یہِ حضرت عیسی ؑکا یوم ِ پیدائش نہیں اللہ سبحانہ تعالی کا یو م ِتشکر ہے۔۔۔۔ شمس جیلانی

1
1176

ًخرد کا نام جنوں پڑگیا جنوں کا خرد جو چاہے آپکا حسن ِ کرشمہ ساز کرے اللہ سبحانہ تعالیٰ مولانا حسرت موہانی کو جنت نصیب فرما ئے بڑا پیارا شعر عطا کر گئے ہیں جوپیدائش حضرت ِ عیسیٰ ؑ کے علاوہ اور نہ جانے کتنے مواقعوں پر چسپاں ہوتا ہے؟حضرت عیسی کے بارے میں کچھ فرقے جو کہ انکے ماننے والے ہیں وہ اب اُس وقت کے مقابلے میں زیادہ مختلف ا لعقیدہ ہیں وہ بھی زیادہ تراسوقت اس سے اتفاق کر تے تھے جیسا کہ اللہ سبحانہ تعالیٰ نے ان کے بارے میں قرآن میں راہ نمائی فرمائی ہے۔ جس کی تفصیل حضو ر ﷺ اور عیسائی بادشاہوں کے درمیان خط وکتابت سے ثابت ہے؟اور جس سے ثابت ہوتا ہے کہ ہمارے عقیدے میں اوران کے عقیدے میں کوئی اسوقت زیادہ فرق نہیں تھا، اس لیئے کہ اسلام تمام انبیائے ؑ کرام پر ایمان لانے کا مسلمانوں کو حکم دیتا ہے لہذا یہ ممکن ہی نہیں ہے کہ ہم کچھ انبیا ئے ؑ کرام کو ما نیں اور کچھ کو نہ مانیں یہ اسلام میں قابل قبول قطعی نہیں ہے؟ اس میں وہ تمام انبیا ئے کرامؑ شامل ہیں جو کہ حضورﷺ کی آمد سے پہلے پہلے تشریف لا چکے تھے۔ یہ تو ہےحضرت عیسی ٰ ؑ کی حیثیت مسلمانوں کے نزدیک؟ رہیں ان کی والدہ محترمہ حضرت مریم سلام اللہ علیہا چو نکہ قرآن ان کو ان انتہائی قابل ِ احترام اور پارسا خواتین میں شامل کرتا ہے،جو کہ احادیث سے بھی ثابت ہے۔ لہذامسلمانوں کو انکا احترام کرنا اسی طرح فرض ہے جس طرح اور تمام مقدس محترم خواتین کاذکر کرتے ہیں۔ چونکہ وہ قرآن کے الفاظ ہیں لہذا ہر مسلمان کا ان پر ایمان بھی ہے۔ رہے وہ فرقے جو بعد کی پیداوار ہیں ان کی بات دوسری ہے؟ اسی طرح ایک فرقہ جو تین سو سال کے بعد عیسایت اور رومن رواجات ملا کر بناوہ دونوں تہذیبوں کا امتزاج ہے وہ اسے خود بھی مانتے ہیں کہ وہ تین سو سال کے بعد معرض وجود میں آیا ہے اور وہ کیسے آیا تاریخ گواہ اسے سب جانتے ہیں۔لہذا بحث کرنے کی نہ کوئی ضرورت ہے نہ حکم ہے؟ لہذا اس پر بلاوجہ کی بحث کرکے آپس میں تعلقات خراب کرنا ہیں جبکہ قرآن کہتا ہے کہ ان سے کہوکہ جن باتوں پر ہم اور آپ متفق ہیں ان پر تو کم ازکم عمل کریں؟اس کے علاوہ یہ بھی ہمیں حکم دیادیا گیا ہے کہ ہم کسی کے ماننے والوں کو بھی برا نہ کہیں جس سے جوابد دینے کی دوسروں کو میں تحریک پیدا ہو؟اور انہیں ہمارے بزرگو ں کواور مذہب کو کسی بھی طرح نشانہ بنا نے کاموقع ملے؟ کیونکہ سر پھرے ہر قوم میں موجود ہیں اور شر پسند موقعوں کی تاک میں رہتے ہیں؟ جبکہ ہمیں تبلیغ کے لیئے بھی جن لوگوں کو کہیں بھیجنا ہو ان کے اندر اتنی صلاحیت ضرور ہونا چاہیئے جو ان سے یہ آیت تقاضہ کرتی ہے کہ ً ً تبلیغ ہمیشہ دوسروں کا احترام ملحوظ رکھتے ہوئے حکمت کے ساتھ کرو ً اس کی وضاحت میں حضورﷺ نے ایک حدیث عطا فرمادی ہے جس کا لبِ لباب یہ ہے کہ فضول بحث او رمباحثے سے بچو ً
