کل 20 نومبر تھی “بچوں کا عالمی دن” قسم ہے کہ سارے سوشل میڈیا پہ بچوں کیلئے کوئی پوسٹ نظر آئی ہو۔ صرف ٹی وی پہ رات نو بجے کے بلیٹن میں دو جملوں کی خبر نشر کی گئی۔ جن پر ہمارے مستقبل کا دارومدار ہے ہم ان کا ہی دن بھول گئے۔ ہم یہ دن بالکل اسی طرح بھول گئے ہیں جیسے ہم اپنے بچوں کی تربیت کرنا بھول گئے ہیں۔ پچھلے بیس سال میں بہت کچھ بدلا ہے۔ ہر چیز کے معیار بدل گئے ہیں ہمارا رہن سہن، پہننا اوڑھنا، ملنا جُلنا، تعلیم کا حصول، اخلاقیات، کسی حد تک معاشرت اور بھی بہت کچھ تبدیل ہوگیا ہے۔ بات ہورہی تھی بچوں کی تربیت کی تو جناب اب کی مائیں بچوں کی وہ پرواہ نہیں کرتیں جیسے ہماری مائیں کیا کرتی تھیں۔ ماں کی گود پہلی درسگاہ ہوتی ہے اور آج کی ماں بچے کو موبائل کے حوالے کرکے اپنے آپ کو دیگر سرگرمیوں اور کاموں میں مصروف کرلیتی ہے۔ سب کچھ جانتے ہوئے کہ موبائل بچوں کیلئے نہیں بڑوں کیلئے ہے، لیکن کہہ دیا جاتا ہے بھئی بچہ موبائل پر کارٹون دیکھ رہا ہے، نظمیں یاد کررہا ہے۔ والدین کو پتا بھی نہیں چلتا کہ کب بچہ تشدد والے کارٹونز کی جانب بڑھتا ہے اور اپنے ساتھیوں پر ہاتھ چلانا شروع کردیتا ہے۔ ان بےبہرہ والدین کی آنکھیں تب بھی نہیں کھلتیں جب بچہ غیر اخلاقی مواد دیکھنے لگتا ہے۔ پھر ہم کہتے ہیں کہ موبائل سے بچے خراب ہوتے ہیں۔ موبائل چھوڑیں ہم بچے باہر گلی میں نکال دیتے ہیں کھیلنے کیلئے ایک تو ہلکی پھلکی ٹریفک چل رہی ہوتی ہے اور اس سے بچ بچ کر کھیلتے بچے گلی میں طرح طرح کی گالیاں سیکھ جاتے ہیں۔ جانے ہم کب اپنے آپ کو بدلیں گے؟؟؟ کچھ گھرانوں میں بچے کو پیار سے گالی دینے کا رواج ہے، کبھی سوچا ہے کہ اس بچے کے ذہن پر کیا اثر پڑتا ہے جب وہ اس گالی کا مطلب سمجھنے لگتا ہے۔

