بھارت کی جانب سے پاکستان کی حدود میں سرجیکل اسٹرائیک کرنے کی ایک اور کوشش کے ممکنہ خطرے کے باعث پاک فوج کو ہائی الرٹ کردیا گیا۔
ڈان اخبار کی رپورٹ کے مطابق باخبر ذرائع نے بتایا کہ بھارت کی جانب سے ممکنہ خطرے کے باعث پاک فوج کو ہائی الرٹ کیا گیا۔
انہوں نے کہا کہ لداخ اور ڈوکلام میں ذلت آمیز شکست کے بعد بھارت خطے کے امن و استحکام کو خطرہ میں ڈالتے ہوئے لائن آف کنٹرول (ایل او سی) اور پلوامہ میں ورکنگ باؤنڈری کے پار ایک اور حملہ کرنے کی تیاری کررہا ہے۔
علاوہ ازیں بھارتی فورسز نے آزاد کشمیر کے مختلف علاقوں میں جنگ بندی کی خلاف ورزی کرتے ہوئے بلااشتعال فائرنگ کی جس کے نتیجے میں پاک فوج کے 2 جوان شہید جبکہ ایک شہری خاتون زخمی ہوگئیں۔
آئی ایس پی آر کی جانب سے بذریعہ ٹوئٹ بتایا گیا کہ شہید ہونے والوں کی شناخت 38 سالا لانس نائیک طارق اور 31 سالہ سپاہی ظروف کے نام سے ہوئی جبکہ پاکستانی فورسز نے بھی جنگ بندی کی خلاف ورزی کا بھرپور جواب دیا۔
ادھر ایک پولیس عہدیدار نے ڈان کو بتایا کہ تائی گاؤں میں نسیم فاطمہ زخمی ہوئیں۔
عہدیدار کا کہنا تھا کہ بھارت کسانوں کا جاری احتجاج، اقلیتوں کے ساتھ اس کا برتاؤ، مقبوضہ کشمیر میں ڈھائے جانے والے مظالم اور بین الاقوامی اداروں اور میڈیا کی جانب سے اس کی پالیسیز پر تنقید سمیت مختلف اندرونی معاملات سے دنیا کی توجہ ہٹانے کے لیے ایک ’فالس فلیگ آپریشن‘ کی منصوبہ بندی کر رہا ہے۔
انہوں نے کہا کہ ’بھارت اندرونی مسائل سے توجہ ہٹانے کے لیے کسی بھی وقت پلوامہ کی طرح کا ڈرامہ دہرا سکتا ہے اور وہ ایل او سی اور ورکنگ باؤنڈری کے ساتھ کوئی کارروائی کی منصوبہ بندی کر رہا ہے‘۔
واضح رہے کہ سال 2016 میں بھارت نے ایل او سی پر ایک سرجیکل اسٹرائیک کا دعویٰ کیا تھا جسے پاکستان نے مسترد کردیا تھا، اسی طرح گزشتہ برس 26 فروری کو بھارت نے پاکستان کے خلاف اسی طرح کا ایک آپریشن کرنے کی کوشش کی تھی لیکن ناکام ہوا تھا اور پاک فضائیہ نے بھارت کے 2 طیارے مار گرائے تھے اور ان کے پائلٹ ونگ کمانڈر ابھی نندن کو گرفتار کیا تھا، جسے بعد ازا رہا کردیا گیا تھا۔
ذرائع کا کہنا تھا کہ بھارت نے 2014 سے 2019 کے دوران 9 ہزار 215 مرتبہ جنگ بندی کی خلاف ورزی کی جس کے نتیجے میں ایک ہزار 403 اموات ہوئیں، یہی نہیں بلکہ اب تک بھارت 2 ہزار 830 جنگ بندی کی خلاف ورزی کرچکا ہے جس میں صرف شہری اموات 271 تک ہیں۔
پاک فوج کو ہائی الرٹ کرنے کا فیصلہ بھارتی حکومت کی جانب سے اس منصوبے کے تحت جو 2017 میں چین کے ساتھ ڈوکلام بحران کے دوران تصور کیا گیا تھا کے تحت آرمی ہیڈکوارٹرز میں ڈپٹی چیف آف اسٹریٹجی کے نئے عہدے کی بنائے جانے کی منظوری کے بعد کیا گیا۔
اس کے علاوہ ذرائع ابلاغ کے امور سے نمٹنے کے لیے ڈائریکٹر جنرل انفارمیشن وارفیئر کا عہدہ بنایا گیا ہے۔












