ہم پچھلے مضمون میں خواتین کے حقوق اور ذمہ داریوں پر بات کرتے ہو ئے یہاں تک پہنچے تھے کہ جو خواتین اپنی مرضی سے گھر پراپنی آمدنی خرچ کر رہی ہیں وہ دہرے ثواب کی مستحق ہیں ایک صلہ رحمی کا اور دوسرا اللہ کی راہ میں خرچ کر نے کا ثواب۔اب آگے بڑھتے ہیں۔ ہم نے گزشتہ مضمون میں خواتین کی جو حالت دکھائی تھی وہ ایسی تھی کہ وہ ہر وہ کام کر نے پر مجبور تھیں جو ان کی عزت نفس کو مجروح کرنے والا تھا۔ خواتین اس پر غور کریں اگر وہی صورت حال آج ہوتی اوراگر اللہ سبحانہ تعالیٰ اسلام کے ذریعہ انہیں حقوق نہ عطا کر تا تو کیا ہوتا? اسلام کے انہیں حقوق دینے کے بعد دنیا مجبور ہوئی کہ وہ بھی انہیں حقوق دے۔ لہذا سب سے زیادہ شکر گزار خواتین کو ہونا چا ہیئے کہ انہیں اتنا اہم مقام دیا کہ ماں کے قدموں میں جنت بنا دی اور ماں اور باپ کی رضاپر اللہ کی رضا کو مشروط کردیا اور دونوں کواتنا مقدس بنا دیا کہ ان کے سامنے اف کرنے کی بھی اجازت نہیں رکھی۔ جبکہ باپ کے سا منے ا ُف کر نے کی اجازت تو پہلے ہی نہ تھی ۔اس لیئے سب کچھ باپ کاتھااس کے سامنے اُ ف کرتے تو وہ گھر سے نکال باہر کردیتا تھا۔ جبکہ ماں کچھ نہیں تھی اور صرف ماں کو ہی نہیں بیوی کوبرابری دی۔ بیٹیوں کو جو زندہ دفن کردی جاتی تھیں اس ظلم سے بچایا اور بیٹیوں اور بہنوں کے ساتھ اچھے سلوک پر جنت کی بشارت دی؟ نیزحضورﷺنے ہمیں اپنے مقدس اسوہ حسنہ کے ذریعہ یہ سبق بار بار دیا کہ گھر اکیلے خواتین کی ذمہ داری نہیں ہے۔اس میں انکا ہاتھ مردوں کو بٹانا چا ہیئے۔کیونکہ حضورﷺام المونین کا ہاتھ بٹا تے تھے۔ہمارے یہاں یہ رسم غیروں کے یہاں سے آئی کہ مرد رعب سے آکر بیٹھ جا تے ہیں پانی سے لیکر کھانے تک سب کام خواتین کو کرنا ہوتا ہے؟اور صاحب ِ خانہ بادشاہ کی طرح آکر میز پر تشریف ہوجاتے ہیں۔ یہ رسم کہاں سے آئی جبکہ یہ حضورﷺ کے اسوہ حسنہ سے ثابت نہیں ہے۔ یہ اصل میں تشبہ ہے جو ہم نے دوسری قوموں سے لیا ہے؟ورنہ اسلام نے تو جومقام بیوی کو ماں کو، بہن کو اور بیٹی کو دیا ہے وہ اپنی جگہ بہت اونچا ہے۔جو سبق یہ دیتا ہے۔ بیوی کا کام صرف یہ ہے کہ وہ شوہر کو دیکھ کر مسکر ائے جب کہیں سے یا کام سے واپس آئے یا جا ئے اور اس کے گھر بچوں اور اپنی عصمت کی حفاظت کرے باقی ساری ذمہ داریاں مرد کی ہیں؟۔ اس کے لئے متعدد احادیث موجود ہیں اگر کسی جوڑے میں یہ وصف نہیں ہے تووہ گھر کبھی ترقی نہیں کر سکتا۔ ترقی کے لیئے سکون ِقلب اور ذ ہنی سکون چاہیئے جو ان احکامات کو ماننے سے پیدا ہوتا ہے جو اللہ اور رسول اللہ ﷺنے دیئے ہیں جبکہ اللہ کو خوش رکھا جائے اس کے رسولﷺ کو خوش رکھا جا ئے۔ تب کہیں جاکرقلب مطمعن ہوگا؟ اس کے لیئے ضروری ہے کہ پوراکنبہ ان خطوط پرچلے جو کہ دین نے فراہم کئیے ہیں۔ وہ جب ہی ہوسکتا ہے لوگ اسلام کو عملی طورپر اختیار کریں جس میں اوروں کا شائبہ نہ ہو اس لیئے اسلام نے تشبہ کرنے کو سختی سے منع کیا اور حضور ﷺ نے تو یہاں تک فر مادیا ہے کہً جو تشبہ کرے وہ ہم میں سے نہیں ہے ً کیو نکہ دنیا ہر چیز خالص پسند کرتی ہے اگر ملاوٹ ہو تو سونا بھی مشکوک ہوجاتا ہے؟ اگر کنبہ دین پرعامل ہے تو ہر ایک اپنے حقوق لینا چا ہے گا اور دوسرے کے حقوق خوشی کے ساتھ دیگا؟ کیوں اس لیئے کہ اللہ کی رضا پر وہ راضی رہے گا۔ مثلاً میاں بیوی اپنے حقوق ادا کر رہے ہونگے تو کوئی ظلم نہیں کریگا۔ عربی میں ظلم کے معنی یہ نہیں ہیں کہ کوئی کسی کو ڈنڈے سے مارے تو ظالم ہے۔ وہاں ظلم کے معنی یہ بھی ہیں کسی کے حقوق کوئی ادا نہیں کر رہا ،اللہ سے لیکر بندے اور اس کی مخلوق تک تو وہ ظالم ہے۔ اسے نہ ماننے سے معاشرے میں تمام خرابیاں پیدا ہو تی ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے بار بار قرآن شریف میں فر مایا ہے کہ جو کچھ کوئی کرتا ہے تو وہ اپنے لیئےکرتا ہے (اچھا کرتا ہے یا برا کرتا ہے) اللہ کو نہ اس سے کوئی فائد ہے نہ نقصان ہے۔یہاں آپ یہ سوال کر سکتے ہیں کہ اچھا تو اچھا ہے برا وہ اپنے لیئے کیسے کرتا ہے؟ اس کی مثال باپ اوربیٹے کی لے لیتے ہیں۔ بچے ماں باپ سے سیکھتے ہیں؟ جو آپکو اپنے ماں باپ کے ساتھ کرتا ہوا دیکھیں گے وہی وہ آپ کے ساتھ کریں گے۔ کیونکہ آپ نے انہیں سکھا یا ہی یہ ہے؟ اگر آپ کا عمل دین کے مطابق ہوگا تو وہ وہی کریں گے جو احادیث میں موجود ہے۔ ً جب کہیں جاؤ تو ماں باپ کو دیکھ کر مسکراہٹ بکھیر تے ہوئے جا ؤ، اللہ تعالیٰ اگرایک زندہ ہے تو ایک دروازہ جنت میں کھول دے گا اگر دونوں زندہ ہیں تو دو دروازے کھول دیگا۔اگر منہ بگاڑے ہو ئے اور منہ بسورتے ہو ئے آؤ جاؤ تو کس کا نقصان کروگے؟ میں جواب آپ پر چھوڑتا ہوں۔اس کے لیئے آپ کو عملی مسلمان بننا پڑیگا۔خصوصاً ان ملکوں میں جہاں جہاں اسلامی نظام رائج نہیں ہے؟ جبکہ اسلامی نظام مسلمان ممالک میں بھی موجود نہیں ہے۔ غیر مسلم ممالک میں ماں کی ذمہ داری سب سے زیادہ بڑھ جاتی ہے کہ وہ بچوں کو بچپن سے سکھا ئے کہ ہما را دین اور ہے ہم ان کے راستے پر نہیں چل سکتے۔ تو وہ اپنے حدود کے اندر رہیں گے۔ورنہ پیر پریشر اتنا طاقتور ہے کہ وہ جدہر چا ہیگا بچے کو بہا کر لے جا ئے گا۔ اور آپ کو معلوم جب ہو گا کہ پانی سر سے گزر چکا ہوگا۔ اس وقت سوائے ہاتھ ملنے کے اور کچھ نہیں کر سکیں گی؟ اور ماؤں کی یہ لاپرواہی بہت مہنگی پڑیگی جو بچوں کو یہ کہہ کر بڑھاوا دیتیں ہیں۔ کہ بچے تو ایساکرتے ہی ہیں۔اللہ تعالی ہم سبکو ہدایت دے (آمین)