ہمیں ہمارے والدین نے کبھی نہیں پڑھایا نہ ہی ہم کبھی ٹیوشن جایا کرتے تھے۔ ماں صرف پڑھنے کیلئے بٹھایا کرتی تھیں اور خود بھی ساتھ بیٹھ جاتیں۔ ہم بہن بھائی یاد کیا ہوا سبق انہیں سنا دیتے اور ہماری تسلی ہوجاتی۔ اب بچے ابھی پیمپرز نہیں چھوڑتے، والدین انہیں ٹیوشن سینٹر چھوڑنے ضرور پہنچ جاتے ہیں۔ آج سے تیس سال پہلے تک مائیں زیادہ پڑھی لکھی نہیں تھیں اب تو ماشاءاللہ ہر دوسری عورت کم از کم گریجویٹ ہے لیکن بچہ ٹیچر سے یا ٹیوشن سینٹر سے ہی کیوں پڑھتا ہے؟ ہم نے اپنے بچے کو خود پڑھانے کی کوشش کیوں نہیں کی۔ بدقسمتی سے ہم نے اپنی اقدار بدل لی ہیں ہمیں یہ تو یاد ہے کہ بچے کو بڑے پرائویٹ سکول میں پڑھانا ہے، اس کے تمام لوازمات پورے کرنے ہیں لیکن بچے کی کیسی تربیت کرنی ہے، اسے کیسا بولنا سکھانا ہے، کیسے آداب سکھانے ہیں، اخلاقی معاملات کیسے ہونے چاہئیے یہ سب آج کی ماں بہت کم کررہی ہے۔ آج کے بچوں کو بچپن سے ہی ذرائع ابلاغ کے حوالے کردیا جاتا ہے بجائے اس کے کہ انہیں کتاب دوست بنایا جائے۔ اب بچوں کو تحفہ میں کہانیوں کی کتاب دی جائے تو ان کا موڈ خراب ہوجاتا ہے۔ مجھے یاد ہے کہ ہم اپنا روز کا جیب خرچ جمع کرکے کہانیوں کی کتابیں خریدا کرتے تھے۔ مال روڈ لاہور پہ واقع فیروز سنز میری پسندیدہ جگہ ہوا کرتی تھی۔ یہ دکھ آج بھی ذہن میں تازہ ہے کہ فیروز سنز کی وہ دکان آگ لگنے کے باعث ختم کردی گئی ہے۔

20 نومبر مشہور شاعر احمد ندیم قاسمی کا یومِ ولادت اور فیض احمد فیض کا یومِ وفات بھی ہے۔ ایک وقت تھا کہ ان پڑھ اور کم پڑھے لکھے شخص کو بھی ان کا نام معلوم تھا۔ اس کی وجہ یہ تھی کہ ایک ہی ٹی وی چینل تھا جو معیاری، ادبی اور کلاسک پروگرام دکھایا کرتا تھا۔ اب کی نسل نے ان کا نام بھی نہیں سنا ہوا کیونکہ لوگ کتاب دوست نہیں رہے۔ اب تو لوگ کورس کی کتابیں بھی بمشکل پڑھتے ہیں۔ اب ٹی وی پر یا تو سیاسی نٹ بازیاں دکھائی جاتی ہیں یا پھر ڈرامے۔ میں نے اپنے بچپن میں ان دونوں کی کتابیں اپنے والد اور ماموں کے پاس دیکھیں۔ اور فیض کا مشہورِ زمانہ قطعہ کون بھول سکتا ہے۔ اس وقت میں تیسری جماعت میں پڑھتی تھی جب دھوپ کنارے ڈرامے میں وہ قطعہ نیرہ نور کی آواز میں آیا کرتا تھا۔ مجھے ماموں نے بتایا کہ یہ فیض کا کلام ہے۔ ہمارے لئے تو یہ ادیب اور دانشور ہی بڑے لوگ ہوا کرتے تھے۔ دراصل اس وقت سیاستدانوں کو بڑا سمجھنے کا دور شروع نہیں ہوا تھا۔ رات ٹی وی چینلز پہ ان دونوں شاعروں پہ صرف ایک ایک جملہ کی خبر تھی۔ ہمارے میڈیا کیلئے سیاست، ملکی حالات، فیفا ورلڈ کپ اور نئی مولا جٹ فلم کی خبر ان دو عظیم شاعروں سے کہیں زیادہ اہم ہے۔

یاد رکھیں بچے وہی کریں گے جو آپ انہیں ماحول دیں گے۔ اگر آپ اپنے بچوں کی اخلاقی تربیت کرنا چاہتے ہیں تو براہِ مہربانی انہیں علم دوست / کتاب دوست بنائیے۔ ان کے اندر کتاب پڑھنے کا شوق پیدا کروائیں۔ بچوں کی تربیت ایک پورا نظام ہے خدارا اپنے بچوں کو تعلیم دلوانے سے زیادہ ان کی تربیت کیجئیے تاکہ وہ اس معاشرے کیلئے کارآمد شہری بن سکیں۔

SHARE

LEAVE A REPLY