اب یہ شہر بھی شہر کوفہ لگتا ہے
قافلہ کوئی شام کے بازار چلے
صفدرھمدانی
پاکستان کے شہر کراچی میں پچھلے کچھ عرصے سے آفات کا جو سلسلہ جاری ہے اس کی ایک وجہ اب میری سمجھ میں آئی کہ جس شہر میں سوار دوش رسول ،جگر گوشہ بتول ، نور نظر علی المرتضی علیہ السلام ، برادر زینب و حسن علیہ السلام جنت کے نوجوانوں کے سردار اور معنی زبح عظیم شہید انسانیت امام حسین علیہ السلام کے قاتلوں کو زندہ باد کہا جا رہا ہو اور جس شہر کی فضا میں فرقہ واریت کا زہر پھیلایا جا رہا ہو ، اس شہر میں اللہ کی رحمت کہاں سے آئے گی۔
مسلمانوں یاد رکھو !
یہ وہی حسین ع ہیں جس کے نانا حضرت محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے لئے اللہ پاک نے فرمایا کہ ” یہ کچھ نہیں کہتے بس جو اللہ کہتے ہیں ” ۔ اور اس حسین ع کے لیئے اسی اللہ کے رسول ص نے فرمایا کہ ” ” حسین مجھ سے ہے اور میں حسین سے ہوں ” ۔ اور یہ وہی حسین ع ہیں جو حالت نماز میں جب دوش رسول ص پر مسجد نبوی میں سوار ہوگئے ، رسول پاک کے سجدے نے طوالت پکڑی تو نماز پڑھنے والے تھوڑی دیر کے لئے پریشان ہوئے ۔۔ معلوم ہوا کہ نواسہ رسول معراج رسول پر ہیں ۔
مسلمانوں یاد کرو !
یہ وہی دوش رسول ص ہے جس پر حسین کے والد گرامی علی ابن ابی طالب علیہ السلام نے کھڑے ہو کر کعبے کے بت توڑے تھے۔
مسلمانوں یاد کرو !
یہ وہی حسین ع ہے جن کی ماں فاطمہ سلام اللہ کو اللہ کے رسول ص نے کائینات کی عورتوں کے لئے جنت کا سردار کہا اور فرمایا کہ فاطمہ میرے جگر کا ٹکڑا ہے ۔ مسلمانوں کی متفقہ کتابیں نواسہ رسول ص کی ایسے کتنی ہی اوصاف سے بھری پڑی ہیں۔ لیکن اکسٹھ ہجری کی کربلا میں جس طرح اس وقت کے دشمنان آل رسول ص کو حسین علیہ السلام کی شناخت نہ ہوسکی ، انکی اولادیں آج دوہزار بیس میں بھی آنکھوں پر یزید ابن معاویہ ابن ابو سفیان کی محبت کی عینک آنکھوں پر لگائے بانی پاکستان قائد اعظم کے شہر کراچی میں ” امیر یزید زندہ باد ” کے نعرے لگاتے ہوئے نظر آتے ہیں تو میں سو چتی ہوں کہ واقعی یہ بہت بڑا سچ ہے کہ
کہتا ہے کون ختم ہوئی کربلا کی جنگ
ہم لڑ رہے ہیں آج بھی فوج یزید سے
صفدر ھمدانی
میں گزشتہ دو راتوں سے بلکل نہیں سو سکی ۔ جب آنکھیں بند کرتی ہوں تو میرے سامنے یزید کے دوست اور حسین ع کے دشمن وہ چہرے آجاتے ہیں جنہوں نے میرے کراچی کی سڑکوں کو یزید زندہ باد کے نعروں سے زہر آلود اور ناپاک کیا ہے ۔۔
کبھی کبھی میں سوچا کرتی تھی کہ کربلا میں آل رسول کے نورانی چہروں کے مقابل وہ کونسے مکروہ اور حسین ع دشمن چہرے ہونگے جنہوں نے زینب کی ردا کھینچی ہونگی ، خیام حسینی کو آگ لگائی ہوگی ۔۔علی اکبر کے سینے میں برچھی ماری ہو گی ۔۔ قاسم کی لاش پر گھوڑے دوڑایئں ہو نگے ۔۔ علی اصغر کو تیر مارا ہوگا ۔۔ حسین ع کی لاڈلی بیٹی سکینہ و طمانچے ماریں ہونگے ۔۔ سورہ کہف کی تلاوت کرنے والے پرنور چہرے مبارک کو نیزے پر بلند کیا ہو گا ۔
