قسط بیالیس
حضرت امام حسین نے جب دیکھا
کہ
صلح کی آخری کوشش بھی ناکام ہو گئی ہے
تو
آپ نے اپنی مختصر ترین فوج کو منظم کیا
جو
پینتالیس گھڑسوار اور ایک سو پیادہ پر مشتمل تھی
حضرت عباس علیہ السلام کو علم مرحمت کیا
زہیر بن قیس دایئں طرف میمنہ پر
اور
حبیب ابن مظاہر کو بایئں طرف میسرہ پر متعین کیا
اس کے بعد
اللہ تبارک تعالٰی کے حضور تائید اور نصرت چاہی
اس کے بعد
دشمن کی صفوں کی طرف دوبارہ متوجہ ہوئے
فرمایا
“اے لوگو !
جلدی نہ کرو ، پہلے میری بات سن لو
مجھ پر
تمہیں سمجھانے کا جو حق ہے
مجھے اسے پورا کر لینے دو
میرے آنے کی وجہ بھی سن لو
اگر تم میرا عذر قبول کرلو گے
اور مجھ سے انصاف کرو گے
تو
تم انتہائی خوش بخت انسان ہو گے
اگر تم
اس کے لیے تیار نہیں ہو
تو
تمہاری مرضی
تم اور تمہارے شریک مل کر زور لگا لو
اور مجھ سے
جو برتاؤ کرنا چاہتے ہو کر ڈالو
اللہ تعالٰی میرا کارساز ہے
اور وہی اپنے نیک بندوں کی مدد کرتا ہے
اے لوگو !
تم میرے
حسب ونسب پرغورکرو اور دیکھو
میں کون ہوں ۔۔؟
اپنے گربیانوں میں جھانکو اور اپنے آپ پر ملامت کرو
اور سوچو
کیا تمہیں
میرا قتل اور میری توہین زیب دیتی ہے؟
کیا میں
تمہارے نبی ص کا نواسہ اور ان کے چچیرے بھائی کا بیٹا نہیں ہوں
کیا سید الشہداء حضرت امیر حمزہ میرے والد کے چچا نہ تھے؟
کیا جعفرطیار میرے چچا نہ تھے ؟
کیا تمہیں رسول اللہ ص کا وہ قول یاد نہیں
جو انہوں نے
میرے اورمیرے بھائی کے بارے فرمایا تھا
کہ
“ دونوں نوجوانان جنت کے سردار ہوں گے “
اگر میرا یہ بیان سچا ہے ۔۔۔ اور ۔۔ ضرور سچا ہے
تو بتاؤ
کیا تمہیں
ننگی تلواروں سے میرا مقابلہ کرنا زیب دیتا ہے ؟
اگر تم مجھے جھوٹا سمجھتے ہو
تو
آج بھی
تم میں وہ لوگ موجود ہیں
جنہوں نے
میرے متعلق رسول اللہ ص کی یہ حدیث سنی ہے
تم ان سے دریافت کر سکتے ہو
اب تم بتاؤ
اس حدیث کی موجودگی میں بھی
کیا تم لوگ
میرا خون بہانے سے باز نہیں رہ سکتے ”
لیکن
نواسہ رسول حضرت حسین علیہ السلام کے
اس خطاب کا
ظالم کوفیوں اور ان کے سرداروں پر ذرا اثر نہ ہوا
ماسوائے
حُر بن یزید تمیمی الریاحی کے
انہیں
معرکہِ حق و باطل درپیش تھا
ایک طرف عبادات، نمازیں اور تلاوت تھی
اور دوسری جانب
ہزاروں کے لشکر میں آلاتِ حرب کی جھنکار
اور درمیان میں
بھوکے پیاسے بچوں کی آہ و بکا
حر بن یزید تمیمی الریاحی
بے چین اور مضمحل اپنی فکر میں غرق تھے
وہ سوچ رہے تھے
”یہ میں نے کیا کیا؟
میں نے فاطمہ سلام اللہ علیہما کے بیٹے کو کس مقام پر پہنچا دیا؟
ان کا ضمیر مسلسل انکو کچوکے لگا رہا تھا
حر بن یزید تمیمی الریاحی سخت پشیمان تھے
منصبی ذمہ داریوں نے
انہیں
حق و باطل کے درمیان
تفریق کرنے کی مہلت نہ دی تھی
وہ سوچ رہے تھے
“ یہ میں ہی تو تھا
جو پہلی بار
امام حسین علیہ السلام کی راہ میں حائل ہوا
ان کے قافلے کو محصور کیا
آج میری وجہ سے قافلہ بھوکا اور پیاسا ہے
وہ اپنی زندگی کی بے معنویت پہ نادم و شرمسار تھے
انہوں نے چاروں اور نظر دوڑائی
