میں تھکنے سی لگی تھی ۔۔ ریڈیو تھراپی آج نہیں جان پاؤنگی ۔۔ پروفیسر کرس سوہن جب مجھے وارڈ میں بہت زیادہ کام کرتا دیکھتے تو ہنس کر کہا کرتے تھے کہ کلینڈر میں ایک دن ہے جسے ہم “ کل “ کہتے ہیں وہ کل آج بن جائے گا ۔۔باقی کام پھر کر لینا۔۔۔ آج وہی کل تھی جب مجھے ریڈیو تھراپی کے بارے میں جاننا تھا ۔۔
میں سوچ رہی تھی کہ اگر میری بائیوپسی رپورٹ میں گریڈ ٹو کا کینسر کنفرم ہوتا ہے تو آپریشن کے بعد ریڈیوتھراپی ضرور کریں گے اور جو کینسر کا گریڈ زیادہ نکلا تو ڈاکٹرز پہلے کیمو تھراپی کریں گے تاکہ کینسر کو پھیلنے سے روکا جا سکے پھر ریڈیوتھراپی کریں گے تاکہ ویجائینا تک پہنچے ہوئے بچے کھچے کینسر سیل بھی مار دیئے جائیں ۔۔
میرے لئے ریڈیوتھراپی کے بارے میں جاننا بہت ضروری تھا ۔۔۔۔میں جانتی تھی کینسر دنیا کی سب سے خوفناک بیماری ہے۔ دنیا بھر میں سالانہ 18 ملین کیسز کی تشخیص ہوتی ہے اور اس کی وجہ سے مریض اور ان کے پیاروں دونوں نفسیاتی دباؤ کا شکار ہو جاتے ہیں ۔ایک رپورٹ کے مطابق دنیا میں ہر سال 70 لاکھ سے زائد ا فراد اس موذی مرض میں مبتلا ہو کر جان کی بازی ہار جاتے ہیں جب کہ پاکستان میں کینسر میں مبتلا ہونے والوں کی تعداد ایک لاکھ سالانہ سے زائد ہے جن میں خواتین میں بریسٹ کینسر اور مردوں میں منہ کے کینسرسرفہرست ہیں۔۔۔کیا ہم یہ تعداد گھٹا سکتے ہیں ۔ ۔۔میرا یقین کہتا ہے کہ ہاں گھٹا سکتے ہیں ۔۔بس اس کے لئے خود سے دوستی کیجئے ۔۔خود کو غور سے دیکھئے ۔۔ باہر کی دنیا سے کٹ کر اپنے اندر کی دنیا میں چلیئے سب کچھ وہیں ہے ۔
میرا یقین کیجئے کینسر قطعا موت کی سزا نہیں ہے بلکہ اگر مرض کا جلد پتہ چل جائے تو مکمل قابل علاج ہے ۔ بلکل ایسے ہی جیسے بلڈ پریشر ، شوگر ، آرتھرائٹس جیسی بیماریوں کو ابتدا ہی میں تشخیص کر لیا جائے اور علاج پر توجہ دی جائے تو سزائے موت نہیں بن سکتیں ورنہ فالج ، ہارٹ اٹیک اور معذوری سے شاید ہی کوئی بچ پائے۔ آجکل کینسر کے بروقت علاج سے نوے فیصد سے زیادہ انسان اپنی عمر جی سکتا تھا۔ لیکن وجہ یہی تھی کہ ہم انسان اپنے جسم سے واقف ہی نہیں ہوتے کہ تبدلیوں کو نوٹ کر سکیں ۔۔اسی طرح اپنی نفسیات سے واقف نہیں ہوتے اور جب تک ڈیپریشن کی آخری حد کو نہ چھو لیں سمجھ نہیں پاتے کہ ہمیں ہوا کیا ہے ۔
ہمارا جسم ہماری روح کا گھر ہے ۔۔اس کی ضروریات کو پہچاننا ۔۔ہونے والی معمولی تبدیلیوں کا دھیان رکھنا ہماری ہی زمہ داری تھی ۔
میرے لئے کینسر سزائے موت نہیں تھا بلکہ اللہ پاک کی نعمت بن کر آیا تھا ۔۔اس نے مجھے سکھایا کہ جب بھی سوچوں کرشماتی سوچوں ۔۔اس لیئے ہم جو سوچتے ہیں وہی منزل بن جاتی ہے ۔ میں جان چکی تھی کہ موت اچھے لوگوں کے لئے پروموشن تھی اور مجھ جیسے عام لوگوں کے لئے ایک دنیا سے دوسری دنیا میں ٹرانسفر تھی ۔ ۔۔اور میں نے سوچ لیا تھا کہ مجھے پروموشن چاہیئے اور اپنا یہ خواب سچ کرنا تھا ۔۔اور میں کرلونگی ۔۔۔شاید اس لیئے مجھے جاننا تھا کہ مجھے اور کن مراحل سے گزرنا ہوگا ۔۔۔
