انشائیہ ’’میں ہُوں میں کدہ کی میں میں ‘‘ شائستہ زرّیں

0
417

( انشائیہ)
’’میں ہُوں میں کدہ کی میں میں ‘‘

یوں تو عصمت پروان ہی ’’میں‘‘ کے سائے میں چڑھی ہیں لیکن جانے کیوں اُن کے متاثرین کی اکثریت اس امرسے متفق ہے کہ اوائل عمر میں اُن پرکسی کہنہ مشق’’میں سُخن ‘‘کاسایہ پڑگیا تھااوراب تواُن کی میں بھی عُمرکی چھ دہائیاں مکمل کر کے ساتویں عشرے میں قدم رکھ چکی بلکہ قدم جما رہی ہے ۔اُن کی میں کوسٹھیائے بھی چندبرس بیت گئے اوروہ ہیں کہ سونے پرسُہاگہ کی عملی تفسیربنی ہُوئی ہیں۔ ’’میں‘‘ اُن کا برسوں پُرانامشغلۂ دہن ہے۔اُن کے منہ کویہ ’’حاضرمیں‘‘ ایسی لگی کہ اُنھوں نے’’ کافر مے ‘‘کے نشے کو بھی مات دے دی۔اُن کی میں مے سے بڑھ کرخطرناک ہے کہ مے کے نشے کی عُمرمُختصرہوتی ہے گھنٹہ دوگھنٹہ بعدجب مے کا نشہ ہَرن ہوتا ہے تومے خوار بھی معمول کی حالت میں آجاتے ہیں ۔میکدے سے لوٹنے والوں کوبھی ہوش آجاتا ہے۔ مگراُن کے ’’میں کدے‘‘ کی’’ میں خُواری‘‘ اُنھیں کبھی نارمل کیفیت میں رہنے ہی نہیں دیتی۔وہ برملا کہتی ہیں میں اپنی کہتی اوراپنی سُنتی ہُوں اور یہ ہمارے آبا ؤاجداد سے چلا آرہا ہے مجال ہے جوکبھی کوئی اپنے سوا اور کسی کی بھی سُن لے وہ کیاہے ناں لنکامیں جوچھوٹاسووہ بھی باون گزکا۔سوہمارے یہاں ننھاسابچہ بھی’’میں‘‘ کادم بھرتا نظرآئے گا۔دُور کیو ں جاؤں میری ہی مثال لے لیں عموماً بچے اپنی بات منوانے کے لیے ریں ریں کرتے ہیں اور میں اپنی بات منوانے کے لیے میں میں کرتی تھی، کرتی ہُوں اوراﷲ رکھے کرتی رہوں گی ۔ ایک مرتبہ ایک کرم فرمانے مجھے ’’ میں خاتون‘‘کہ کر پُکارا تویہ نام میرے میں میں من کو ایسابھایاکہ بتا نہیں سکتی عجب قسم کی اپنائیت، طمانیت اور سرشاری محسوس کرتی ہوں کیوں نہ کروں ’’ جب میں ہُوں تو میں ہُوں‘‘

میرے بچپن کی تمام کی تمام عیدیں میرے دماغ کی الماری کے یادوں کے خانے میں لبالب بھری ہیں اتنی کہ تِل دھرنے کوجگہ نہیں۔مجھے آج بھی وہ چاندرات بخوبی یادہے جب امی کی گودمیں چڑھ کرمیں نے چانددیکھنے کی کوشش میں پہلے میں پہلے میں کی ایسی رٹ لگائی تھی کہ امی نے برہمی سے کہا تھا

’’ننھی! تُوتوجیناحرام کردیتی ہے ابھی سے تیری میں کا یہ عالم ہے بڑی ہوکرتو تُو اپنی’’ددھیالی میں‘‘ میں سب پر بازی لے جائے گی ‘‘

