سانحہ 9 مئی: تحقیقات کو اوورسیز پاکستانیوں تک بڑھانے کا مستحسن فیصلہ ،ڈاکٹر نگہت نسیم

0
1334

نو مئی کے دلسوز واقعات کے بعد حکومت اور فوج نے جو فیصلہ کن اقدامات کیئے ہیں ان سب پر ہر صورت میں عملدرآمد لازمی ہے صرف اس شرط کے ساتھ کہ اس عمل میں کسی بے گناہ کو سزا نہ ملے اور تعلقات والا بچ نہ جائے۔ اسکے ساتھ فوج جو بار بار یہ کہہ رہی ہے کہ انکے پاس ناقابل تردید شواہد ہیں تو ان شواہد کو بھی کسی مناسب وقت پر ملک کے عوام کے سامنے رکھا جائے کہ انکو اس امر کا یقین ہو جائے کہ ریاست پاکستان کی رٹ کو چیلنج کرنے والوں کے عزائم کس حد تک خطرناک تھے۔

اب تازہ ترین خبر جو سامنے آئی ہے پہلے اس خبر کو پڑھ لیجئے
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
سانحہ 9 مئی: تحقیقات کو اوورسیز پاکستانیوں تک بڑھانے کا فیصلہ

ذرائع کے مطابق ریاست مخالف سرگرمیوں میں ملوث 500 سے زائد اوور سیز پاکستانیوں کی شناخت کرلی گئی ہے۔

ذرائع کے مطابق اوورسیز پاکستانیوں کی کال ریکارڈ، سوشل میڈیا سرگرمی، ٹریول ہسٹری، مالیاتی لین دین، امیگریشن اسٹیٹس اور دیگر متعلقہ ڈیٹا کا تجزیہ کیا گیا ہے۔

ذرائع کا یہ بھی کہنا ہے کہ مجرمان کی حوالگی کیلئے رابطہ کیا جائے گا اور ان کے خلاف فوجداری کارروائی کی جائے گی
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
میں بیرون ملک سڈنی میں مقیم ایک پاکستانی کے طور پر اس فیصلے کی حمایت کرتی ہوں اور سمجھتی ہوں کہ ان پاکستانیوں نے دوسرے ملکوں میں پاکستان کو بے حد بدنام کیا ہے اور ہم جیسے لوگوں کو باہر کے ملکوں میں دوسرے لوگوں کو کیسے کیسے سوالات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔

شر پسند اور ملک دشمن کا نہ کوئی دین، نہ رنگ و نسل اور نہ کوئی جنس ہوتی ہے وہ صرف ملک دشمن ہوتے ہیں ایسے میں یہ کہنا کہ خواتین کو معاف کیا جائے عدل اور انصاف کی بات نہیں، عدل جنس دیکھ کر نہیں کیا جاتا۔ جرم عورت کرے یا مرد اسکی ایک ہی سزا ہے

پاکستان کو بیرون ملک سب سے زیادہ بدنام کرنے والے لوگ برطانیہ اور آسٹریلیا میں نظر آئے ہیں اور ان میں خواتین کی بہت بڑی تعداد ہے جو انتہائی غلیظ زبان استعمال کرتی ہیں، اداروں کو ان خواتین کو کیفر کردار تک پہنچانا چاہیئے، یہ بات میں ایک خاتون ہونے کے ناطے کہہ رہی ہوں اور میرے احباب جانتے ہیں کہ میرا کسی سیاسی جماعت سے کوئی تعلق نہیں

لندن میں نواز شریف کے گھر کے باہر بھی مستقل کئی مہینے سے مظاہرے کرنے والے اور گالم گلوچ کرنے والے لوگوں میں خواتین کی بہت بڑی تعداد ہے اور جدید ٹیکنالوجی کے ذریعے ان کی گرفت کرنا قطعی مشکل نہیں۔ وہ لوگ جنہوں نے یورپی ملکوں میں پاکستان کے پاسپورٹ جلائے، پرچم کو آگ لگائی ان کو ایسی سزا دینے کی ضرورت ہے جو مثالی ہو

کاش کوئی ایسا قانون بن سکے کہ کوئی بھی پاکستان کی سیاسی جماعت بیرون ملک اپنی جماعت کا دفتر قائم نہ کر سکے

لندن کی ایک تحریک انصاف کی خاتون سوشل میڈیا پر جس قسم کی بازاری اور غلیظ زبان استعمال کرتی ہے اسکو قرار واقعی سزا ملنی چاہیئے اسی طرح سڈنی کی ایک بزعم خوش دانشور خاتون بھی سوشل میڈیا پر پاکستان کو فوج کو اور حکومت کو بدنام کرنے کی مسلسل کوشش کرتی رہتی ہے، ضروری ہے کہ ایسے لوگوں کو مثالی سزائیں دی جائیں اور یہ کام شاید ملک کی عدلیہ کرنے کے قابل نہیں اور یہ کام فوج کو ہی کرنا پڑے گا

ڈاکٹر نگہت نسیم۔سڈنی

SHARE

LEAVE A REPLY