قسط 74
بارہ محرم کو اسیران کربلا کوفہ میں داخل ہوئے
لوگ ان کا تماشا دیکھنے جمع ہو گئے
خذلم بن ستیر چشم دید گواہ بتا رہا تھا
اس وقت میں نے علی بن حسین ع کو دیکھا
جس کی گردن میں طوق اور ہاتھ پس گردن بندھے ہوئے تھے
عمر سعد کے سپاہی نے
کوفہ کے کوچوں سے گزار کر
انہیں قصر عبیداللہ بن زیاد میں لائے
تاریخ بتاتی ہے
جب اسیرانِ اہل بیت
سید شہداء امام حسین
اور
دیگر تمام شہدائے کربلا کے
سروں کے ہمراہ کوفہ میں داخل ہوئے
تو
ابن زیاد نے اپنے قصرِ امارت کو نہایت اہتمام سے سجاکر
اس میں ہیبت و غرور کے ساتھ بیٹھ ہوا تھا
قصر امارت کے دروازے
عام لوگوں کے لیے کھول دئے گئے تھے
اور
جب اشرافِ کوفہ جمع ہو چکے
تو
اہل بیت مصطفی کے جملہ اسیروں بشمول خواتین کو
سیدشہداء امام حسین علیہ السلام کے سرمبارک کے ساتھ اپنے حضور طلب کیا
سرِ مبارک کے سامنے آنے پر
ابن زیاد
بار بار سر مبارک کی طرف دیکھتا
مسکراتا اور ہاتھ میں موجود چھڑی
لب و دندانِ مبارکِ امام عالی مقام علیہ السلام پر مارتا
زید بن ار قم رض
جو کہ
کبار صحابہ میں سے ہیں اس موقع پر موجود تھے ۔۔ بولے
اے ابن زیاد!
اپنی چھڑی کو لب و دندان حسین علیہ السلام سے دور رکھ
اور خبردار!
دوبارہ یہ حرکت نہ کرنا
بخدا
میں نے بارہا رسولِ خدا صلہ اللہ علیہ وآلہ وسلم کو
ان لب و دندان مبارک کا بوسہ لیتے ہوئے دیکھا ہے
ابن زیاد نے جب زید بن ارقم کی گریہ زاری دیکھی تو بولا
خدا کی قسم !
جس نے تمہاری چشم تر کو پر آب کیا ہے
اگر تم بوڑھے نہ ہوتے
اور عمر کے اس حصہ میں نہ ہوتے جس میں انسان خرافات بکنے لگتا ہے
تو میں تمہیں قتل کروا دیتا
زید بن ارقم بولے
اے ابن زیاد !
اب میں تمہیں وہ بات بتانے جا رہا ہوں
جو تمہیں پہلے سے کہیں زیادہ آزردہ و غضبناک کردے گی
میں نے دیکھا ہے
کہ
رسول خدا ص نے
جنابِ حسن علیہ السلام کو دائیں
اور جناب حسین علیہ السلام کو بائیں ران پر بٹھا یا ہوا ہے
اور اپنے دست مبارک کو
دونوں شاہ زادوں کے سر پر پھیرتے اور فرماتے تھے
اے بار خدایا!
میں ان دونوں کو
تجھے اور مومنین صالحین کو بطور امانت سونپتا ہوں
اے ابن زیاد!
بتا… تونے پیغمبر خدا ص کی امانت کے ساتھ کیا کیا؟
پھر لوگوں سے مخاطب ہوئے
اے لوگو!
اللہ تم سے راضی و خوشنود نہ ہو
کہ
تم نے فرزند فاطمہ زہرا علیہاالسلام کو قتل کیا
اور ابن مرجانہ یعنی ابن زیاد کو اپنے اوپر امیر مقرر کر لیا
جس پر
ابن زیاد کفریہ کلمات اپنی زبان بدلگام سے بکتا رہا
جس پر
عبداللہ بن عنیف اپنی جگہ سے کھڑے ہوئے اور بولے
اے دشمن خدا…!
اے عدوئے مصطفی …!