اُس وقت میں بہت چھوٹی تھی لیکن امی کی پیشن گوئی صد فیصددرست ثابت ہُوئی ۔ددھیال بھرمیں کوئی میری میں کا مقابلہ نہیں کرسکتا اوراسی لیے تومیں خُودکو ’’میں کدہ کی میں میں‘‘ کہلانا پسندکرتی ہُوں۔
یہ وہ انکشافات ہیں جوعصمت آئے دن کرتی رہتی ہیں۔بچپن ہی سے وہ میں کے ہمرکاب رہیں۔جب بیاہ کر سسرال آئیں تو بھاری بھرکم جہیز کے ساتھ ’’میں‘‘ کا ورثہ بھی لائیں اور بڑے طمطراق سے میں کی بولی بول کرسراُٹھائے رکھا۔ پہلے اس میکیائی ورثے کو اپنے ہمسفر میں اورگزرتے وقت کے ساتھ ساتھ اپنی اولادبالخُصوص بیٹیوں میں مُنتقل کردیا۔رفتہ رفتہ اُن کے گھرکے ہرفردکے اندرجڑوں تک ’’میں‘‘ نے گھربنالیا۔بس ایک بیچاری اُن کی نئی نویلی بہو تھیں جو ’’ہم‘‘ کے زیرِاثرتھیں جب بھی اپنی ذات کے حوالے سے کوئی بات کرتے ہُوئے وہ ہم کاصیغہ کااستعمال کرتیں تومیں کاہٹ دھرم راگ الاپنے والی اُن کی نندیں ایک سُرمیں پُوچھتیں بھابھی آپ کتنی ہیں؟تب وہ سسرال کی سرحدمیں واقع محاذِجنگ میں خُودکوبہت نہتامحسوس کرتیں اورمُمکِنہ لسانی ہتھیاروں سے لیس ہونے کے باوجودزبان بندی کوترجیح دیتیں ۔ دل کے تمام حصے اس سوال کی تپش کے حصارمیں ہوتے حتیٰ کہ دل میں گرنے والے آنسوبھی آگ اُگلتے لیکن دن بھر’’میں‘‘کے مُختلف ساز بجتے دیکھ کربھی یہ نہیں کہتیں کہ’’ ہم ‘‘سے زیادہ بڑا مسئلہ ہے ’’میں‘‘۔ برداشت کی بھی ایک حد ہوتی ہے،بالآخراُن کی بہو نے بھی اپنی ’’میکیائی خُوہم‘‘ ترک کرکے’’سسرالی میں‘‘ اختیارکر لی اور اب وہ بھی میں میں کر تی ہیں۔شروع میں تو بہو رانی کی میں اُن پرگراں گزری لیکن جب ایک کرم فرمانے سمجھایاکہ آپ کی آئندہ نسل میں’’میں‘‘ کے فروغ کے لیے بہورانی کا آپ کے ساتھ میں کی کشتی میں سوارہونا بہت ضروری ہے تو اُنھوں نے بھی بہو کے اس ہُنرکوسراہا اور بہو نے بھی گھر میں امن و امان کی فضا بحال رکھنے کے لیے ’’ مستند میں‘‘ کا پلڑا بھاری رکھا۔

عصمت کے شوقِ تقلیدکی کوئی حد ہے نہ حساب خُداداد صلاحیت کی بات الگ ہے کہ اُن پر تو اُن کا واقعی کوئی اختیار نہیں،لیکن اختیاری صلاحیتوں کے زعم میں ہرمیدان میں کار گزاری دکھانے کا جذبہ اُن میں بدرجہ اتم موجود ہے ۔لوگ ہرفن مولا ہوتے ہیں وہ’’میں ہرفن مولا‘‘ ہیں۔ ابھی بھی کئی شعبے ایسے ہیں جن پر اُن کی پرچھائیں تک نہیں پڑی لیکن اِس میں دیرہی کتنی لگتی ہے میں کا اُنھیں اتنا ہوکا ہے کہ اِ دھرکسی کے ہُنر کی بھنک بھی اُن کے کانوں میں پڑی اُدھرفوری وہی ہُنر اُن کے اندر بھی ہچکولے کھانے لگتا ہے اور خاتون اس نیاکو پار لگانے کے لیے مچل اُٹھتی ہیں خواہ وہ اس کی ابجد سے بھی واقف نہ ہوں لیکن ناچ نہ جانے آنگن ٹیڑھا کی مثال بنی میں کی تپش میں جلتے ہُوئے اس میدان ہُنر میں خود کومنوانے کا عزم کرتی ہیں اور تجربے کے بغیر ہی اپنے احباب میں متوقع کامیابی کی نوید عام کر دیتی ہیں ۔ وہ ہر اُس شعبے میں ہاتھ پاؤں مارتی ہیں جس میں کسی ایسی ہستی نے کامیابی حاصل کی ہوجس سے اُن کامیں کا ناطہ ہے، یعنی وہ ہستی جسے وہ اپنی میں کی مار مارتی ہیں اور یہ اسی میں کاکرشمہ ہے کہ وہ خودساختہ سندیافتہ بھی ہیں کئی اسناد اُنھوں نے اپنے آپ کودادِتحسین پیش کرنے کی غرض سے اپنے ایک دستِ مبارک سے دوسرے دستِ مبارک میں منتقل کی ہیں اورخودستائشی کلمات کے ساتھ اُن کی تشہیربھی ایسے غیرمحسوس طریقے سے کی کہ کسی کوکانوں کان خبر تک نہ ہُوئی لیکن جوتاڑنے والے قیامت کی نظررکھتے ہیں اُن کی نظروں نے وہ سارے راز پا لیے جنھیں پوشیدہ رکھنے کی وہ ہر ممکن کوشش کرتی ہیں بعض اوقات وہ یہ کام علی الاعلان بھی کرتی ہیں گھریلُووہ اسقدرہیں کہ تمام گھریلُواُمورمیں طاق ہیںآج کل کی لڑکیاں کیاگھربناکررکھیں گی جو اُنھوں نے بناکررکھاہے۔بیرونی ذمہ داریاں نباہنے میں اُن کاکوئی ثانی نہیں ، یہ اُن کی’’میں رائے‘‘ ہے۔رائے عامہ اس سے قطعاً مُختلف ہے۔اکثریت کے مُطابق خاتون دراصل اُسی میدان عمل میں دسترس رکھتی ہیں جواُن کی اصل فیلڈ ہے۔دیگراُمورتواپنی میں کوتسکین دینے کے لیے اختیار کرتی ہیں۔