ریڈیو تھراپی ( تابکاری تھراپی ) ایک آنکولوجیکل علاج کی تکنیک ہے جس سے مختلف کینسر کے خلیات کوتباہ کرنے یا ٹیومر کے سائز کو کم کرنے کا کام لیا جاتا ہے ۔ریڈیو تھراپی کا استعمال اس قسم کے کینسر میں ہوتا ہے جو جسم کے تقریبا ہر حصے میں پھیل چکا ہو یا کینسر کے تقریبا 50٪ فیصد بڑھ چکا ہو یعنی گریڈ ٹو یا اس سے زیادہ ہو ۔ ریڈیو تھراپی میں طوقتور ایکس رے ، گاما ریز یا دیگر ذرات (الیکٹران ، پروٹان ، نیوٹران اور بھاری آئن) کا استعمال کیا جاتا ہے ۔ یہ ہائی انرجی آئنائزنگ ریڈی ایشنز ، سیلولر ڈی این اے کو نقصان پہنچاتی ہیں اور کینسر کے خلیوں کو تباہ کر دیتی ہیں یا کم از کم مہلک ٹیومرز کی نشوونما کو سست کر دیتی ہیں جس سے وہ آہستہ آہستہ مر جاتے ہیں یا خلیات کی مزید تقسیم کو روک دیتے ہیں۔ جب کینسر کے خلیے مر جاتے ہیں تو جسم انہیں خارج کر دیتا ہے۔

ریڈیو تھراپی ( تابکاری تھراپی ) ایک آنکولوجیکل علاج کی تکنیک ہے
کیمو تھراپی کی طرح ریڈیوتھراپی سے بھی صحت مند خلیوں کو نقصان پہنچتا ہے ۔ اور اس طریقہ علاج سے بالوں کا گرنا ، تھکاوٹ ، جلد میں تبدیلی ، متلی اور قے ، دھندلا ہوا وژن ، پیشاب کی خرابی اور سر درد کیموتھراپی ہی کی طرح سے ہوتا ہے ۔ چونکہ تابکاری تھراپی کینسر کے خلیوں کو فورا نہیں مارتی بلکہ کمزور کرتی ہے اس لیئے روزانہ ( ویک اینڈ کے علاوہ ) کئی ہفتوں کے علاج کی ضرورت پڑ سکتی ہے۔ پھر بھی زیادہ تر عالج 2-7 ہفتوں میں ختم ہو جاتے ہیں۔ ریڈیوتھراپی اس صورت میں بھی کرتے ہیں جب کینسر کا علاج نہ ہو سکتا ہو اس وقت ریز تھوڑی مقدار میں تھوڑے عرصے کے لئے دی جاتی ہیں ۔۔یا بعض اوقات یہ صرف ایک مرتبہ ہی دی جاتی ہے۔
ریڈیو تھراپی کا اطلاق دو طریقوں سے ہوتا ہے۔ بیرونی (بیرونی) اور اندرونی طور پر (اندرونی طور پر)۔ کچھ مریضوں کے لئے ، یہ دونوں طریقے ضروری ہوتے ہیں۔ ریڈیو تھراپی کا عملہ تربیت یافتہ ہوتا ہے جو
کلینیکل آنکالوجسٹ ، ریڈیوگرافرز اور کلینیکل نرس اسپیشلسٹس پر مشتمل ہوتا ہے ۔ اس طریقہ علاج کے لئے بھی مریض کی رضامندی بہت ضروری ہوتی ہے تاکہ وہ علاج کی منصوبہ بندی ( ریڈیو تھراپی کا طریقہ کار اور عملے سے ملاقات ) کر سکے ۔
ریڈیو تھراپی تین طرح سے کی جا سکتی ہے ۔
١۔ بیرونی (External)