تو ہی کذاب اور دروغ گو ہے
اورتیرا وہ باپ جس نےتجھے امیر بنایا وہ بھی کذاب اور دروغ گو ہے
منبرجو سچے لوگوں کا مقام ہے
اس پر کھڑے ہو کر قبیح جھوٹ بول رہے ہو
ابن زیاد اہل بیت سے مخاطب ہوا اور بولا
” اللہ کا شکر ہے
کہ
اس نے دشمنوں کو سختی دی ، سختی دی “
حضرت ام کلثوم سلام اللہ علیہا نے جواباً فرمایا
’’اللہ کا شکر ہے
کہ
اس نے ہمیں
محمدص سے مکرم کیا اور ہمیں پاک و طاہر کیا”
اس پر ابن زیاد بولا
تم نے اللہ کی قدرت کو کیسا پایا؟
ام کلثوم گو یا ہوئیں
عنقریب(بروز حشر)
اللہ تعالی تمہیں اور ہمیں اکٹھا کرکے
ہمارے اور تمہارے درمیان انصاف فرمائے گا ”
ابن زیاد اس جوابِ باصواب سے پریشان ہو کر
علی بن حسین علیہ السلام کی جانب متوجہ ہوا اور پوچھا
یہ لڑکا کون ہے؟
اسے بتایا گیا
کہ
یہ حسین بن علی علیہ السلام کا فرزند امام سجاد ع ہے
ابن زیاد نے حکم دیا
اس لڑکے کو بھی قتل کر دیا جائے
کہ
میں اس کو دوست نہیں رکھتا
کوتوالِ شہر نے چاہا
کہ
علی ابن حسین علیہ السلام کو کھینچ کر
قصرِ امارت سے باہر لے جائے اور قتل کردے
تو
جناب زینب سلام اللہ علیہا مزاحم ہوئیں
علی بن حسین علیہ السلام کو اپنی آڑ میں لے کر ڈھال بن گئیں
اور ۔۔۔ بولیں
اگر قتل کرنا ہے تو مجھے قتل کردو!
بنو فاطمہ کا یہی ایک فرد باقی رہا ہے
جو
ہم بانوانِ اہل بیت کا محرم ہے
اگر یہ بھی قتل کر دیا گیا
تو
ہم خواتین بغیر محرم کے رہ جائیں گی
ابن زیاد پر
جناب زینب سلام اللہ علیہا کے اس کلام سے ہیبت طاری ہو گئی
اور وہ امام زین العابدین علی بن حسین علیہ السلام کے قتل سے باز آ گیا
اہل کوفہ ان کی اس حالت زار کو دیکھ کر گریہ کرنے لگے
جناب ام کلثوم ان سے خطاب فرماتے ہوئے گویا ہوئیں
اے کوفہ کے لوگو…!
اب یہ گریہ و زاری کس لیے؟
ہم پر ظلم و ستم ڈھا نے والے بے دادگر تمہی تو ہو
اس ستم ظریفی اور بے داد گری کے بعد اب روتے بھی ہو
یہ کہہ کر
آپ نے یہ اشعار پڑھے
جواب کیا ہے تمہارا اگر سوال کریں
محمدِ عربی تم سے کل بروز جزا
یہ کیا سلوک کیا اہلِ بیت سے میرے
سرائے دہر سے جونہی چلا میں ملک بقا
دکھائی تم کو جو راہِ ہدا ، جزا اس کی
یہی ہے تم نے جو میرے لیے رکھی ہے روا؟
ابن زیاد نے
اسیران کربلا کے لئے حکم دیا
کہ
انہیں قید خانہ میں رکھا جائے
اور سرِحسین کو
نیزہ پر چڑھا کر
کوفہ کے کوچہ و بازار میں خانہ بخانہ گھمایا جائے
زید بن ارقم رض کہتے ہیں
کہ
جب سرحسین ع میرے گھر کے دروازہ کے باہر سے گذرا
میں کمرے میں بیٹھا ہوا تھا
جوں ہی سر مبارک میری نگاہوں کے سامنے آیا
میں نے سنا
کہ
سرحسین سے یہ صدا آتی ہے
أَمْ حَسِبْتَ أَنَّ أَصْحَابَ الْكَهْفِ وَالرَّقِيمِ كَانُوا مِنْ آيَاتِنَا عَجَبًا
(سورہ کہف آیت نمبر 9 )
( تمہارا خیال یہ ہے
کہ
کہف و رقیم والے
ہماری نشانیوں میں سے کوئی تعجب خیز نشانی تھے)
زید بن ارقم کہتے ہیں
کہ
جب میں نے سرِ مبارک کی زبان سے
اس آیت کریمہ کی تلاوت سنی
میرے رونگٹے کھڑے ہو گئے اور بے ساختہ میری زبان سے نکلا
یا ابن رسول اللہ ص!
آپ کی حقیقت حال تو اصحاب کہف سے بھی عجیب ترہے
اسیران کربلا نے کوفے میں سات دن قید میں گزارے
انیس محرم کو
قافلہ اگلی منزل شام کے لیئے روانہ ہوا
جاری ہے