عصمت کا کمال یہ ہے کہ وہ وحدت ہی میں نہیں کثرت میں بھی میں کو فروغ دیتی ہیں جس کے نتیجے میں اُن کی بہو بیٹیاں بھی شہرت و مقبولیت کے دہانے پر آکھڑی ہُوئیں اور خود وہ اپنی میں کا نشہ میری بہومیری بیٹی کے توسط سے بھی پُوراکرتی ہیں۔اُن کی زندگی کئی یادگار واقعات کا مُرقع ہے ۔لوگوں کو داد دینے کا اُن کاطریقہ بھی انوکھا ہے مثلاً کام تو تمہارا خوب ہے لیکن جوکام تم پچپن میں کررہی ہونامیں نے وہ بچپن ہی میں کرلیاتھااور یہ کون سامُشکل کام ہے جو اَدھیر عُمرمیں کیاجائے میں نے تویہ کام پہلی مرتبہ اُس وقت کیاتھاجب مُجھے خمیزاُدھیرنی بھی نہیںآتی تھی اور تم اب لوگوں کے بخیے اُدھیرتی ہو۔خیر تم اچھا کام کرتی ہو۔کھانا تومیں ایسا پکاتی ہُوں کہ لوگ اُنگلیاں چاٹتے رہ جائیں۔ میرے کھانے کی کیا بات ہے۔بعض اوقات میں خاتون اپنی میں میں اتنی آگے نکل جاتی ہیں کہ بیماریوں کو بھی دعوت دے دیتی ہیں مثلاً اگرکوئی اُنھیں اپنی چھینک کی بھی اطلاع دے دے تو وہ اپنے دائمی نزلہ زکام کی ایسی ہوشرباداستان سُنائیں گی کہ چھینکنے والاخوفزدہ ہوجائے کیونکہ اُن کے اس پریشان کُن نزلے کاآغاز ہی معمولی چھینک سے ہُوا تھاجو بعد میں شدت اختیار کر گیا۔

یہ توچند واقعات ہیں اُن کی ہروقت کی میں اُن کے عزیز و اقارب کے لیے کتنے بڑے عذاب کا پیش خیمہ ہوگی اس کا اندازہ آپ خُود لگا لیجیے۔ہمارے پڑوسی کی بکری کی میں اوراُن کی میں میں یہ قدرمشترک ہے کہ کوئی کتنا ہی روکناچاہے،پیار سے چمکار ے ،برہمی سے دھمکائے مگر مجال ہے جو وہ میں کی دُھن پر نغمہ سرائی سے بازآئیں۔دونوں کی میں من مانی سے آراستہ ہوتی ہے۔بکری کی میں توایک قدرتی لے ہے وہ اپنی اس فطری لے سے دستبردارہوبھی نہیں سکتی لیکن اُن کی میں صدفیصد اُن کااپناکیادھراہے اسمیں قدرت کوالزام دینادُرست نہیں اس میں کااثربراہ راست اوروں پرپڑتاہے۔ بکرے کی میں میں سماعت پربارضرور بنتی ہے لیکن عصمت کی میں انسانی وجود میںآگ برساتی ہے۔بے وقت میں کا راگ الاپنے سے اُن کی بے وُقعتی میں کتنا ہی اضافہ کیوں نہ ہوجائے اُن کے لیے خوشی اورمسرت کی بات یہ ہوتی ہے کہ اپنی ہر میں کے اختتام پر فخریہ لوگوں کو یوں دیکھتی ہیں جیسے کہ رہی ہوں
دیکھا میں نہ مانی اور کر لی اپنی من مانی

