یہ مشورہ علامہ اقبال (رح) نے اپنے صاحبزادے جسٹس جاوید اقبال کو دیا تھا؟ وہ بھی عجیب تھے کہ اپنی اولاد کو فقیری کا درس دیتے تھے؟ جبکہ آج کے والدین جھوٹ بولنے کا سبق دیتے ہیں اور جھوٹ میں ہی وہ نام پیدا کرتے ہیں وہ کہتے ہیں کہ “کیا رکھا سچ میں جھوٹے بے شک کہلاؤ مگر مال بناؤ“ اسی ملک میں پہلے کیسے کیسے لوگ ہوگز ے ہیں؟ ا یسا ہی ایک واقعہ جواسکندر مرزا کی صدارت کے دور میں رونما ہو وہ ہم پیش نظر کررہے ہیں واقعہ یہ ہےکہ اس نے ایک لوہار کے بیٹے کو وزیر بنا دیا تھا اس لیے کہ ان کے پاس قومی اسمبلی کے چھ ممبر تھے؟ وہ بزرگ ان مں سے تھے جو کہ صوبہ سرحد کو پاکستان میں شامل کرنے میں پیش پیش تھے۔مگر جب وہاں مسلم لیگ کی حکومت بنی تو بڑے پڑے لوگ اس میں شامل ہو گئے مسلم کے پرانے ممبران آج کی طرح بھلا دیئے گئے؟ مگر انہیں ان کی سماجی خدمت کی بنا پر دلوں سے نہیں نکالا جاسکا؟ لہذا 1958 ء کے اوائل میں اسکندر مرزا نے راتوں رات جب ریبلکن پارٹی بنا لی توانہوں نے بھی باحسرت ویاس مسلم لیگ کا جوا اپنے کندھوں سے اتار پھینکا اور وہ وزیر مملکت برائے داخلی امور بن گئے۔ جبکہ وزیر داخلہ سابق شیر بنگال اور حال جگتو فرنٹ کے لیڈر مولوی اے کے ایم فضل الحق مرحوم تھے؟ اگر چپ وہ چپ رہتے تو کسی کو خبر بھی نہ ہو تی کہ وہ لوہار کے بیٹے ہیں مگر وہ پیدائشی سچے تھے اور سچے باپ کے بیٹے تھے لہذا ان پر سچائی کا بھوت سوار تھا ؟کہ وہ جب حلف اٹھانے کے بعد اپنے دفتر میں پہونچے تو انہوں نے ایک مصلیٰ لانے کا بہت ہی فقیرانہ لہجے میں حکم دیا ،جبکہ میڈیا کے نمائندوں سے ان کا دفتر پر تھا، پھر وہ مصلیٰ پر کھڑے ہو ئے تو نہوں نے خود ہی انکشاف کیا کہ میں اللہ بزرگ اور برتر کے بعد اسکندر مرزا کا بڑا شکر گزار ہوں جنہوں نے ایک لوہار کے بیٹے کووزیر بنا دیا اور یہ کہہ کر وہ سجدے میں چلے گئے یہاں انہوں نےحقوقِ اللہ اورحقوق العباد دونوں کو ملحوظ رکھا! کیونکہ حدیث یہ ہے کہ“ جو بندوں کا شکر گزار نہ وہ اللہ کا شکر گزار کیا ہوگا“ اور قرآن کی سورہ یٰسین میں مشہور آیت ہے جس کاجز یہ ہے کہ“ احسان کا بدلہ احسان کے سوا اورکچھ نہیں “ جبکہ حضرت علی کرم اللہ وجہہ نے اپنے تجربہ کی بنا پر جو فرمایا وہ یہ ہےکہ“ جس پر احسان کرو اس کے شر سے بچو“ کیونکہ اپنے قاتل کے بھی وہ محسن تھے۔ جب سے وہی دور چلا آرہا تھا جوکہ آجکل اپنے عروج پر ہے۔
ہاں تو ہم بات کر رہے تھے۔ وزیر کی چونکہ وہ جھوٹے نہیں تھے اور بے ایمان بھی نہیں تھے تو اس لیے انہوں نے سچ کہنے میں کوئی عار بھی نہیں سمجھا؟ ورنہ وہ اوروں طرح یہ بھی کہہ سکتے تھا کے میں خاندانی رئیس ہوں جیسے بعد میں آنے والے دعویدار ہو ئے اور جو چاہا وہ بن گئے؟ جبکہ ا س زمانے میں میڈیا کا جال بھی اتنا پھیلا ہوا نہیں تھاکہ وہ پتہ لگا لیتے کہ پہلے کیا تھے؟ مگر وہ فقیری میں ہی نام کر گئے جو کام کسی نے پہلے نہیں کیا تھا وہ کام کر گئے اور داد دہش بھی ا تنی کی کہ غربت میں مرگئے؟ ورنہ جو وزیر بن جائے تواس پر ہن برسنے لگتا ہے۔ اور اگرمٹھی بند رکھے تو دولت کی ریل پیل ہو جاتی ہے۔ لیکن انہوں نے وزیر بن کر عجب طرح ڈالی کے محلوں میں رہنے کے بجا ئے ممبران اسمبلی کے ہوسٹل سمر سٹ ہاؤس کراچی میں رہائش پذیر ہوگئے؟ انکا کمرہ دوسری منزل پر تھا اس کے قریب میں ہی شیخ ظہیر الدین احمد مرحوم قیام پذیر تھے جوکہ آل پاکستان عوامی لیگ کے سکریٹری جنرل تھے۔ جب ہم ایک دن ان سے ملنے گئے تو دیکھا کہ نیچے میلا لگاہوا ہے اور ہرایک ہاتھ میں ایک درخواست ہے؟ ہم نے پوچھا بھائی ظہیر تم نے یہ میلہ کیوں لگا رکھا ہے؟ کہنے لگے یہ میرا نہیں جلال بابا کا میلا ہے۔ ابھی تھوڑی دیر انتظار کرو جب وہ اپنے دفتر جانے کے لیے نیچےاتر یں گے تب پورا معاملہ تمہاری سمجھ میں آجا ئے گا؟ میرے ذہن میں وہ یاد تازہ ہوگئی جو چنددن پہلے میں نے خبرپڑھی تھی ۔میں نے پوچھا یہ وہی جلال بابا تو نہیں ہیں جن کے بطور وزیر حلف اٹھانے کی خبر کچھ دن پہلے اخبار میں آئی تھی۔ کہنے لگے ہاں وہی! وہ تھوڑی دیر بعد باہر تشریف لائے اخبار تصویر دیکھی تھی وہ ایک نورانی چہرے کے مالک تھے؟ بر آمدے سے گزر کر زینہ اترے اور سب فر یادیوں سے درخواستیں وصول کرتے ہوئے آگے جاکر ایک سائیکل رکشا کھڑا تھا اس میں تشریف فرما ہوئے۔ ا ور اپنے کپڑے کے تھیلے میں سے پاکستان کا جھنڈا نکال ہاتھ میں لے لیا اور روانہ ہو گئے۔ یہ وہ پہلے وزیر ملکت تھے جن کا کام فریادیں سننااور داد رسی کرنا تھا۔ یہ کام کرتے ہم نے کسی وزیر کو نہ پہلے دیکھا اور نہ بعد میں؟ یا پھر اب اس دور کے چیف جسٹس صاحب کو دیکھ رہے ہیں؟
جبکہ آج جلال بابا کا کوئی نام بھی نہیں جانتا،اس لیے کہ وہ سچے اور ایماندار تھے۔ آخری بار وہ اسوقت کافی عرصہ کے بعد اخباروں میں آئے اس خبر کے ساتھ کہ“ جلال بابا نے اپنی بیٹی کی شادی اپنی اکلوتی گائے بیچ کرکی“ کیسے کیسے لوگ تھے جنہیں سچائی نے شہید کیا۔اور دنیا میں کوئی ذکر بھی نہیں ہے جبکہ جھوٹے شہیدوں کے نام عام ہیں جنہوں نے کبھی بھی شہادت کی شرائط پوری نہیں کیں ؟ ۔آج دیکھئے ماشا اللہ کیا ٹھاٹ ہیں وزیروں کے جو چلے گئے انہیں تو جانے دیجئےجو نگراں ہیں اور صرف ساٹھ دن کے لیے آئے تھے ان میں سے بی کچھ حلف اٹھانے میں اور کچھ کابینہ بننے لگ گئے، اب چالیس دن بچے ہیں اپنے جو ہر دکھانے کے لیے موقعہ ملا ہے تو کوئی کام ایسا دکھاجائیں کہ قوم انہیں یاد رکھے؟ اور کم از اس سے توبچیں کہ میڈیا جو بہت تیز ہے یہ نہ رپورٹ کرنے پائے کہ دورہ کراچی کے موقعہ پر 41 کاروں کا قافلہ آگے پیچھے تھا؟
یوں تو پہلےایک بھشتی بادشاہ بھی تاریخ میں بچہ سقہ کے نام سے مشہور ہے جو صرف ا یک دن کے لیے تخت نشین ہوا تھا اوراپنے نام کا چمڑے کاسکّہ چلا کر تاریخ میں اپنا نام پیدا کرکے چھوڑگیا تھا، شاید وہ بھی اس نے اپنی مشک کو کاٹ کر بنایا ہو!۔ کیونکہ اس کے پاس نہ خزانہ تھا نہ اختیار کہ اصل باد شاہ توموجود تھا، نگراں حکومتوں کے پاس تو اختیارات بھی ہیں۔ یہ بات تو یونہیں درمیان میں آگئی؟ میں بات کر رہا تھا بچہ سقہ کی اگر وہ بجا ئے وعد ے کا پاس کرنے اور سچا رہنے کہ اس سے پھر جاتا اور سازشوں کاجال بچھالیتا،پھر صبح کو کچھ کہتا اور شام کچھ کہتا تو جھوٹوں کا بادشا ہ بن سکتا تھا۔ وہ اگر کہہ مکرنی کا عادی ہوتا تو ایک دن لیے آیا تھا توکیا ہوا !دس گیار ہ سال تو بآسانی گز ا ر سکتا تھا۔ جیسے کہ تارخ میں کئی نوے دن کہہ کر کے آئے اورانہوں نے گزارے دس سال ؟ بلکہ اگر وہ تھوڑا اور بڑھ جاتا اور یہ کہہ دیتا کہ یہ تخت تھا ہی میرے باپ کا اور میرے دادا کا اور مجھ کو وراثت میں ملا تھا وہ مجھے میرے بھائیوں کو مرتے ہوئے اتنا دے گئے تھے کہ میں نے محل بھی بنالیے اور خارخانے بھی لگا لیے۔ تو کوئی اس کا کیابگاڑ سکتاتھا؟

SHARE

LEAVE A REPLY