حُسین شناسی کا سفر۔103۔ طویل عزائی نظم ، ڈاکٹر نگہت نسیم

0
571

قسط 103

اس پر سلام
جس کو خدائے بزرگ نے پاکیزہ و پاک قرار دیا
اس پر سلام
جس پر جبریل نے فخر کیا
اس پر سلام
جس کو گہوارہ میں میکائیل نے لوریاں دیں
اس پر سلام
جس کے بارے میں عہد وپیماں کو توڑ دیا گیا
اس پر سلام
جس کی حرمت کو ضائع کیا گیا
اس پر سلام
جس کا خون ظلم سے بہایا گیا
اس پر سلام
جس کو زخموں سے بہنے والے خون میں نہلادیا گیا
اس پر سلام
جس کو ہر طرف سے نیزے لگائے جاتے تھے
اس پر سلام
جس پر ہر ظلم و ستم روا رکھا گیا
اس پر سلام
جسے اتنی بڑی کائنات میں یکہ و تنہا چھوڑدیا گیا
اس پر سلام
جس کو گرد ونواح کے گاؤں والوں نے دفن کیا
اس پر سلام
جس کی شہ رگ کو بے دردی سے کاٹا گیا
اس پر سلام
جو یکہ وتنہا دشمنوں کی یلغار کو ہٹا رہا تھا
اس ریش اقدس پر سلام جو خون سے سرخ تھی
اس رخسار پر سلام جو خاک آلود تھا
اس بدن پر سلام جو غبارآلود تھا
اس لٹے اور نچے ہوئے بدن پر سلام
ان دانتوں پر سلام جن پر ظلم کی چھڑی چل رہی تھی
اس سر اقدس پر سلام جو نیزہ پر اٹھایا گیا
ان جسموں پر سلام
جو بیابان میں برہنہ پڑے تھے
جن کو ستمگارانِ امت بھیڑیوں کی طرح دوڑ دوڑ کر جھنجھوڑ رہے تھے
اور
کٹ کھنے درندے بن کر پامالی اور لوٹ کھسوٹ کے لئے منڈلا رہے تھے
میرے مولا آپ پر سلام
اور
آپ کے قبہ کے گرد جمع رہنے والے فرشتوں پر سلام
جو
آپ کی تربت کو گھیرے رہتے ہیں
آپ کے صحنِ اقدس کا طواف کرتے ہیں
آپ کی زیارت کے لئے حاضر ہوتے ہیں

جاری ہے

SHARE

LEAVE A REPLY