اتنی زیادہ میں میں کرنے کے باوجود وہ بکری کی میں کامقابلہ نہیں کرسکتیں کم ازکم اُن کے سامعین نے کبھی رات گئے اُن کی میں نہ سُنی ہوگی جبکہ بکری کی میں کے کیاکہنے کہ بکری کبھی کبھی مُرغے کی بانگ سے پہلے ہی میں کی صدا اس تسلسل سے لگاتی ہے کہ میں خاتون بھی ہڑبڑا کر نیند سے بیدار ہو کر کہتی ہوں گی کہ ’’ اری بد بخت کیا میں میں چلا کر نیند خراب کر رہی ہے میں بھی توہُوں‘‘بیچاری بکری اُن کی زبان کیا جانے؟ورنہ اُسی وقت میں کے عالمگیر مسئلے پر جنگ چھڑ جاتی انسان تو پھرانسان ہے نا ں،سو میں بھی میں ہیں اور اپنی جگہ ایستادہ ہیں۔ اُن کے وجود سے کس کافر کو انکار ہے وہ عقلِ کُل ہونے کی مدعی ہیں سو جو اُن کی عقل میں سمائی بات کا منکر ہے وہ ناقص العقل ہے۔ اُن کی غَلَط بات بھی پتھر کی لکیر ہوتی ہے جو اُس پر خطِ تنسیخ کھینچے گا وہ ’’تعزیراتِ میں کی دفعہ میں ہی میں‘‘ کے تحت عُمرقیدکا سزاوارٹہرے گا اوریہ عُمرقید’’میں خانے‘‘ میں کاٹنی ہوگی ۔جانے کیوں انور شعور کا یہ قطعہ اپنی گرفت میں لے رہا ہے کہ
مَحَلّے میں بکروں کی آمد کے بعد
سُنی ہم نے میں میں تو لی جھر جھری
ہمیں میں سے محفوظ رکھے خدا
کہ چلتی ہے میں کے گلے پہ چُھری
واقعی اللّٰہ ہم سب کو میں سے محفوظ رکھے کہ کبھی کبھی میں کُند چُھری کی زد پہ بھی آجاتی ہے۔میں خاتون اوائل عُمرہی سے میں کی علت میں مبتلا ہونے کے باعث کہنہ مشق میں سُخنوں میں شُمار ہوتی ہیں اور اب تو میں کے مار ے ہُوؤں کے دل میں ایک ہی ارمان ہے کہ کوئی اُن سے بھی بڑھ کر قوی میں سُخن اُن سے ٹکڑا جائے اور سیر پر سوا سیر کا بٹہ مار کر اُن کی میں کا مُنہ کُچل دے یا اُنھیں خود ہی احساس ہو جائے کہ
پھرتے ہیں ’’ میں ‘‘ خُوار کوئی پُوچھتا نہیں
اس ’’میں میں‘‘ میں عزت بھی ہاتھ سے گئی
تواُن کی میں کادف مرجائے اوروہ میں سے نجات حاصل کرکے سُکھ کاسانس لیں۔اللّٰہ جانے خاتون کبھی اس معجزنما کیفیت سے باہرنکلیں گی بھی کہ’’شوقِ میں ستائی‘‘ سے لوگوں کے دل جلاتی رہیں گی یوں بھی وہ لوگوں کے دل جلانے کے تمام اسرار و رموز سے بخوبی واقف ہیں

یہ تو محض ایک میں کا فسانہ ہے ہمارے سماج میں جانے کتنے میں سُخن ہیں جو میں کے بلبوتے پر اوروں کے حصے کی کامیابیاں، خُوشیاں اورحد تویہ ہیکہ اہلیت تک خُود سے منسوب کر دیتے ہیں۔کیا ہی اچھا ہوکہ اگر کوئی ’’مرضِِ میں‘‘ میں مُبتلا ہے تو جلد ازجلد اس سے چُھٹکارا پالے کہ بیشک ’’میں‘‘ سب سے جُدا بناتی ہے لیکن کبھی کبھی یہی’’میں‘‘ سب سے جُدا بھی کر دیتی ہے۔ کہیں کل یہ دُکھ میں کے طفیل آپ کے حصے میں نہ آجائے
مُجھکو تنہا کر گیا میری میں میں کا شوق

شائستہ زرّیں

SHARE

LEAVE A REPLY