تم نے کبھی خاموشی کو پڑھا ہے،فائزہ عباس

0
866

تم نے کبھی خاموشی کو پڑھا ہے، اسکے گیت، اسکے نغمے، اسکی باتیں، اسکا سب کا سب کلام پڑھا ہے ۔ ۔ ۔؟

کیا کبھی تم خاموشی سے ہمکلام ہوئے ہو کیا خاموشیوں کے صحرا نے تم پہ لکھی سبھی داستانوں کا دیوان پڑھا ہے ۔ ۔ ۔؟

کبھی تمہیں تنہائی میں بیٹھ کر خاموش فضاون، زمین و اسمان کی بیچ ہوتی گفتگو سنی ہے؟ کیا کبھی تم نے تمہارے وجود کی کائنات کی باہر کی کائنات سے گہری ہوئ دوستی کو دیکھا ہے کہ کیسے وہ ایک دوسرے سے مسکرا کے ملتے ہیں، کسطرح ایک دوسرے کے درد بانٹتے ہیں کسطرح قدرتکے مرہم سے قربت کی آوازیں گونجتی محسوس ہوتی ہیں ۔ ۔ ۔؟
کبھی دیکھا ہے کہ کاینات میں کلام فقط ایک ہے، سب ایک ہی نقطہ ہے ایک ہی شے ہے ایک ہی نور سے چھلکتے سارے رنگ بکھرے ہوئے ہیں جیسے شبنم کی بوندیں جب گلاب کے چہرے پہ پڑتی ہیں تو وہ شادمان ہونے لگتا ہے اور جب وہ بوندیں سورج کی کرنوں سے ٹکراتی ہیں توسات رنگی دھنک اس چھوٹے سے قطرے پہ اپنے عکس سجائے کھڑی اس شبمنی بوند کو اور قیمتی بناتی چلی جاتی ہے بنا چھوئے، بنا اترے وہ اس بوند کو حسن کا محور بنادیتی ہے کہ دو عکس ملتے ہیں، کلام عشق کرتے ہیں اور پھر ایک دوسرے میں فنا ہو جاتے ہیں ۔
کیا تم نے اپنے گرد ہوتا یہ اہتمام توجہ سے دیکھا ہے کیسے سب جدا رہ کر بھی کسقدر گہرائیوں سے جڑا ہے ۔ ۔ ۔؟

یہی خاموشی کا کلام اسکی گفتار ہے ۔ ۔ ۔

جب تم اپنا اندر چپ کروا دیتے ہو اور اپنے گرد کو دیکھتے ہو تو جو محو کلام ہوتا ہے اور جسے تم سن رہے ہوتے ہو نہ وہی تمہارا مخاطب و تعلق ہوتا ہے، جب چڑیاں صبح صبح چہکتی ہیں اور رب کی تسبیح کرتی ہیں اور تم اس سب چڑیوں میں رب سے وفاداری دیکھتے ہو تو سوچتے ہو نہ کہ رب کتنا پیارا ہے اور یہ چڑیاں ہو کر کتنی وفادار کہ نماز کے وقت بیدار ہو جاتی ہیں رب سے گفتگو کرتی ہیں ۔ ۔ ۔

اسکو پکارتی ہیں، اسکی ثنا کرتے ہوئے چہچہاتی ہیں اور کب افتاب کے بیدار ہونے کا وقت قریب اتا ہے تو یہ چلی جاتی ہیں، گویا تم اس کائنات میں بکھرے رب کے شاہکار کو دیکھ کر حیرت کدے میں چلے جاتے ہو، پھر جب سمندروں، کی گہرائیوں کو دیکھتے ہو تو حیران ہوتے ہو نہ کہ رب کی کائنات کی وسعت کتنی ہے کہ تم ایک سمندر کو بھی مکمل طور سے نہیں جان پاتے ،پھر تم دیکھتے چلے جاتے ہو ان فضاون، ہواوں کو جو سب رب کی قدرت پہ حمد و ثنا کرتی ہیں اور پھر تم دیکھتے ہو ۔ ۔ ۔

