نظریں ریڈیو پاکستان کی زمینوں اور اثاثوں پر لگی ہوئی ہیں

0
857

کیا ایسی غنڈہ گردی میں ریڈیو پاکستان کا صدر دفتر بھی شامل ہے؟ انکے ملازمین اور افسران کی جانوں کی ضمانت کون دے گا۔ ریڈیو کی سربراہ کیا فوری اس صورت حال کا کوئی نوٹس لیں گی

پاکستان میں سرکاری ریڈیو یعنی ریڈیو پاکستان پر آسیب کا سایہ گہرا ہوتا جارہا ہے ۔ دوسرے کئی اداروں کی طرح تبدیلی کی زد میں آنے والے اس ادارے سے بھی اب روزانہ خیر کی بجائے تباہی کا اعلان ہی سننے کو ملتا ہے ۔ اب حوس و لالچ میں اندھے بابووں کی نظریں ریڈیو پاکستان کی زمینوں اور اثاثوں پر لگی ہوئی ہیں اور یہ عفریت بڑھتا ہوا آزادکشمیر ریڈیو مظفرآباد تک جا پہنچا ہے جہاں ضلعی انتظامیہ ریڈیو کی زمین پر قبضہ جمانے کی کوششوں میں مصروف ہے

۔ 1962 میں قائم ہونا والا یہ ریڈیو سٹیشن کبھی تحریک آزادی کا نقیب ہوا کرتا تھا ، یہاں سے بلند ہونے والی آواز مقبوضہ کشمیر کے لوگوں کے لیئے نعرہء آزادی اور بھارت کے لیئے خوف کی علامت تھی ۔ بھارتی پراپیگنڈے کے مقابلے میں سینہ سپر ریڈیو مظفرآباد کو پہلے 2005 میں آنے والے ہولناک زلزلے نے تباہی سے دوچار کیا ،اس کی عمارت اور رہائشی کالونی اب ایک کھنڈر میں تبدیل ہوئی پھر سرکار نے بھی اس کی بحالی اور تعمیر_نو سے آنکھیں چرا لیں ۔

یہ منظر اور صورتحال ریڈیو مظفرآباد کے ہمسائے میں آباد آزادکشمیر کے موجودہ وزیراعظم راجا فاروق حیدر کے دل میں خواھشوں کا جنگل اگانے کے لیئے کافی تھی کہ اس ساری جگہ کو اپنے ذاتی دولت خانے میں شامل کرلیں ۔ حکومت آزادکشمیر کے کارپردازوں نے سرینگر کی جانب مارچ کی بجائے ریڈیو مظفرآباد کو فتح اور اس کی زمین پر قبضے کا فیصلہ کرلیا ہے تاکہ اگلے سال ہونے والے عام انتخابات سے پہلے راجا صاحب کو اربوں روپے کی سلامی پیش کی جائے ۔

کبھی ریڈیو کالونی کی قیمتی زمین کو کار پارکنگ میں تبدیل کرنے کا اعلان کیا جاتا ہے، کبھی نئی جگہ منتقلی کی آڑ میں راجا صاحب کا صحن کھلا کرنے کی ترکیب ڈھونڈی جاتی ہے اور کبھی قبضے کے چکر میں مظفرآباد ہائی پاور ٹرانسمیٹر کی جگہ پر توڑ پھوڑ کی جاتی ہے ۔ ادھر اسلام آباد میں ریڈیو پاکستان کے کرتا دھرتا اپنی ترقیوں اور گریڈوں کے چکر میں اتنے الجھے ہوئے ہیں کہ ان کو پرواہ ہی نہیں کہ اس ادارے کے قیمتی اثاثوں کو بچایا کیسے جائے ۔

گزشتہ کچھ دنوں سے مظفرآباد کی ضلعی انتظامیہ نے پھر ریڈیو پر چڑھائی کررکھی ہے اور اس کار خیر کی سربراہی یہاں کا ڈپٹی کمشنر عبدالحمید کیانی کررہا ہے ۔موصوف اپنی چاپلوسی کی مہارت اور بدزبانی میں کوئی ثانی نہیں رکھتے، دوران ملازمت ایک استاد پر تشدد کرکے اور انہیں لہو لہان کرکے پہلے بھی دادوتحسین سمیٹ چکے ہیں ۔

اب ترقی کی اگلی منزل تک پہنچنے کے لیئے ریڈیو مظفرآباد کی زمین کو ھتھیانا عین فرض سمجھتے ہیں اور روزانہ ماتحت عملے کے جتھےقبضے کے لیئے روانہ کررہے ہیں ۔ اس کے ساتھ ساتھ دھونس دھاندلی، بدتمیزی اور بدکلامی کا اپنا جدی ہنر آزماتے ہوئے ریڈیو مظفرآباد کے عملے کو دھمکانے کی پالیسی پر بھی عمل پیرا ہیں ۔ لگتا ہے راجا فاروق حیدر نے بھی اسلاآباد میں اقتدار کی غلام گردشوں میں سرسراتی ہوئی سرگوشیاں سن لی ہیں اور کشمیر بچاو تحریک کی بجائے اپنے گھر کو وسعت سے سرفراز کرنے کا فیصلہ کرلیا ہے ۔

راجا صاحب کو پتہ ہے اسلام آباد یا دہلی سے ٹکر لینا خطرے سے خالی نہیں اس لیئے بہتر یہی ہے کہ اپنے گھر سے ملحقہ ریڈیو کی زمین پر قبضہ کرکے اپنی فتح کے جھنڈے گاڑے جائیں تاکہ ان کا نام تاریخ میں ھمیشہ قبضہ گیروں اور رسہ گیروں کی فہرست میں شامل رہے

SHARE

LEAVE A REPLY