زیادہ تر مریضوں میں ریڈیو تھراپی بیرونی طور پر کی جاتی ہے۔ یہ عام طور پر یہ علاج مخصوص مراکز اور آؤٹ پیشنٹ کلینک میں کیا جاتا ہے جہاں شعاعوں کو ریڈیو تھراپی کے آلات کے ذریعہ کینسر کے ٹشوز پر ڈالا جاتا ہے ۔ حالیہ برسوں میں ، ریڈیو تھراپی آلات میں تکنیکی تبدیلیوں کی بدولت ، تین جہتی کنفرمل ریڈیو تھراپی ، آئی ایم آر ٹی ( ایڈجسٹ شدہ تیز تر ریڈیو تھراپی) ، سٹیریو ٹیکٹک ریڈیو تھراپی (لینک پر مبنی ، گامافیف ، سائبرکائف) استعمال کیا جاتا ہے جو مریض کو زخمی نہیں کرتی ۔ ہر نشت میں چند سیکنڈ سے لیکر چند منٹ تک ریز دی جاتی ہیں ۔ ٹیبل پر مریض کے لیٹنے کا طریقہ اہم ہوتا ہے۔ ایک مرتبہ جب وہ درست جگہ پر لیٹ جاتا ہے تو عملہ اسے وہیں رہنے کے لئے کہے گا ۔ دوران علاج کمرے کی بتیاں مدھم کر دی جاتی ہیں اور عملہ کمرے سے باہر نکل جاتا ہے ۔ دوسرے کمرے کی کھڑکی سے یا بذریعہ ٹیلیویژن اسکرین عملہ مریض کو دیکھتا رہتا ہے ۔ اگر مریض کو کوئی مسئلہ ہو، تو وہ اپنا ہاتھ کھڑا کرکے یا الارم بجا کر عملے کا بتا سکتا ہے کہ اسے مدد درکار ہے ۔ ریڈیو تھراپی کی زیادہ تر مشینیں مریض کے جسم کے گرد گھوم سکتی ہیں تاکہ انہیں کئی مختلف سمتوں سے علاج فراہم کر سکیں ۔ بیرونی ریڈیو تھراپی کے علاج سے مریض ریڈیو ایکٹو نہیں بن جاتے سو وہ دیگر لوگوں بشمول بچوں کے ساتھ معمول کے ساتھ رہ سکتے ہیں۔
٢۔ اندرونی (Internal)
اندرونی ریڈیو تھراپی ( بریکے تھراپی ) میں ریڈیو ایکٹو کو جسم کے اس حصے کے قریب رکھ کر علاج کیا جاتا ہے جہاں کینسر ہوتا ہے یا بڑھ رہا ہوتا ہے۔ خواتین میں رحم کی گردن ، بچہ دانی اور اندام نہانی کے کینسر کے علاج میں اسے استعمال کیا جاتا ہے۔ تابکار مادے کو خالی پلاسٹک یا دھاتی نلکیوں کے زریعے اندر رکھا جاتا ہے اور اندام نہانی کے اوپر رکھ دیا جاتا ہے۔ اس کے لئے خواتین کو عمومی طور پر بے ہوش کر دیا جاتا ہے تاکہ نلکیاں درست مقام پر رکھی جا سکیں ۔ جب نلکیاں لگی ہوئی ہوں، تو ہو سکتا ہے کہ مریضہ کو تھوڑے وقت کے لیے ہسپتال میں رہنا پڑے۔۔۔علاج مکمل ہونے کے بعد نلکیاں نکال دی جاتی ہیں ۔ ڈاکٹر بعض اوقات گلٹی پر کیسیئم یا اریڈیئم کی تاریں رکھ کر بریکے تھراپی بھی دیتے ہیں۔ یہ کئی اقسام کی گلٹیوں کے لیے جیسے بشمول منہ، ہونٹ، رحم کی گردن اور چھاتی کے کینسر میں استعمال میں لائی جاتی ہے ۔ تاریں ڈالنے کے لیے مریضہ کو ایک چھوٹے سے آپریشن کی ضرورت ہوتی ہے ۔ تاریں ڈالنے کے بعد نکالنے تک، مریضہ کو کمرے میں اکیلا رہنا پڑتا ہے ۔ یہ علاج عام طور پر 2-8 دنوں کا علاج ہوتا ہے۔ ڈاکٹرز اور نرسیں محدود وقت کے لئے کمرے میں آ سکتے ہیں جبکہ حاملہ خواتین اور بچوں کو ان سے ملنے کی اجازت نہیں ہوتی ۔ ان حفاظتی اقدامات کی وجہ سے مریض اکیلے پن ، خوف اور اکتاہٹ کا شکار ہو سکتے ہیں۔
