قسط 70
حضرت ابراہیم ع نے خواب دیکھا تھا
کہ
وہ راہ خدا میں اپنے بیٹے اسماعیل ع کو ذبح کر رہے ہیں
اور اذن الہی سے
حضرت اسماعیل ع کی جگہ دنبے نے لے لی تھی
خدا پاک نے ابراہیم ع کی قربانی قبول کی اور وعدہ کیا
کہ
وہ اس موخر شدہ قربانی کا فدیہ ایک ذبح عظیم کو قرار دیگا
یہ سنت ابراہیمی کا باطنی پہلو ہے
امام حسین علیہ السلام کے 28 رجب کو مدینہ چھوڑنے سے لے کر
دو محرم کربلا آنے تک
بہت سے ایسے واقعات ملیں گے
جو کربلا کی جنگ کے ظاہری پہلو ہیں
جیسے میدان کربلا میں آمد کے بعد
پسرِ سعد سے مذاکرات بھی کرتے نظر آینگے
جن میں
کبھی پسر سعد
تذبذب کا شکار نظر آیا اور کبھی حکومت کی لالچ میں
امام حسین ع سے جنگ پر آمادہ
حُر ع کا کردار بھی اپنے اندر ایک ظاہری پہلو رکھتا ہے
اور وہ یہ
کہ
وہ مخالف لشکر کی طرف سے امام حسین ع کو کوفہ آنے سے روکنے
اور گھیر کر کربلا لے جانے کیلئے بھیجا گیا تھا
ایسے ہی ظاہری پہلووں میں
ابنِ زیاد کی کوفہ آمد کے بعد کوفہ شہر کی حالت بھی تھی
شہر بھر کی ناکہ بندی ، ہزاروں کوفیوں کی گرفتاری
جن میں امام حسین ع کے وفادار
مختار ثقفی اور سلیمان بن صرد خزاعی جیسے سردار بھی شامل تھے
یہ سب کربلا کے ظاہری پہلو نظر آتے ہیں
لیکن کربلا
اُس وعدے کی تکمیل ہے
جسے قران نے ذبحِ عظیم کہا
یعنی تاریخِ انسانی کی سب سے عظیم قربانی
امام علی رضا ع اس ذبح عظیم کی تفسیر یوں بیان فرماتے ہیں
یہ وہ ذبحِ عظیم ہے
جسے جاننے کے بعد ابراہیم ع نے بھی گریہ کیا تھا
یہ وہ واقعہ ہے
جسے یاد کرکے رسولِ کریم ص نے گریہ کیا
امام حسین ع کے بچپن میں اُن کی گردن کو بوسے دئیے
اُم المومنین اُم سلمی س کا
رسولِ کریم ص کو امام حسین ع کے بچپن میں
اُنہیں سینے سے لگا کر روتے ہوئے دیکھنا
اور پھر ایک روز
خواب میں رسولِ کریم کو
ریش مبارک اور سر پر خاک ڈالے ہوئے
یہ کہتے ہوئے سنا
کہ
آج میں نے حسین ع کو شہید ہوتے دیکھا ہے
یہ کربلا کی قربانی کے کچھ باطنی پہلو ہیں
کتنی حیرت کی بات ہے
وہ رسول کریم ص
جو اپنے جلیل القدر صحابی، عمار بن یاسر کو
اُن کی زندگی میں مطلع کردے
کہ
تمہیں باغیوں کا ایک گروہ قتل کرے گا
تو سوچیئے
کیا وہ نبی ص اپنے نواسہ ع کی
اُس قربانی کے بارے میں بار بار مطلع نہیں کرے گا
جسے ذبحِ عظیم کے نام سے یاد کیا جانا تھا؟
کس قدر سفاک اور بے رحم ہے مسلمانوں کا وہ طبقہ
جو کربلا کے چند ظاہری پہلووں کو توڑ مروڑ کر
اس کے اُس الوہی اور آسمانی پہلو کو مسخ کرنے کی کوشش کرتا ہے
ایک غیر مسلم کو یہ ادراک ہوجاتا ہے
کہ
امام حسین ع نے جو قربانی دی
یہ کوئی حادثہ نہ تھا ، یہ اقتدار کی جنگ نہ تھی
بلکہ
یہ اپنے جد، اپنے دین اور خدا کی راہ میں دی جانے والی
ایک عظیم قربانی تھی
جس میں انہوں نے اپنی اولاد تک قربان کردی
حُر بن یزید الریاحی کا امام حسین ع کو روکنا
اور ۔۔۔ کربلا تک لیکر آنا
کربلا کا ظاہری پہلو ہے
اور شب عاشور
اُسی حر بن یزید الریاحی کا روتے ہوئے
امام عالی مقام کے پاس آنا ۔۔۔ قدموں میں گر جانا اور کہنا
“میں نہیں جانتا تھا
کہ
یہ آپ کو قتل کرنا چاہتے ہیں”
کربلا کا باطنی پہلو ہے
یہ وہ باطنی پہلو تھا
جس کی طرف
امام حسین ع نے کبھی کوفہ کے راستے میں ملنے والے
زہیر ابن قین کو تنہائی میں ملاقات کرکے بلایا
اور کبھی
حر ع کے لشکر کو، اُس کے گھوڑوں سمیت پانی پلا کر بلایا
یہ کربلا کا باطنی پہلو ہی تھا
جس کی وجہ سے
امام حسین ع نے ابوالفضل العباس ع کو جنگ کی اجازت نہ دی
تاکہ ۔۔۔ آخری لمحہ تک
خیام حسینی کی حفاظت رہے
لشکر یزید کے حوصلے بلند نہ ہوں
اور لشکرحسینی کے حوصلے پست نہ ہوں
یہ کربلا کا باطنی پہلو ہی تھا
جاری ہے













