عمران خان نے ایک ایسا نعرہ لگایا ہے، جو موجودہ حالات میں کہنا آسان ہے مگر اس پر عمل کرنا بہت مشکل ہے ۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ مسلمانو ں نے مدت ہوئی اس پر عمل کرنا چھوڑ دیا ہے۔ نتیجہ یہ ہے کہ اللہ سبحانہ تعالیٰ نے بھی انکو چھوڑ دیا ہے کیونکہ یہ اس کی سنت ہے کہ جو فرد یا قوم اسے بھلادیتی ہے وہ بھی ا سے بھلا دیتا ہے۔یہ مضمون بہت سی جگہ قرآن پاک میں آیاہے۔ا گر کسی کو یادنہیں تو سورہ الحشر کی آیت نمبر19 دیکھ لے۔ا ب صورت حال یہ ہے کہ آئینِ مدینہ کہیں بھی دنیا میں نافذ ہی نہیں ہے، جوکہ کسی غیر مسلم کو ہم فخریہ دکھا سکیں کہ دیکھو وہ ایسا تھا؟ جس پر ہمارے نبی (ص) اور ان (ص) کے جانشینوں نے عمل کرکے کبھی دکھا یا تھا اور اب یہاں رائج ہے؟ تو بات بنے تو کیسے بنے کہ جس پر نہ تو کوئی فرد پوری طرح عمل کرتا نظر آتا ہے نہ کوئی ریاست ؟ جبکہ دنیا تسلیم کرتی ہے کہ حضور (ص)اور ان کے ساتھیوں کی خوبی یہ تھی کہ وہ پوری طرح اس آئین پر عامل تھے؟جبکہ پاکستان میں عمل کی حالت بد تر یوں ہے کہ یہاں کبھی پوری طرح اسلام نافذ ہی نہیں ہوا سوائے ! کچھ بزرگوں کی زندگی کے، جنہیں دیکھ کر لوگ اسلام لا تے رہے! اس طرح صدیوں تک اسلام اپنی حقانیت پھیلتا رہا اور مخالفین حسد میں جلتے اوربد نام کرتے رہے کہ اسلام تلوار کے زور پر پھیلا ؟ جب ن کی جگہ بھی گدی نشین آ گئے یعنی گدیاں وراثت میں بٹنے لگیں تو وہ سلسلہ بھی بند ہوگیا؟
جبکہ ذلت اور رسوائی کاعنصر ہر طرف نظر آنے لگا،تب ہندوستان کے مسلمانوں کو خیال آیا اور انہوں نے غور کرنا شروع کیا! تو انہیں اصل وجہ معلوم ہوئی کہ روز بہ روز وہ پستی میں کیوں دھنسے جارہے ہیں؟ تب کچھ مردانِ خدا اس پر متفق ہوگئے کہ یہ ہمارے اعمالوں کا نتیجہ ہے؟ اس کا حل سوچا تو انہیں وہی نظر آیا جو اللہ سبحانہ تعالیٰ نے چودہ سو سال پہلے بتادیا تھاکہ غلطی کرو، تو توبہ کرلواور مجھ سے رجوع کرو؟ انہوں نے اس پر عمل کیا، اللہ کی رحمت جوش میں آئی اور وہ کچھ ہوگیا جو ناممکن تھا؟ لیکن ہم نے جو اس سے وعدے کیئے تھے وہ آج تک پورے نہیں کرسکے؟ اب پھر ایک مرد مجاہد مدینہ کی ریاست بنانے کھڑا ہوا ہے۔ جو اپنی لگن میں سچا ہے ؟ جس کا نام عمران خان ہے؟ جبکہ اسلام کی اساس جس چیز پر ہے وہ ہے “عدل“ جس میں کسی چھوٹے اور بڑے کی تمیز نہیں ہے۔ اس میں پیش رفت کرنے کے لیے اللہ سبحانہ تعالیٰ نے عدلیہ کا سربراہ مع کچھ اچھے ساتھیوں کے چیف جسٹس جناب ثاقب نثار صاحب کی شکل میں عطا کیا ہوا ہے ۔ جو کہ اپنی جان ہتھیلی پر رکھے سب کے ساتھ چو مکھی لڑ رہے ہیں؟ جہاں چا ہتے ہیں اپنی جان خطرے میں ڈال کر پہنچ جاتے ہیں۔ وہ بھی اب ریٹائر منٹ کے قریب پہنچ رہے۔ انہوں نے اپنے پیچھے آنے والوں کے لیئے ایک راستہ بنا دیا ہے۔ وہ سب کو آئینہ دکھاتے رہتے ہیں؟ اور صحیح معنوں میں ریاست مدینہ کے چیف جسٹس کا کردار کر رہے ہیں۔ اس چیلنج کے ساتھ کے عدل کسی کو سیکھنا ہے مجھ سے سیکھ لے؟ جبکہ ماحول یہ ہے کہ یہاں آئین مدینہ نافذ نہیں صرف آئین کے سرورق پر لکھا ہوا ہے۔ جو حکومت کے چیف ہیں یعنی عمران خان ان کے بھی ہاتھ بندھے ہوئے ہیں؟ اور صورتِ حال یہ ہے کہ ع اک آگ کا دریا ہے اور تیر کے جانا ہے؟کیونکہ قانون سازی کے لیے مطلوبہ اکثریت ا نہیں حاصل نہیں ہے؟ جبکہ قوم کامزاج وہ ہے جو انگریز بنا گئے تھے اب وہ اس کی فطرت ثانیہ بن چکا ہے۔ وہ یہ تھا کہ بس ہمارے وفادار رہو! پھر تمہیں سات خون معاف ہیں جو چاہوکرو۔ وہی درمیانی لوگوں کاٹولہ ابھی تک کسی نہ کسی شکل میں ریاست پر قابض ہے۔ ان کا تقاضہ یہ ہے کہ ہم پر کوئی ہاتھ نہ ڈالے ہم جو چاہیں کریں؟ پھر مسائل حل ہوں تو کیسے ہوں ؟ یہ سوال ویسے تو تشنہ ہے؟ مگر مجھے اللہ کے اس وعدے پر یقین ہے جو اس نے سورہ طہ کی آیت نمبر 38 میں فرمایا ہے، جس کااردو ترجمہ یہ ہے کہ “ سن رکھو اللہ مومنوں کے دشمنو ں کو نیچا دکھا دے گا اور اگر وہ ایسانہ کرے تو تمام معابد خانو ں میں اس کی عبا دت بند ہو جائے۔ تیسری طاقت ہے فوج جس سے سب کو تقویت فراہم ہوتی ہے ۔ا س کے سربراہ بھی ایک فرض شناس افسر ہیں۔ جبکہ ہمیں صدیوں سے جو مسائل ورثے ملے ہیں ان میں ہر قسم کی مافیہ شامل ہے؟ جبکہ عمران خان کے کچھ سیاسی ساتھی بھی وہ ہیں جو ہر ایک اپنے زعم میں پھنے خان بنا ہوا ہے کہ وہاں کامزاج ہی یہ ہے! صرف اللہ سبحانہ تعالیٰ سے امید ہے کہ وہ اب تک جس طرح پاکستان کے سلسلہ میں معجزے دکھاتا آیا ہے اور حفاظت کرتا رہا ہے وہی کچھ اب بھی کریگا، تو کچھ نہ کچھ ہمیشہ طرح ہوجا ئے گا ؟ اگر یہ تینوں اسی تندہی سے کام کرتے رہے تو اللہ سبحانہ تعالیٰ ضرور مدد فرمائے گا۔ چونکہ ہر ظالم خود کووہاں مظلوم کہتا ہواآتا ہے۔ لہذا سفارش اور ایکشن سے پہلے یہ تحقیق کرلینا ضروری ہے کہ حقائق کیاہیں! ان میں سے مظلوم کون ہے ۔ اس لیے کہ آئین مدینہ صرف مظلوموں کی سفارش اورانصاف دلانے کا حکم دیتا ہے، ظالموں کی سفارش اور حمایت کا نہیں ۔ جبکہ ہمارا معاشرہ طاقتور کی حمایت کرنے کا عادی ہے۔ مظلوموں کا نہیں ۔کیونکہ اسے کسی غریب سے کیا ملے گا سوائے دعاؤں کے جبکہ اسے ہر قدم پر اوروں کو بھی ادا ئیگی کر نا پڑتی ہے پھر اس کے اپنے بھی بال بچے ہیں وہ ضد کرتے ہیں؟
میری دعاہے کہ اللہ سبحانہ تعالیٰ ریاست کے ان تینوں ستونوں کو استقامت دے تاکہ یہ اللہ سبحانہ تعالیٰ کے مقدس نام پر بنا ئی ہوئی مملکتِ خدا د کو تمام بلا ؤں محفوظ رکھے اور اس کے ثمرات مظلوموں تک پہنچیں؟ ۔