وجہ یہ ہی تھی کہ حضرت عیسیٰ کے ماننے والوں نے چونکہ حضور ﷺ کے آنے کی خبر پہلے سے سن رکھی تھی لہذا ان کے ماننے والے عیسائی بادشاہوں نے بھی مختلف رد عمل کا اظہار کیا؟کسی نے تحائف بھیج کر خیر سگالی کا اظہار کیا۔کسی نے اسلام قبول کرلیااور کسی نے معاہدہ کر لیا؟ حبشہ کے بادشاہ نجاشی ؓ نے با قاعدہ نو مسلموں کو اپنے یہاں پناہ دیدی اور اس مسئلہ پر قریش کی سفارت ناکام گئی؟ جب کے حضور ﷺ نے ان کو حبشہ جانے کا حکم یہ کہہ کر ان الفاظ میں دیا تھا کہ “ تم حبشہ چلے جاؤ وہاں کا بادشاہ منصف ہے “۔ صرف تھوڑی سی تکرار کی نوبت حضورﷺ کو اپنے ہمسایہ عرب نصاریٰ سے پیش آئی جوکہ نجرانی کہلاتے تھے؟ اور شام کے حلیف تھے۔؟جبکہ ان کے اپنے ہی لوگوں نے اس جرم میں کہ وہ اس فرقے سے نہیں تھے جس سے وہ تھے آگ لگاکر ایک مرتبہ انہیں زندہ بھی جلا دیا تھا؟ مسلمانوں نے ان کے ساتھ بخوشی معاہدہ سورہ آل ِ عمران کی آیت مباہلہ نمبر59کے نزول کے بعد کرلیا جس میں یہ ہے کہ عیسیٰ کا معاملہ با لکل آدم ؑ جیسا ہے کہ ہم نے اسؑ کو مٹی سے بنایا اور “ کن ً“ کہدیا وہ عالم ِ وجود میں آگیا۔ یہاں اشارہ اس طرف ہے کے ان کی نہ والدہ تھیں نہ والد تھے ؟لہذا یہ ہماری بلا والد کے تخلیق ہے اگر ہم ماں اور باپ کے بغیر پیدا کرسکتے تو بغیر والد کے بھی پیدا کرسکتے ہیں۔ پھر بھی تمہیں کوئی شبہ ہے تو تم اپنے بچوں اور عورتوں کو لے آؤ اور ہم اپنے بچوں اور خواتین کو لے آئیں اور فیصلہ اللہ پر چھوڑدیں، پھر بھی وہ نہ مانیں تو اللہ شر پسندوں کو جانتا ہے “ لیکن وہ اس مباہلے کے لیئے تیار نہیں ہو ئے اور انہوں نےجزیہ دینا بخوشی منظور کرلیا جو اس سے ظاہر ہے کے حضورﷺ سے انہوں نے درخواست کی آپﷺ کوئی ایماندار شخصیت ہمارے ساتھ کر دیں تاکہ جو جزیہ بنتا ہے ہم اسے دیدیں؟ حضور ﷺ نے چاروں طرف دیکھا اور دیکھ کر فرمایا کہ کل آنا! چونکہ وہاں تو ہر ایک دوسرے سے تقویٰ میں بڑھا ہوا تھا وہ سوچتا رہا اور اچک اچک کر دیکھتا رہا کہ شاید حضور ﷺمیرا نام لیں؟ لیکن انہوں ﷺ نے کل کے لیئے ملتوی کردیا اور دوسرے دن حضرت ابو عبیدہ ؓ بن الجراح کو یہ فرماکران کے ساتھ کیا کہ ًہر امت میں ایک آدمی معتبر ہوتا ہے یہ اس امت کے معتبرآدمی ہیں۔ جبکہ قرآن نے عیسا ئیوں کے بارے میں ہمیشہ ان کے رویہ کی یہ کہہ کر تعریف کی ہے کہ وہ رحمد دل ہیں؟ لیکن ہر سال ہمارے علماءے کرسمس کوتشبہ کہہ کر منا نے سے منع کرتے ہیں اوربلاوجہ کی تلخی پیدا کرتے ہیں؟ جب کے اسی موسم میں دوسرے کئی مذاہب کے لوگ اپنے اپنے عقائد کے مطابق اپنا مذہبی بیک گراؤنڈ اسے دیکر منانے رہے ہوتے ہیں ؟یہ صرف کرسمس کو متشبہ کے نام دیکر منانے سے منع کررہے ہوتے ہیں جبکہ انہیں کے پیر مرشد اعلیٰ حضرت امداد اللہ ؒمہاجر مکی نے رسالہ ہفت مسائل میں اسے تشبہ ماننے سے انکار فرمایاہے؟ رہا تشبہ کا معاملہ تو بات کہاں تک پہنچے گی وہ رسالہ ہفت مسائل میں پڑھ لیجئے بات سمجھ میں آجائے گی؟ آپ اس مسئلہ کو کب تک لیکر بیٹھیں رہنگے؟ جبکہ وہ اس کو مذہبی تیو ہار ماننے پر زور نہیں دیتے ہیں چونکہ آجکل سرمایہ داروں کی دنیا ہے اور یہ رواج پاچکا ہےاب اس پرکوئی بندش نہیں لگ سکتی ہے، اور یہ ایک بہت بڑا کار و باری تیوہار بن چکا ہے۔یوں یہ مجبوری کے زمرے آتا ہے۔ جبکہ حقیقت یہ ہے کہ تمام دنیا میں زمانہِ قدیم سے نئی فصل آنے پر اللہ کا شکر ادا کرنے کا رواج چلا آرہا ہے جہاں ایک فصل ہوتی ہے وہاں ایک دفعہ مناتے ہیں اور جہاں دو فصلیں ہوتی ہیں یعنی ربیع اور خریف ہوتی ہیں تو سال میں دو دفع مناتے ہیں جیسے ہولی اور دیوالی یا دیپاوالی وغیرہ باقی دنیا میں منائی جاتی ہے۔ مشرقی یورپ میں فصل کے موسم میں فرق ہے وہ کرسمس دسمبر میں نہیں مناتے ہیں؟ چونکہ اس طرح اس کو ایک بین اقوامی کاروباری حیثیت حاصل ہوگئی ہے لوگوں کو چیزیں سستی ملتی ہیں وہ مال میں جاتے ہیں اور خریدتے ہیں اس میں بلا تحقیق ہر فرقہ، قومیت اور مذہب کے ا فراد شامل ہوتے ہیں۔ مال (بازار) میں جانا اگر تشبہ ہے تو کدھر سے ہوا جبکہ ہم عیدین پر اس کا الٹ کرتے ہیں کہ بجا ئے سستی ہونے کے ہر چیز مہنگی کردیتے ہیں لہذا اگرعلمائے کرام اس طرف توجہ دیں تو کہیں بہتر ہے ہوگا کہ عیدین پر با قاعدہ ایک تحریک چلا ئیں کے تاکہ مسلمانوں کو چیزیں سستی ملیں؟ تو یہ ایک بہت بڑی قومی خدمت ہوگی۔ اللہ سبحانہ تعالیٰ ہمیں توفیق عطا فرمائے(آمین)

SHARE

1 COMMENT

  1. 25th December is a national holiday, it is an excellent opportunity for the Muslims to hold programs in Masjids and Islamic centres and this will give a reason to those who normally, because of their worldly commitments, don’t attend congregational prayers to come to the Masjid and benefit from talks or lectures about Islam.

LEAVE A REPLY