میں سوچتی تھی یزید کے دربار میں یزید کے ساتھ بیٹھی وہ کونسی شکلیں ہونگی جنہوں نے علی ابن حیسن سید سجاد علیہ السلام کو ہتھکڑیو ں اور بیڑیوں میں گھنٹوں کھڑا رکھا ہوگا۔ وہ کونسے لوگ ہونگے جن کے سامنے علی کی شیر دل بیٹی زینب سلام اللہ علیہمانے یہ کہا ہوگا ” یزید فتح و شکست کا فیصلہ یہیں ہو گیا کہ اس اذان میں محمد رسولاللہ تیرے نانا کا نام ہے کہ میرے نانا کا نام ہے “۔
کراچی میں امیر یزید زندہ باد کے نعرے لگانے والے ان چہروں کو دیکھ کر مجھے جیسے یقین آگیا ، اکسٹھ ہجری کی کربلا میں حسین علیہ السلام پر پانی بند کرنے والے اور حسین ع کو نماز کی حالت میں سر تن سے جدا کرنےوالے یزیدیوں کے چہرے بھی بلکل اسی طرح کے ہونگے ۔۔۔ مکروہ اور متعفن چہرے ایسے ہی ہونگے۔
مجھ میں مزید لکھنے کی طاقت نہیں ، لیکن یہ کہہ کر اپنے حصے کی محبت آل رسول کی خوشبو لفظوں کی شکل میں پھیلانا چاہتی ہوں کہ افسوس اس بات کا ہے اسلام کے نام پر حاصل کی جانے والی اس مملکت کے سب سے بڑے شہر میں حکومت کو اتنی بھی توفیق نہ ہو سکی کہ وہ اس فرقہ واریت سے لبریز ریلی کو روکتی یا محدود کرتی کہ اس سے تعفن کی لہریں پورے ملک میں پھیل چکی ہیں ۔
شعیہ کافر کہنے والے یہ بھول گئے کہ پاکستان بنانے میں شعیان علی کا قائد اعظم سمیت کیا کردار تھا۔ یہ ان کی نسلیں ہیں جن کے بزرگوں نے تاریخ پاکستان کی کتابوں کے مطابق قائد اعظم کو ” کافر اعظم ” کہا تھا۔ اپنے اپنے چہروں پر ریال کی نحوست سجائے یہ ضمیر فروش لوگ جو پاکستان کے دینی مذہبی امن کو تباہ و برباد کرنے پر تلے ہیں ۔
ابھی بھی وقت ہے یہ حکومت ان متعفن لوگوں کو گھروں میں مقید کرے یا گرفتا رکرے اور ایسے لوگوں پر نقص امن کے مقدمات قائم کیئے جایئں ۔ میری یہ گفتگو کسی ایک مسلک کے لئے نہیں ہے ہاں یہ طے ہے کہ میری فکر میری سوچ فرمان رسول صلہ اللہ علیہ وسلم کی روشنی ہے ۔
رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے با وفا ، با کردار صحابیوں پر میری جان نثار لیکن یہ طے ہے کہ قران کہ یہ آیت ” ہم نے رجز کو ان سے دور کر دیا ” آل رسول علیہ السلام کے لئے ہے ۔ باوفا صحابہ کی تعظیم بجا لیکن ایک صحابی بھی آل رسول کے برابر نہیں ۔ شجرہ یزید ہر عہد میں اسلام کی تباہی کا زمہ دار رہا ہے اور شجرہ حسینی صبر کا اور اسلام کی بقا کا مظہر ہے ۔
اللہ کبھی اس کی شفاعت نہیں کرتا
جو فکر یزیدی سے بغاوت نہیں کرتا
نگہت میں مسلمان اُسے کہتی نہیں ہوں
جو قاتل شبیر پہ لعنت نہیں کرتا
ڈاکٹر نگہت نسیم