کہ تمہارے اندر باہر جو سب بھی ہے اور جس بھی زات، فرد، ہستی، انسان، کی خوشبو، مہک، اواز، لہجے، احساس تمہیں اپنی سمت کھینچ لاتے ہیں تم سے وہ کلام کرتے ہیں کہتے ہیں نہ ۔ ۔ ۔ کہ دیکھو یہ میں تمہارے ساتھ ہی تو ہوں، تمہارے وجود سے نکلا نہیں تمہارے اس پاس ہی تو ہوں، کسی کتاب کی خوشبو میں سمایا، کسی پھول کی رنگت میں چنا، کسی چہرے میں چہرہ بن کر، تو کسی کے لفظوں میں کہانی بن کر، کسی گیت کی دھن میں، کسی فلک پہ دھنک بن کر، کسی جھیل میں خاموشی اور حسن کا چہرہ بن کر تو کسی بانسری کے پھیلے جدائی کے سروں میں ۔ ۔ ۔

تم جب جب خاموش ہوجاتے ہو تو جو سب تمہیں میری سمت کھینچ کر لے اتا ہے محو کردیتا ہے یہاں تک کی تمہارے قلب سے اٹھتے درد کے اتش فشان پھٹنے کو ہوتے ہیں کہ انکھیں اس طغیان کو باہر نکلنے کا رستہ دیتی ہیں ۔ ۔ ۔

میں سوچتا تھا کہ خاموشی کیسے پڑھی جاتی ہے تو سمجھ میں جو ایا کہ جب منظر، موسم، مہک، فلک، زمین، اپنے پرائے، رنگ روپ اور سب سائے، درد اور گیت، مسکراہٹیں اور سنگیت جس کو تمہارے سامنے لاکھڑا کرتی ہیں یہاں تک کہ تم حیرت سے دل تھام لیتے ہو یہی تو خاموشی کا کلام ہوتا ہے کہ جب تم بولتے ہو تو سن نہیں پاتے۔ ۔ ۔

اور جب سننے لگتے ہو تو جھیل نہیں پاتے اور روتے روتے انکھیں سرخ ہوجاتی ہیں اور درد اپنا انجام کرتے ہیں اور انسان کو اس سے نکال کر زرہ بےنشان کرتے ہیں پھر ہمکلام ہستی، زات، انسان کی پہچان بننے لگتا ہے وہ خود بھی بھلا خود کہاں ریتا ہے وہ تو اس کا نام ہوجاتا ہے جس سے ہمکلامی نے اس کے وجود پہ اہنے گہرے ان مٹ نقوش چھوڑدیے تھے ۔ ۔ ۔

انسان کی یہ زات جب رب کی زات کو ہر ہر زرے ہر ہر رنگ روپ میں دیکھنے لگتی ہے تو اسکا وجود کی کائنات کئ طرح کےگلستان ہو جاتے ہیں کہیں وہ درگزر کرنے والے مہربان ہو جاتے ہیں، کہیں رحیم و رحمن ہوجاتے ہیں، کہیں پردہ پوشی کرتے ہیں سارے ہی عیبوں کی وہ اسقدر رب کے مہمان ہوجاتے ہیں رہتے ہیں سدا امتحانات کے اندر مگر عاشقی کے ایسے جوابات تحریر ہوتے ہیں کہ گویا بندہ خدا محبت کے میزبان ہو جاتے ہیں ۔ ۔ ۔

کبھی جو خود سے نکل کر خاموشی کو ہڑھو تو تم دیکھو گے کہ تمہارے عشق کے سبھی رنگ، زوق، زائقے، فرشتوں کی مانند تمہارے میزبان ہوجاتے ہیں محبتوں کے گلستان سجتے ہیں زندگیوں کو انعام ہوجاتے ہیں ۔ ۔ ۔

فائزہ عباس

SHARE

LEAVE A REPLY