حُسین شناسی کا سفر۔21۔ طویل عزائی نظم ، ڈاکٹر نگہت نسیم

0
661

اکیسویں قسط

امام حسین علیہ السلام نے
حق کی طرف مڑنے والوں کو خوشخبری دیتے ہوئے فرمایا
اے وہ گروہ !
جو علم وفضل کے لئے مشہور ہے
جس کاذکر نیکی اور بھلائی کے ساتھ کیا جاتا ہے
وعظ و نصیحت کے سلسلے میں آپ کی شہرت ہے
اور الله والے ہونے کی بنا پر
لوگوں کے دلوں پر آپ کی ہیبت و جلال ہے
یہاں تک کہ طاقتور آپ سے خائف ہے
ضعیف و ناتواں آپ کا احترام کرتا ہے
حتیٰ وہ شخص بھی خود پر آپ کو ترجیح دیتا ہے
جس کے مقابلے میں آپ کو کوئی فضیلت حاصل نہیں
اور نہ ہی
آپ اس پر قدرت رکھتے ہیں
امام عالی مقام نے
بڑی محبت سے اللہ والوں کے لئے فرمایا
“جب حاجت مندوں کے سوال رد ہو جاتے ہیں
تو۔۔ اس وقت
آپ ہی کی سفارش کارآمد ہوتی ہے
آپ کو وہ عزت و احترام حاصل ہے
کہ
گلی کوچوں میں آپ کا گزر
بادشاہوں جیسا
جاہ و جلال اور اعیان و اشراف کی سی عظمت کے ساتھ ہوتا ہے
یہ سب عزت و احترام صرف اس لئے ہے
کہ
آپ سے توقع کی جاتی ہے
کہ آپ الہٰی احکام کا اجراء کریں گے
اگرچہ اس سلسلے میں
آپ کی کوتاہیاں بہت زیادہ ہیں
آپ نے امت کے حقوق کو نظر انداز کر دیا ہے
معاشرے کے کمزوراوربے بس افراد کے حق کو ضائع کردیا ہے
اور۔۔ جس چیز کو
اپنے خیال خام میں اپنا حق سمجھتے تھے
اسے حاصل کر کے بیٹھ گئے ہیں
نہ اس کے لئے کوئی مالی قربانی دی
نہ اپنے خالق کی خاطر اپنی جان خطرے میں ڈالی
اور نہ الله کی خاطر کسی قوم وقبیلے کا مقابلہ کیا
اسکے باوجود
آپ جنت میں رسول الله کی ہم نشینی اور الله کے عذاب سے امان کے متمنی ہیں
حالانکہ
مجھے تو یہ خوف ہے
کہ
کہیں الله کا عذاب آپ پر نازل نہ ہو
کیونکہ
الله کی عزت و عظمت کے سائے میں آپ اس بلند مقام پر پہنچے ہیں
جبکہ
آپ خود ان لوگوں کا احترام نہیں کرتے
جو معرفت خدا کے لئے مشہور ہیں
جبکہ
آپ کو الله کے بندوں میں
الله کی وجہ سے عزت و احترام کی نظر سے دیکھا جاتا ہے
آپ دیکھتے رہتے ہیں ۔۔۔

جاری ہے

SHARE

LEAVE A REPLY