یزیدی فوج میں ہزاروں کا مجمع تھا
مگر یہ اجسام روح سے عاری تھے
وہ سوچ رہے تھے
مٹھی بھر لشکر کا ساتھ دے کر جاہ ہو حشم کو ٹھکرانا ہے
یا جابر و عیاش حکومت کی گود میں عافیت ڈھونڈنی ہے؟
کوئی ایک راستہ
اِدھر
یا ۔۔۔ اُدھر
فوج ِیزیدی کی سپہ سالاری یا حسینی دستے کی غلامی
شب ِعاشور ہی فیصلے کی رات تھی
وقت کم تھا لیکن فیصلے کی رات طویل تر تھی
پھر جب
لیلائے شب کی کوکھ سے روشن سپیدی کا ظہور ہوا
تو فیصلہ ہو چکا تھا
اب
حر بن یزید تمیمی الریاحی
اپنے نام کی طرح اپنے فیصلے میں آزاد تھے
وہ اب یزید کا تابع بن کر نہیں رہنا چاہتے تھے
ان کے سامنے
یزیدی فوج کے ہزاروں سر تھے
لیکن وہ یہ بھی جانتے تھے
معرکہِ حق و باطل میں سروں کی گنتی نہیں ہوتی
اصولوں کی قیمت ہوتی ہے
اور ان کی خاطر چاہے سر کی بازی ہی کیوں نہ لگانی پڑ جائے
حر اپنے گھوڑے کا رخ مخالف سمت میں موڑتے ہیں
جسے دیکھ کر
یزیدی فوج کے مہاجر بن اِرث حر کی بے چینی بھانپ لیتے ہیں
” حر کیا پریشانی ہے مجھ سے تو یہ عقدہ نہیں کھل رہا؟
خداکی قسم !
اگر کوئی مجھ سے
ہماری فوج کے بہادر ترین انسان کا نام پوچھے
تو میں بلا تامل تمہارا نام لوں گا
اور تم ہو
کہ
پریشان اور بے چین نظر آ رہے ہو؟
حر نے پہلو بدلتے ہوئے جواب دیا
” میں اپنے آپ کو جنت اور جہنم کے بیچ میں دیکھتا ہوں
مجھے
ان دونوں میں سے ایک راستے کا انتخاب کرنا ہے
اور خداکی قسم
میں سوائے جنت کے
اب کوئی اور راستہ نہیں منتخب کر سکتا “
فیصلہ کی گھڑی تمام ہوئی
اور عمل کا وقت آن پہنچا
حر کی دعوتِ حق میں ان کے بیٹے اور غلام بھی ساتھ تھے
وہ تینوں آہستہ آہستہ چلتے ہوئے
امام حسین کے خیمہ کی جانب پہنچے
ادھر امام حسین علیہ السلام
مولا عباس علیہ السلام اور علی اکبر ع کو حکم دیتے ہیں
” میرا مہمان آرہا ہے
میں چاہتا ہوں
تم دونوں
ان کا استقبال کرو ”
خیمے سے باہر نکل کر وہ کیا دیکھتے ہیں
حر بن یزید تمیمی الریاحی
خیام حسین ع کے قریب پہنچنے پر
غلام کی مدد سے
اپنے ہاتھوں کو پشت پہ رسیوں سے بندھواتے ہیں
امام حسین علیہ السلام کی خدمت میں حاضر ہوتے ہیں
قریب جانے پر ہتھیار پھینک کر
اپنے گھٹنے ٹیک کر زمین پہ خود کو گرادیتے ہیں
اور بلک بلک کر روتے ہوئے معافی کے خواستگار ہوتے ہیں
” اے حسین ع
میں ہی ہوں
جس نے آپ کا راستہ روکا تھا
کیا میرے لئے کوئی سزا ہے؟”
امام ان کو اپنے بازوؤں میں سمیٹ لیتے ہیں
ان کے بندھے ہوئے ہاتھوں کو کھولتے ہیں
اسی اثنا میں خیمہ گاہ سے
بنت علی جناب زینب سلام اللہ کا حر کے لئے سلام آتا ہے
فرماتی ہیں
” سلامتی ہو ۔۔
تم ایسے وقت میں میرے بھائی کی مدد کے لئے آئے ہو ”
امام حسین ع نے فرمایا
”حر میں نے تمہیں معاف کیا
اور میں یقین دلاتا ہوں
کہ
میرے نانا بھی تمہیں معاف کرتے ہیں “
معافی کاپروانہ پا کر
حر جنگ لڑنے کی اجازت طلب کرتے ہیں
امام علیہ السلام فرماتے ہیں
”حر تم ہمارے مہمان ہو
تمہیں اپنے لیے مرنے کی اجازت کس طرح دے سکتا ہوں؟ “
حر اصرار کرتے ہیں
جاری ہے












