برطانیہ کی عدالت میں عادل راجہ کو قانونی محاذ پر ناکامی کا سامنا کرنا پڑا جہاں اُن کی اپیل مسترد کر دی گئی۔

عدالتی فیصلے کے مطابق عادل راجہ کی جانب سے عائد کردہ الزامات کو بدنیتی پر مبنی اور بے بنیاد قرار دیا گیا جب کہ مظلومیت اور سیاسی انتقام کا مؤقف بھی عدالتی جانچ میں برقرار نہ رہ سکا۔

برطانوی عدالت نے اپیل مسترد کرتے ہوئے قرار دیا کہ پیش کردہ مؤقف میں کامیابی کا کوئی امکان نہیں، عدالتی کارروائی کے دوران جج کی جانب سے ثبوت طلب کیے جانے پر متعلقہ نکات ثابت نہ ہو سکے، فیصلے میں کہا گیا کہ الزامات کے حق میں ٹھوس شواہد پیش نہیں کیے گئے۔

عدالت کے فیصلے کے تحت عادل راجہ پر 3 لاکھ 50 ہزار پاؤنڈ، جو پاکستانی کرنسی میں تقریباً 12 کروڑ روپے بنتے ہیں، کا جرمانہ عائد کیا گیا، عدالتی فیصلے کے بعد اپیل کے امکانات بھی محدود قرار دیے جا رہے ہیں اور قانونی راستے تقریباً بند ہو چکے ہیں

,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,

انسداد دہشت گردی عدالت نے ریاستی اداروں کے خلاف ڈیجیٹل دہشت گردی کے کیس میں عادل راجہ و دیگر ملزمان کو دو، دو بار عمر قید کی سزا سنا دی۔

انسداددہشت گردی عدالت اسلام آباد میں 9 مئی کو ریاستی اداروں کے خلاف ڈیجیٹل دہشت گردی کے کیس کی سماعت ہوئی، جس میں اے ٹی سی جج طاہر عباس سپرا نے کچھ دیر قبل ہی ٹرائل مکمل ہونے پر محفوظ کیا گیا فیصلہ سنا دیا۔

عدالت نے عادل راجہ، حیدر مہدی اور وجاہت سعید کو 2، 2 بار عمر قید کی سزا سنا دی جبکہ صابر شاکر، معید پیرزادہ کو بھی 2،2 بار عمر قید کی سزا سنائی گئی ہے، عدالت نے ملزمان کو دیگر دفعات میں بھی مجموعی طور پر 35 سال قید کی سزائیں سنائیں، ملزمان کو مجموعی طور پر 15 لاکھ روپے جرمانے کی سزا بھی سنائی گئی۔

دوران سماعت پراسیکیوشن کی جانب سے مجموعی طور پر 24 گواہان کو عدالت میں پیش کیا گیا، جہاں عدالت نے پراسیکیوشن کی استدعا پر ملزمان کی غیر موجودگی میں ٹرائل مکمل کیا، پراسیکیوشن کی جانب سے راجہ نوید حسین کیانی عدالت میں پیش ہوئے۔

عدالت نے تھانہ آبپارہ کے مقدمے میں صابر شاکر، معید پیرزادہ اور سید اکبر حسین کو عمر قید کی سزا سنائی، تھانہ رمنا کے مقدمے میں شاہین صہبائی، حیدر مہدی اور وجاہت سعید کو سزا سنائی گئی۔

سماعت کے دوران عدالت میں ملزمان کی جانب سے گلفام اشرف گورائیہ ایڈووکیٹ عدالت میں پیش ہوئے، گلفام گورائیہ ایڈووکیٹ کو عدالت کی جانب سے ملزمان کا وکیل مقرر کیا گیا تھا۔

واضح رہے کہ انسداد دہشت گردی قوانین کے مطابق ملزمان کی عدم موجودگی میں ٹرائل کیا جاسکتا ہے۔

SHARE

LEAVE A REPLY