حُسین شناسی کا سفر۔78۔ طویل عزائی نظم ، ڈاکٹر نگہت نسیم

0
616

قسط 78

یکم صفر کا دن طلوع ہو چکا تھا
قافلہ اسیران کربلا شام پہنچ چکا تھا
یزید کے حکم پر شہر کی تزئین و آرائش کی گئی تھی
یتیم بچوں اور اہل بیتِ رسول ص کی بے پردہ و مظلوم خواتین
اور
نیزوں پر بلند شہدائے کربلا کے سروں کا یہ قافلہ
شام کے جس شہر اور جس دیار سے گزرتا
یہ منظر دیکھنے والی مخلوق خدا کی گریہ زاری سے آسمان کا دل دہل جاتا
شہر میں داخل ہونے کے بعد
اسیروں کو
مسجد جامع کے دروازے کے پاس ایک چبوترے پر بٹھایا گیا
زَحر بن قَیس نے واقعہ کربلا کی جنگ کی رپورٹ بیان کی
یزید نے سارا ماجرا سننے کے بعد حکم دیا
کہ
محل کو سجایا جائے
بزرگان شام کو بلایا جائے اور اسیروں کو حاضر کیا جائے
اسیرانِ اہل بیت اور شہدائے کربلا کے سرہائے اقدس کو اس کے سامنے لایا گیا
اس نے
ایک ایک کرکے شہداء کے سروں کا ملاحظہ شروع کیا
ساتھ ساتھ ہر شہید کے بارے میں معلومات بھی حاصل کرتا جاتا
یہاں تک
کہ
شمرذی الجوشن
سید الشہداء امام عالی مقام علیہ السلام کا سراقدس
سونے کے تھال میں رکھ کر
فخرو مباہات کے ساتھ ماجرائے جنگ بیان کرنے لگا
یزید بن معاویہ
واقعات جنگ سن سن کر مسرور و شادماں ہو رہا تھا
شہداء کے سروں اور اسیرانِ اہل بیت کی کسمپرسی دیکھ کر
اس تاریک جبین شقی القلب کی پیشانی
لمعات مسرت و انبساط سے دمکنے لگی
یزید بن معاویہ اونچی آواز میں کہہ رہا تھا
اے کاش!
بدر میں قتل ہونے والے میرے آبا واجداد زندہ ہوتے
اور ان آل رسول کےنالہ و فریاد اور گریہ و زاری کو دیکھتے
وہ خوشی سے مجھے مبارکباد دیتے اور مبارک وصول کرتے
اور کہتے
اے یزید !
تمہارے ہاتھ سلامت رہیں تم نے بہت اچھا کیا
ہم نے اس قوم کے بزرگوں کو قتل کر دیا ہے
اپنے بدر میں مارے جانے والوں کا بدلہ برابر کر دیا ہے
بنی ہاشم نے حکومت کے حصول کے لیے
نبوت کا صرف ڈھونگ رچایا تھا
ورنہ
نہ کوئی وحی نازل ہوئی اور نہ ہی آسمان سے کوئی خبر آئی
میں نے خندف والا عہد نہیں کیا ہوا
کہ
جو کچھ احمد(ص) نے کیا ہے اس کا انتقام اولادِ احمد(ص) سے نہ لوں
یزید مسرت و شادمانی سے پھولے نہ سماتا تھا
خیزران کی چھڑی سے
لب ودندانِ شاہ شہیداں علیہ السلام پر ضرب لگاتے ہوئے
کہتاجاتا تھا
کہ
اے ابو عبداللہ!
مجھے یہ گمان تک نہ تھا
کہ
اس عمر میں بھی
تمہارے سر اور ڈاڑھی کے بال خضاب سے محفوظ ہونگے
جب سکینہ س اور فاطمہ س نے یہ منظر دیکھا
تو
انہوں نے اس طرح فریاد کی
کہ
یزید اور معاویہ بن ابوسفیان کی بیٹیوں نے گریہ کرنا شروع کیا
یزید نے سر امام حسین کو طشت میں رکھا اور اسے کھانے کی میز پر رکھ دیا
پھر اپنے اصحاب کے ساتھ کھانے میں مشغول ہو گیا
اس کے بعد
اسے شطرنج کی میز پر رکھ کر شطرنج کھیلنے میں مشغول ہوا