مردوں میں، بریکے تھراپی کو پروسٹیٹ گلینڈ کے اندر چھوٹی گلٹیوں کے عالج میں استعمال کیا جاتا ہے۔گلٹی میں چھوٹے ریڈیو ایکٹو سیڈز رکھے جاتے ہیں۔ یہ سیڈز ایک وقت تک ہلکی مقدار میں نہایت آہستہ آہستہ تابکاری کی خوراکیں دیتے ہیں۔ انہیں بعد میں نکالا نہیں جاتا بلکہ وہ پروسٹیٹ کے اندر ہی رہتے ہیں۔ تقریًبا ایک سال کے عرصے میں ریڈیو ایکٹویٹی مدھم پڑ جاتی ہے۔ ریڈی ایشن سے سیڈز کے ارد گرد صرف چھوٹی سی جگہ ہی متاثر ہوتی ہے، لہذا یہ دوسرے لوگوں کو متاثر نہیں کرتی۔ داخلی طور پر لاگو ہونے والے تابکاری میں ، تابکار مادہ یا ذریعہ یا تو براہ راست ٹیومر میں یا جسم کے اندر پتلی تار یا نلیاں کے ذریعہ رکھا جاتا ہے۔ بعض اوقات اسے سرجری کے بعد باقی جگہ پر بھی رکھا جاسکتا ہے۔ کبھی اندرونی ریڈیو تھراپی اور بیرونی ریڈیو تھراپی ایک ساتھ کی جاتی ہے۔
٣۔ ریڈیو آئسو ٹوپس (Radio Isotopes)
انہیں گولیوں یا مشروبات کی شکل میں دیا جاتا ہے جنہیں نگل لیا جاتا ہے، یا ورید میں ٹیکے کی صورت میں لگایا جاتا ہے۔ ریڈیو ایکٹو علاج کی سب سے عام قسم ریڈیو ایکٹو آئیوڈین ہے۔ اسے تھائیرائیڈ گلینڈز کی گلٹیوں کے عالج میں استعمال کیا جاتا ہے اور گولی کے طور پر دیا جاتا ہے۔ اس علاج میں ریڈیو ایکٹویٹی کے ایک محفوظ درجے تک پہنچنے تک آپ کو کمرے میں اکیلے رہنے کی ضرورت ہو گی۔ اس میں عام طور پر 4-7 دن لگتے ہیں۔ اس کے بعد آپ گھر جا سکتے ہیں۔ بای تھائیرائیڈ گلینڈ میں نہ جانے والی آئیوڈین پسینے اور پیشاب میں جسم سے نکل جاتی ہے۔
جیسا کہ ہم سب جانتے ہیں کہ کوئی بھی دوا حتی کہ پیراسیٹامول تک کسی سائڈ افیکٹ کے بغیر نہ تھی پھر بھلا ریڈیو تھراپی کیسے ہوتی ۔۔
وقتی ضمنی اثرات (Temporary side effects)
اس کے ضمنی اثرات وہی تھے جوکیموتھراپی کے تھے جیسے تھکن ، متلی محسوس کرنا، بھوک کا کم ہو جانا، بال گرنا ، انفیکشن ، پیچیش ، منہ کی دکھن اور کثرت سے پیشاب کرنے کی ضرورت محسوس ہو سکتی ہے۔ لیکن ریڈیو تھراپی سے جلد بہت متاثر ہو تی ہے ۔۔ علاج کے مقام پر جلد سرخ اور دکھتی ہوئی یا خارش دار محسوس ہو سکتی ہے۔ ڈاکٹر اور عملہ مریض کو نیم گرم پانی اور ایسے صابنوں کے استعمال کا مشورہ دے سکتے ہیں جن میں کوئی پرفیوم شامل نہ ہو۔ مریض کو غسل میں زیادہ وقت کے لیے نہیں بیٹھنا چاہیے۔ نرم تولیے کی ہلکی تھاپ کی مدد سے جلد کو خشک کرنی چاہیئے ۔ مریض کوشش کریں ڈی اوڈرنس اور پرفیوم بھی آپ کی جلد کو رگڑیں نہیں، کیوں کہ اس کی وجہ سے دکھن پیدا ہوگی۔ ٹالکم پا ؤڈر تک جلد میں دکھن پیدا کر سکتا ہے اور انہیں استعمال نہیں کرنا چاہیے۔ مریض کو علاج کے دوران قدرتی ریشوں سے بنے ڈھیلے ڈھالے کپڑے پہننے کی کوشش کرنی چاہیئے ۔ یہ زیادہ آرام دہ ہوتے ہیں اور ان سے ِجلد کی دکھن میں کمی واقع ہوتی ہے۔ کوئی ہائی پروٹیکشن سن کریم ضرور استعمال کریں اور علاج کے اختتام کے ایک سال بعد تک علاج والی جگہ کی حفاظت میں محتاط رہنے کی ضرورت ہوتی ہے ۔
