میں 1987 میں دہلی سے ان کی کتاب شائع ہوئی۔ جیلانی بانو کے ناولٹ کا مجموعہ ’جگنو اور ستارے‘ کے نام سے لاہور سے 1965 میں شائع ہوا۔ اس مجموعے میں تین ناولٹ شامل ہیں۔ دیکھیں کیا گزرے ہے قطرے پر، جگنو اور ستارے اور رات۔ جگنو اور ستارے کا ایک اور ایڈیشن پاکٹ بک سائز میں شائع ہوا ہے اس مجموعے میں صرف دو ناولٹ ہی یکجا ہیں۔ رات اور جگنو اور ستارے۔ جیلانی بانو کے دوسرے ناولٹ کا مجموعہ’ نغمے کا سفر‘ ہے۔ یہ 1977 میں حیدرآباد سے شائع ہوا۔
انھیں متعدد ایوارڈ سے بھی سرفراز کیا گیا جن میں غالب ایوارڈ(دہلی)، دوشیزہ ایوارڈ (پاکستان)، سویت لینڈ نہروایوارڈ (ماسکو)، مہاراشٹر اردو اکیڈمی ایوارڈ، نقوش ایوارڈ (پاکستان)اور ملک کا موقراعزاز’ پدم شری ایوارڈ‘ بھی شامل ہے۔
ان کی معروف تحریروں میں ’روشنی کے مینار‘، جگنو اور ستارے، نغمے کا سفر، ایوانِ غزل، بارش ِسنگ، رستہ بند ہے، پرایا گھر، بات پھول کی، یقین کے آگے گمان کے پیچھے،’سچ کے سوا ‘شامل ہیں۔ علاوہ ازیں، انہوں نے حیدرآباد شہر پر بننے والی ڈاکیومنٹری ’حیدرآباد ایک شہر ایک تہذیب‘کا اسکرپٹ بھی تحریر کیا تھا۔
اُن کی کہانی ’’نرسیا کی باوڑی‘‘ پر نامور ہدایت کار شیام بینگل نے 2009 میں فلم Well Done Abba
بنائی، جسے بے حد سراہا گیا۔