کہتے ہیں
جب وہ بازی جیت جاتا
تو ایک جام فقاع ( جَو کی شرآب) کا پیتا
اور اس کا آخری بچا ہوا پانی طشت کے پاس زمین پر گرا دیتا
یہ خبر جب بعض صحابہ کرام تک پہنچی
وہ گریہ کناں وہاں آئے اور یزید کو لعنت ملامت کیا
یزید نے
ان صحابہ کے قتل کا حکم جاری کیا
چناچہ اس روز سات صحابہ شہید کیے گئے
حضرت سمرہ بن جندب رض
اس مجلس میں موجود تھے
انہوں نے
یزید کو
سید الشہداء امام حسین علیہ السلام کے
لب و دندان مبارک پر خیزران کی چھڑی سے ضربیں لگاتے ہوئے دیکھا
تو
برداشت نہ کر سکے اور یزید سے کہا
خدا کرے
تیرے ہاتھ ٹوٹ جائیں
تو ان لب و دندان مبارک پر ضربیں لگاتا ہے
جو بوسہ گاہِ رسول خدا ص تھے
یزید ملعون غضبناک ہوا اور بولا
اے سمرہ !
اگر تمہیں رسول اللہ ص سے صحبت کا شرف حاصل نہ ہوتا
تو تم ابھی تہ تیغ کردیے جاتے
سمرہ نے جواب دیا
سبحان اللہ…!
میرے بارے میں تو تمہیں صحبتِ رسول ص کا پاس و لحاظ ہے
اور
رسول خدا ص کے جگرگوشوں اور فرزندان بتول کے ساتھ
تم نے
وہ سلوک کیا
جو کوئی کافر بھی کسی مسلمان کے ساتھ روا نہ رکھے
یہ کہہ کر سمرہ اس مجلس سے اٹھ گئے
کہتے ہیں
ایک یہودی تاجر بھی اس مجلس میں موجود تھا
اسے جب پورے ماجرے کا علم ہوا
تو
وہ حیران رہ گیا اور کف ِافسوس ملتے ہوئے کہنے لگا
اے یزید !
میرے اور حضرت داؤد پیغمبر علیہ السلام کے درمیان ستر پشتوں کا واسطہ ہے
اور ابھی تک
یہود میری انتہا درجہ تعظیم کرتے ہیں
اور میرا احترام بجا لاتے ہیں
اور
محمد عربی ص
تمہارے رسول
ابھی کل ہی تو اس جہانِ فانی سے رخصت ہوئے
اور آج تم نے
ان کی ذریت و اہل بیت کے ساتھ وہ معاملہ کیا
جوآج تک نہ کسی نے دیکھا نہ کسی نے سنا
افسوس ہے تم لوگوں پر… تم لوگ کتنے برے لوگ ہو
تاریخ لکھتی ہے
کہ
جب یزید
سید الشہدا علیہ السلام کے سر مبارک کے ساتھ
بے ادبی سے پیش آرہا تھا
اس و قت
قیصر روم کا بھیجا ہوا نمائندہ بھی وہاں موجود تھا
اس نے کہا
بعض جزائر میں
اب بھی
جناب عیسیٰ علیہ السلام کے گدھے کے سموں کے نشانات موجود ہیں
ہم لوگ
ہر سال ان کی زیارت کی غرض سے جاتے ہیں
اور جملہ مراتب تعظیم و تکریم بجالاتے ہیں
جیسا
کہ
تم لوگ
ہر سال حج بیت اللہ کے لیے جاتے ہو
اور۔۔۔ اس کی تعظیم بجا لاتے ہو
حیف ہے
کہ
تم نے اپنے نبی کی ذریت کو قتل کر ڈالا
اور آل رسول کی خواتین اور یتیم بچوں کو قیدی بنا لیا
یزید نے انگار لہجے میں جواب دیا
اگر تو قیصر کا بھیجا ہوا نہ ہوتاتو ابھی قتل کر دیا جاتا
قیصر روم کے نمائندہ نے جواب دیا
تمہیں شرم نہیں آتی
تم نے قیصرِ روم کے نمائندے کا احترام تو ملحوظ رکھا
لیکن رسول خداص اور ان کی آل اولاد کی حرمت کو پس پشت ڈال دیا
یزید بن معاویہ سے خاموشی کے سوا کوئی جواب نہ بن پڑا

جاری ہے

SHARE

LEAVE A REPLY