قسط اڑتیس
امام علیہ السلام نے خیام کی طرف نظر دوڑائی
اپنے جانثاروں کو یاد کیا
جو کربلا میں پہنچنے سے پہلے ہی کوفے میں شہید کر دیئے گئے تھے
پھر ان جان نثاروں کی طرف دیکھا جو کربلا میں ان کے ہمراہ تھے
جن میں
بنی ہاشم کے چاند
حضرت ابوطالب کے پوتے اور پڑپوتے تھے
علی بن ابی طالب کے بیٹے
خود امام حسین بن علی علیہ السلام سالار لشکر
عباس بن علی ع (غازی عباس علمدار)
جعفر بن علی ،عبد اللہ بن علی
عثمان بن علی، عمر بن علی
اور ابو بکر بن علی
امام حسن حسن بن علی علیہ السلام کے بیٹے
ابو بکر بن حسن ، بشر بن حسن
عبد اللہ بن حسن ، قاسم بن حسن
عمر بن حسن ، حسن مثنیٰ
امام حسین بن علی علیہ السلام کے بیٹے
علی اکبر بن حسین اور علی اصغر بن حسین
عبداللہ بن جعفر و زینب بنت علی سلام اللہ علیہما کے بیٹے
عون بن عبد اللہ اور محمد بن عبد اللہ
عقیل ابن ابی طالب علیہ السلام کی اولاد (بیٹے اور پوتے)
مسلم بن عقیل (جائے شہادت کوفہ)
عبد الرحمان بن عقیل ، عبد اللہ اکبر بن عقیل
جعفر بن عقیل ،عبد اللہ بن مسلم بن عقیل
عون بن مسلم بن عقیل، محمد بن مسلم بن عقیل
جعفر بن محمد بن عقیل ،احمد بن محمد بن عقیل
اور محمد بن ابی سعید بن عقیل
امام حسین بن علی علیہ السلام کے اصحاب
ابراہیم بن حضین اسدی ، ابو حتوف بن حارث انصاری
ابو عامر نہشی ، اسلم ترکی مولی و (خادم امام حسین)
ادہم بن امیہ عبدی ، امیہ سعد طاعی
انس بن حارث کاہلی ، انیس بن معقل اصبحی
بریر بن خضیر ہمدانی ، بشر بن عبد اللہ حضرمی
بشیر بن عمرو حضرمی ،بکر بن حی تیمی
جابر بن حجاج تیمی ، جبلہ ابن علی الشیبانی
جنادہ بن حارث ہمدانی ، جنادہ بن کعب انصاری
جندب بن حجیر خولانی ،جون بن حوی غلام ابو ذر غفاری
جوین بن مالک تیمی ، حارث بن امرؤ القیس کندی
حارث بن بنہان ، حباب بن حارث
حباب بن عامر شعبی ،حبشی بن قیس نہمی
حبیب بن مظاہر (یا ابن مظہر) ، حجاج بن بدر سعدی
حجاج بن مسروق جعفی
حر بن یزید ریاحی دشمنوں کے لشکر سے آئے
حلاس بن عمرو راسبی ، حنظلہ بن اسعد الشبامی
حنظلہ بن عمرو شیبانی ، رافع مولی مسلم بن کثیر ازدی
زاہر بن عمرو کندی ، زہیر بن بشر خثعمی
زہیر بن سلیم ازدی ، زہیر بن قین بجلی
زیاد بن عریب صادی ، سالم غلام بنی مدینہ کلبی
سالم غلام عامر بن مسلم عبدی ، سعد بن حارث انصاری
سعد بن حرث (غلام امام علی) ،سعد غلام عمرو بن خالد صیداوی
سعید بن عبد اللہ حنفی ،سلمان بن مظارب بجلی
سلیمان (غلام امام حسین) ، سوار بن منعم نہمی یا سوار بن حمیر جابری
سوید بن عمرو بن ابی مطاع ، سیف بن حارث جابری
شوذب مولی عابس ابن شبیب الشاکری ، ضرغامہ ابن مالک التغلبی
عائذ بن مجمع عائذی ، عابس بن ابی شبیب شاکری
عابر بن حساس بن شریح ، عامر بن مسلم عبدی
عباد بن مہاجر جہنی ، عبد الاعلی بن یزید کلبی
عبد الرحمن ارحبی ، عبد الرحمان بن عبد رب انصاری
عبد الرحمن بن عروہ غفاری ، عبد الرحمن بن مسعود تیمی
عبد اللہ بن ابی بکر ، عبد اللہ بن بشر خثعمی
عبد اللہ بن عروہ غفاری ، عبد اللہ بن عمیر بن حباب کلبی وہب بن حباب کلبی
عبد اللہ بن یزید کلبی ، عبید اللہ بن یزید کلبی
عقبہ بن صلت جہنی
عمارہ بن صلخب ازدی
عمران بن کعب بن حارثہ اشجعی ، عمار بن حسان طائی
عمار بن سلامہ دالانی ، عمرو بن عبد اللہ جندعی
عمرو بن خالد ازدی ، عمرو بن خالد صیداوی
عمرو بن قرظہ انصاری ، عمرو بن مطاع جعفی
عمرو بن جنادہ انصاری ، عمرو بن ضبیعہ ضعبی
عمرو بن کعب، ابو ثمامہ صائدی
قارب مولی حسین بن علی ، قاسط بن زہیر تغلبی
قاسم بن حبیب ازدی ،کردوس بن زہیر التغلبی
کنانہ بن عتیق تغلبی ، مالک بن انس کاہلی
مالک بن دودان ، مالک بن عبد اللہ بن سریع جابری
مجمع جہنی ، مجمع بن عبد اللہ عائذی
محمد بن بشیر حضرمی ،مسعود بن حجاج تیمی
مسلم بن عوسجہ اسدی ، مسلم بن کثیر ازدی
مقسط بن زہیر تغلبی یا مقسط بن عبد اللہ بن زہیر
منجح مولی حسین بن علی ، وقع بن ثمامہ اسدی
نافع بن ہلال جملی ، نصر
نعمان بن عمرو راسبی ، نعیم بن عجلان انصاری
واضح رومی مولی حارث سلمانی
ہفہاف بن مہند راسبی
یزید بن ثبیط عبسقی
یزید بن زیاد بن مہاصر کندی
یزید بن مغفل جعفی
وہ اصحاب جنہوں نے کربلا کی جنگ سے پہلے
کوفے میں جام شہادت نوش کیا
ان میں
عمارہ بن صلخب ازدی
مسلم بن عقیل
عبد الاعلی بن یزید کلبی
اور ۔۔قیس بن مسہری تھے
کئی جلیل القدر صحابیہ تھیں
جنہوں نے اپنے لخت جگر میدان کربلا میں بھیجے
جاری ہے













