مولانا فضل الرحمٰن .کراچی میں آئی جی سندھ اور ایڈیشنل آئی جی کو یرغمال بنا کر ایف آئی آر درج کرائی گئی

0
811

اپوزیشن جماعتوں کے اتحاد پاکستان ڈیموکریٹک موومنٹ (پی ڈی ایم) اور جمعیت علمائے اسلام ف کے سربراہ مولانا فضل الرحمٰن کہتے ہیں کہ کراچی میں آئی جی سندھ اور ایڈیشنل آئی جی کو یرغمال بنا کر ایف آئی آر درج کرائی گئی۔

نواب شاہ میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے اپوزیشن جماعتوں کے اتحاد پاکستان ڈیموکریٹک موومنٹ (پی ڈی ایم) اور جمعیت علمائے اسلام ف کے سربراہ مولانا فضل الرحمٰن کا کہنا ہے کہ میر شکیل الرحمٰن کی گرفتاری آزادیٔ صحافت پر حملہ ہے۔

انہوں نے کہا کہ جے یو آئی ف نے ملین مارچ اور آزادی مارچ کیئے، عوام کا ووٹ چوری کیا گیا، ملک میں آئینی حکمرانی کی جدوجہد ہو رہی ہے۔

مولانا فضل الرحمٰن نے کہا کہ پاکستان کی بقا کی جنگ ہے، اس میں تمام طبقے شریک ہیں۔

انہوں نے مزید کہا کہ پی ڈی ایم اتحاد دوبارہ انتخابات کرانے کے لیے ہے، ہم صوبوں کے اختیارات کے علمبردار ہیں۔

سربراہ پی ڈی ایم کا یہ بھی کہنا ہے کہ صوبائی اختیارات میں مداخلت نہیں ہونی چاہیئے، سندھ اور بلوچستان کے جزائر مقامی لوگوں کی ملکیت ہیں۔

……………………………….

سندھ کے محکمہ پولیس کے انسپکٹر جنرل (آئی جی) مشتاق مہر سمیت کئی افسران نے ایک ساتھ دو ماہ کی چھٹی پر جانے کا جو فیصلہ کرلیا تھا وہ اب دس روز کے لیئے موخر کر دیا گیا ہے

یہ قدم آرمی چیف اور بلاول بھٹو کے درمیان ٹیلی فون پر گفتگو کے بعد اٹھایا گیا ہے

ماضی میں کبھی ایسا نہیں ہوا کہ اتنی بڑی تعداد میں پولیس فورس کے اعلیٰ ترین افسران نے ایک ساتھ چھٹیوں کے لیے درخواست دی ہو۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ گزشتہ روز کیپٹن (ر) محمد صفدر کی گرفتاری کے واقعے کے بعد پولیس فورس میں مایوسی پیدا ہوئی ہے۔

ذرائع کا یہ بھی کہنا ہے کہ چھٹی پر جانے جانے والوں میں آئی جی سندھ مشتاق مہر، ایڈیشنل آئی جی کراچی غلام نبی میمن، ایڈیشنل آئی جی اسپیشل برانچ عمران یعقوب منہاس اور متعدد ڈی آئی جیز شامل ہیں۔

ذرائع نے بتایا کہ تمام افسران نے چھٹیوں کے لیے درخواستیں تیار کرلیں، درخواستیں حکومت سندھ کو ارسال کی جارہی ہیں۔

اس حوالے سے ذرائع نے کہا ہے کہ ایڈیشنل آئی جی اسپیشل برانچ عمران یعقوب منہاس نے اپنی درخواست بھی دے دی۔

ادھر ذرائع کا یہ بھی کہنا ہے ایڈیشنل آئی جی اسپیشل برانچ عمران یعقوب منہاس نے یہ موقف اپنایا ہے کہ اعلیٰ پولیس افسران کی بے عزتی کی گئی ہے۔

امکان ظاہر کیا جارہا ہے کہ سینئر پولیس افسران کی ایک ساتھ چھٹی پر جانے کے بعد محکمے میں خلا پیدا ہوجائے گا۔

واضح رہے کہ مسلم لیگ (ن) کی نائب صدر مریم نواز جب پاکستان ڈیموکریٹک موومنٹ (پی ڈی ایم) کے جلسے میں شرکت کے لیے کراچی آئی تھیں۔

اس دوران انہوں نے سب سے پہلے مزارِ قائد پر حاضری دی اور فاتحہ خوانی بھی کی، تاہم فاتحہ کے بعد مریم نواز کے شوہر کیپٹن (ر) صفدر نے مزار قائد میں سیاسی نعرے بازی کی۔

بعد ازاں شہری وقاص احمد کی جانب سے اس معاملے میں کیپٹن (ر) صفدر کے خلاف مقدمہ درج کروایا گیا جس میں مزارِ قائد کی بے حرمتی سے متعلق دفعات شامل کی گئی تھیں۔

اس حوالے سے یہ خبریں بھی گردش کرتی رہیں کہ واقعے کی ایف آئی آر صبح تقریباً 5 بجے کے قریب کٹوائی گئی جبکہ 6 سے ساڑھے 6 بجے کے درمیان کیپٹن (ر) صفدر کو مقامی ہوٹل سے گرفتار کیا۔

مقدمے کے اندراج سے متعلق متعدد افواہیں بھی گردش کرتی رہیں کہ آئی جی سندھ پولیس پر کیپٹن (ر) صفدر کے خلاف مقدمہ درج کروانے کے لیے دباؤ تھا۔

اس حوالے سے وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ نے بھی کہا تھا کہ کیپٹن (ر) صفدر کے خلاف مقدمے اور گرفتاری سے متعلق دباؤ تھا۔

تاہم سینئر پولیس افسران کے چھٹی پر جانے کے فیصلے سے قبل وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے اس معاملے کی انکوائری کرنے کا بھی اعلان کیا تھا۔

SHARE

LEAVE A REPLY