طویل مدتی ضمنی اثرات (Long term side effects)
بعض ضمنی اثرات علاج کے اختتام کے بعد چند ہفتوں میں ختم ہو جاتے ہیں۔ بعض اوقات ضمنی اثرات لمبے عرصے تک اور کبھی کبھار یہ زندگی کے ساتھ ساتھ چلتے ہیں۔ جیسے برین کینسر کے علاج میں تابکاری کے ضمنی اثرات علاج ختم ہونے کے 6 ماہ سے لے کر تمام عمر سنگین مسائل کا سامنا رہتا ہے جیسے یادداشت کی کمی، فالج جیسی علامات، اور دماغ کی خراب کارکردگی شامل ہو سکتی ہے۔
اضافی معلومات کو خاص طور پر جاننا بہت اہم تھا ۔ جیسے اگر خواتین کے پیٹ ( پیڑو) کا علاج ہو رہا ہے، تو بچے دانی بھی متاثر ہو سکتی ہیں۔ انہیں محسوس ہو سکتا ہے کہ ان کی ماہواری میں بے قاعدگی پیدا ہونے کے بعد ختم ہو گئی ہے۔ جسے ماہواری کا دائمی اختتام یا مینوپاز کہتے ہیں اور بچے پیدا کرنے کی صلاحیت ختم ہو سکتی ہے ۔۔ اس لیئے جوان عورتوں میں بعض صورتوں میں، ریڈیو تھراپی کے آغاز سے پہلے، بیضوں کو جمع کرنا اور ذخیرہ کرنے کا مشورہ دیا جاتا ہے تاکہ مستقبل میں وہ بچہ پیدا کرنے کے قابل ہو سکیں ۔ بعض خواتین بچے دانیاں محفوظ کروانے کے لیے ایک چھوٹے سے آپریشن کے ذریعے انہیں علاج کی جگہ سے دور کروا لیتی ہیں۔ اسی طرح مردوں میں علاج سے مردانہ جرثوموں یعنی سپرمز میں کمی واقع ہو سکتی ہے۔ اس کا مطلب ہے کہ ریڈیو تھراپی کے بعد وہ مرد باپ نہ بن سکیں گے ۔ اس لیئے انہیں بھی سپرمز کو سپرم بینک میں محفوظ کرنے کامشورہ دیا جاتا ہے ۔۔ مردوں میں پیڑو کی جگہ پر ہونے والی ریڈیو تھراپی سے انہیں ایستادگی
( Erection )
کے مسائل کاسامنا ہو سکتا ہے ۔
کیمو تھراپی کی طرح ریڈیو تھراپی میں بھی جنسی ملاپ میں دلچسپی کم ہو جاتی ہے لیکن عمومی جنسی زندگی گزارنا ممکن ہے ۔ ایک اہم بات یہ ہے کہ ریڈیو تھراپی کے دوران حمل نہیں ٹھہرنا چاہیئے کہ ریڈیشن سے بچے کی نشو و نما میں مسائل پیدا ہو سکتے ہیں اس لیئے عورت اور مرد دونوں کو حفاظتی تدابیر اختیار کرنے کوکہا جاتا ہے ۔
اتنا کچھ جاننے کے بعد یہ تو معلوم ہوا کہ اگر کینسر گریڈ ٹو کا ہے اور جوبظاہر کہیں پھیلا ہوا بھی نہیں ہے ۔۔تو بھی حفاطتی طور پر اندرونی ریڈیوتھراپی ہو سکتی تھی ۔۔۔ میں نے ہر متوقع تکلیف پر آنکھیں بند کر لیں ۔۔
زندگی ناٹک ہے ۔۔نہ ہم بچے رہے نہ جوان نہ ادھیڑ عمر تو بوڑھے بھی نہیں رہیں گے۔۔ اور کبھی دنیا پر تھے بھی نہیں اور کبھی رہیں گے بھی نہیں ۔۔ تو کیا پریشان ہونا ۔۔ بس آنکھیں بند کر کے جو نظر آئے وہ سچ ہے ۔۔اور سچ یہی تھا کہ جو میں سوچوں گی وہی میری منزل ہو جائے گی ۔ اور مجھے موت کی صورت پروموشن چاہیئے تھی ۔۔ جو بیداری سے ملتی تھی ۔۔ میں دل ہی دل میں مسکرا دی ۔۔
ابھی تو مجھےموروثی کینسرز کو بھی جاننا تھا۔۔۔
جاری ہے
ڈاکٹر نگہت نسیم













